فصلٌ: الحكم يتعلق بسببه، ويثبت بعلته، ويوجد عند شرطه. فالسبب ما يكون طريقاً إلى الشيء بواسطة كالطريق؛ فإنه سبب للوصول إلى المقصد بواسطة المشي، والحبل سبب للوصول إلى الماء بالإدلاء. على هذا كل ما كان طريقاً إلى الحكم بواسطة يسمى سبباً له شرعاً، وتسمى الواسطة علة. أدلة أربعة کی بحث ختم ہوئی بھئی۔ کتاب اللہ کی بحث بھی ختم ہوئی، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بحث بھی ختم ہوئی، اجماع کی بحث اور اسی طرح قياس کی بحث بھی ختم ہوئی بھئی۔ ان کی بحث ختم ہوئی۔ اب وہ احکام جن سے ثابت ہوتے ہیں ان سے متعلق کچھ قیمتی بحثیں وغیرہ مصنف آپ کو بتلائیں گے بھئی۔ تو آج کی بحث میں سبب، علت وغیرہ کے بارے میں ہم بحث کریں گے بھئی۔ اس میں حاشیہ نمبر ایک دیکھ لیں بھئی، اس میں بڑی قیمتی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ قوله: الحكم - إلى آخره. یہ "آہ" جو لکھا ہوتا ہے اس کا معنیٰ کیا ہے؟ "إلى آخره". لما تم البحث من دلائل الشرع - جب پوری ہو گئی بحث دلائل شرع میں سے، اور دلائل شرع کیا ہیں؟ کہتے ہیں: وهو الأصول الأربعة - وہ اصول اربعہ ہیں بھئی: کتاب اللہ، سنت رسول، اجماع اور قياس۔ فاعلم - پس تو جان لے، أن ما ثبت بهذه الدلائل من الأحكام يتعلق بأسبابها وشروطها وعللها - کہ وہ جو ثابت ہوتے ہیں ان دلائل سے (من بیان ہے ما کا) یعنی احکام، تو یعنی وہ احکام جو ان دلائل سے ثابت ہوتے ہیں يتعلق بأسبابها - ان کا تعلق ہوتا ہے اپنے اسباب کے ساتھ، وشروطها - اپنی شرطوں کے ساتھ، وعللها - اور اپنی علتوں کے ساتھ۔ فلا بد من بيانها - پس ضروری ہے ان کا بیان کرنا، وهذا الفصل لبيان ذلك - اور یہ فصل اس کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ اس فصل میں ان کو کیا کیا جائے گا؟ بیان کیا جائے گا۔ فإن الحكم يتعلق بسببه - اس لیے کہ حکم کا تعلق اپنے سبب سے ہوتا ہے، لأنه يفضي إليه - اس لیے کہ وہ سبب اس کو اس حکم تک پہنچانے والا ہے، ويتوصل به إلى الحكم - اور اس لیے کہ وہ پہنچا جاتا ہے اس سبب کے ذریعے حکم تک، ويثبت الحكم بعلته - اور حکم ثابت ہوتا ہے اپنی علت سے، لأنها مؤثرة في الحكم - اس لیے کہ وہ حکم میں مؤثر ہوتی ہے بھئی، والحكم يوجد عند وجود الشرط - اور حکم پایا جاتا ہے شرط کے پائے جانے کے وقت۔ فالسبب ما يكون طريقاً ووسيلة إلى السبب - پس سبب وہ ہے جو ذریعہ ہو اور وسیلہ ہو إلى المسبب - مسبب تک، والحكم - اور حکم تک پہنچنے کا ذریعہ اور وسیلہ ہوتا ہے سبب بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو سبب وہ ہے جو ذریعہ ہو اور وسیلہ ہو مسبب اور حکم تک پہنچنے کا بواسطةٍ - کسی واسطے کے ذریعے بين الحكم والسبب - حکم اور سبب کے درمیان، كالطريق - جیسے راستہ ہے۔ فإنه معناه اللغوي الطريق - اس لیے کہ اس کا معنی لغوی جو ہے وہ راستہ ہے، واستعمل في الشرع بمعني الطريق أيضاً - اور شریعت میں بھی کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ راستے کے معنی میں۔ یہاں تک بحث سمجھ میں آئی بھئی؟ کہتے ہیں کہ وہ احکام جو ان دلائل اربعہ سے ثابت ہوتے ہیں، ان کا تعلق اپنے اسباب سے ہوتا ہے، اپنی علتوں سے ہوتا ہے اور اپنی شرائط کے ساتھ ان کا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے کہ حکم کا تعلق سبب سے ہوتا ہے، سبب اس حکم تک پہنچانے والا ہے۔ پہنچانے والا ہے، البتہ مؤثر نہیں ہے بھئی، اس کے اندر مؤثر بالذات اس کے اندر مؤثر نہیں ہے۔ اور علت کی وجہ سے حکم پایا جاتا ہے، یعنی علت کی ذات ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ تقاضا کرتی ہے کہ اس حکم کو پایا جانا چاہیے۔ تو جب علت پائی جائے گی، ساتھ ہی کیا پایا جائے گا؟ حکم بھی پایا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو علت ہو، پائی جائے، تو معلول کا پایا جانا ضروری بھئی۔ علت کی ذات ہی تقاضا کرتی ہے کس چیز کا؟ اپنے پائے جانے کے وقت یہ تقاضا کرتی ہے کہ معلول بھی پایا جائے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جیسے سورج کا نکلنا دن کے ہونے کے لیے علت ہے، تو سورج جب بھی نکلے گا، کیا ہوگا؟ دن ہوگا، تو اس کی ذات ہی تقاضا کرتی ہے کہ ابھی کیا ہو؟ دن ہو۔ جبکہ مسبب میں ایسا نہیں کہ سبب پایا جائے تو مسبب بھی ضرور پایا جائے۔ ہاں، سبب کا تعلق ہوتا ہے مسبب سے، وہ مسبب تک پہنچاتا ہے، لیکن درمیان میں کیا آ جاتا ہے؟ واسطہ، کبھی ایک واسطہ، کبھی زیادہ واسطے درمیان میں آ جاتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو سبب کے پائے جانے کے وقت مسبب کا پایا جانا ضروری نہیں بھئی۔ اور شرط جو ہے، شرط پر حکم کا دارومدار ہوتا ہے اور حکم موقوف ہوتا ہے۔ شرط پائی جائے گی تو حکم پایا جائے گا، شرط نہیں تو حکم بھی جیسے وضو نماز کے لیے شرط ہے، وضو ہے تو نماز ہے، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اسی طرح ذرا حاشیہ نمبر تین بھی تھوڑا سا دیکھیں بھئی۔ قوله: إلى الشيء - إلى آخره. والحاصل - حاصل یہ کہ أن ما فيه إفضاءٌ - جس کے اندر پہنچانا ہو، لا اقتضاءٌ - اقتضا نہ ہو، هو السبب - وہ کیا ہے؟ سبب۔ سبب پہنچاتا ہے، اس میں تقاضا نہیں ہوتا کہ سبب جیسے ہی پایا جائے، مسبب بھی، حکم بھی کیا ہو؟ پایا جائے۔ وما فيه اقتضاءٌ للحكم أيضاً بذاته - اور جس کے اندر اقتضا ہو حکم کی بھی بذاتہ اپنے ذات کے اعتبار سے، أي ما يقتضيه بطبعه - یعنی وہ چیز جو اپنی طبیعت کے اعتبار سے تقاضا کرتی ہے حکم کا، هو العلة - وہ کیا ہے؟ علت۔ کہ وہ جب بھی پائی جائے، وہ تقاضا کرتی ہے کہ اب کیا پایا جانا چاہیے؟ حکم، تو حکم بھی اس کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ وما ليس فيه إفضاءٌ ولا اقتضاءٌ - اور وہ چیز جس کے اندر نہ پہنچانا ہو اور نہ اس میں تقاضا ہو حکم کا، بل لوجوده دخلٌ في تحقق الحكم - بلکہ اس کے وجود کا دخل ہوتا ہے حکم کے ہونے میں بھئی، کس چیز میں؟ حکم کے ہونے میں جس چیز کا دخل ہے، بأن هو منوطٌ به وموقوفٌ عليه - اس صورت کہ وہ اس پر حکم کا مدار ہے اور موقوف ہے، هو الشرط - وہ کیا ہے؟ شرط ہے۔ تو شرط حکم تک پہنچانے والی بھی نہیں، اس کا تقاضا بھی نہیں کرنے والی، لیکن اس کا دخل ہے حکم کے ہونے میں کہ یہ حکم پر، حکم کا اس پر مدار ہے اور حکم اس پر کیا ہے؟ موقوف ہے۔ یہ ہوگی تو حکم ہوگا، یہ نہیں ہے تو حکم بھی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وهو الشرط - یہ شرط ہے۔ وما ليس له دخلٌ أيضاً - یہاں ایک چوتھی چیز بھی ہے بھئی: بل مجرد تعريفٍ وكشفٍ - اور وہ جس کا دخل نہ ہو، بلکہ وہ محض تعریف اور کشف کا فائدہ دے، محض تعریف اور کشف ہو، هو العلامة والأمارة - اسے کیا کہتے ہیں؟ علامت اور امارت بھئی، اسے کہتے ہیں بھئی۔ علامت، علامت، یہ چوتھی چیز ہے یہاں جو ذکر کر دی انہوں نے بھئی۔ علامت کہتے ہیں جس کا کوئی حکم کے ہونے میں کوئی دخل نہیں ہے، لیکن اس کے ذریعے حکم کی پہچان ہوتی ہے، حکم ظاہر ہوتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ علامت کے ذریعے کیا ہوتی ہے بھئی؟ حکم کی پہچان ہوگی، اسی لیے تو اس کا نام علامت رکھا، حکم تو ظاہر ہوگا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اب دیکھیے بھئی، بحث کتاب میں دیکھیے۔ پتہ چل گیا سبب کا، علت کا اور شرط کا؟ سبب وہ کیا ہے؟ جو حکم تک پہنچانے والا ہے، البتہ بالذات حکم کے اندر مؤثر نہیں کہ یہ جب بھی پایا جائے، حکم بھی پایا جائے۔ اور علت کیا ہے؟ وہ بالذات مؤثر ہوتی ہے حکم میں، اس کی ذات ہی کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ اس کی طبیعت ہی کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ حکم کے پائے جانے کا، وہ جب بھی پائی جائے گی، حکم بھی پایا جائے گا۔ اور شرط جو ہوتا ہے اس پر حکم موقوف ہوتا ہے، اس پر حکم کا مدار ہوتا ہے۔ اور علامت، اس کے ذریعے حکم کی پہچان ہوتی ہے۔ فصلٌ: الحكم يتعلق بسببه - حکم کا تعلق ہوتا ہے اپنے سبب کے ساتھ، ويثبت بعلته - اور حکم ثابت ہوتا ہے اپنی علت کے ساتھ، ويثبت بعلته ويوخد عند شرطه - اور حکم پایا جاتا ہے اپنی شرط کے وقت، یعنی جب شرط پائی جائے گی۔ فالسبب ما يكون طريقاً إلى الشيء بواسطةٍ - پس سبب وہ چیز ہے جو ذریعہ ہو پہنچنے کا ذریعہ، پہنچنے کا ذریعہ ما يكون طريقاً إلى الشيء - جو پہنچنے کا ذریعہ ہو کسی چیز تک بواسطةٍ - کسی واسطے سے، كالطريق - جیسے راستہ ہے مولانا، جیسے کیا ہے؟ راستہ ہے، فإنه سببٌ للوصول إلى المقصد بواسطة المشي - اس لیے کہ یہ سبب ہے مقصد تک پہنچنے کا چلنے کے واسطے سے۔ پتہ چلا بھئی، راستہ ہے سبب اور اس پر چلنا ہے علت، مقصد تک پہنچنے کے لیے۔ راستہ کیا ہے؟ سبب، اور علت کیا ہے؟ اس پر چلنا، اس پر چلیں گے تو کہاں تک پہنچ جائیں گے؟ منزل تک پہنچ جائیں گے۔ تو منزل تک پہنچنا یہ ہوا حکم، اور راستے پر چلنا یہ کیا ہوا؟ علت، اور یہ راستہ کیا ہوا؟ سبب۔ تو راستے نے منزل تک پہنچایا کس واسطے کے ذریعے؟ چلنے کے واسطے سے۔ سمجھ میں آیا؟ تو درمیان میں یہ واسطہ آتا ہے بھئی، سبب اور حکم کے درمیان کیا آتا ہے؟ یہاں پر چلنے، یہاں پر راستے اور منزل تک پہنچنے کے درمیان کیا واسطہ ہے؟ چلنا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو راستہ ہوا سبب، چلنا ہوا علت، اور منزل تک پہنچنا حکم۔ فإنه سببٌ للوصول إلى المقصد بواسطة المشي - اس لیے کہ یہ جو راستہ ہے یہ سبب ہے مقصد تک پہنچنے کا چلنے کے واسطے سے، والحبل سببٌ للوصول إلى الماء بالإدلاء - اور رسی سبب ہے پانی تک پہنچنے کا، أدلى يدلي إدلاءً کا معنی ہوتا ہے پانی نکالنے کے لیے ڈول لٹکانا بھئی کنویں میں، کنویں میں ڈول ڈالنا بھئی رسی کے ذریعے، ڈول لٹکاتے ہیں اور پھر پانی نکالتے ہیں۔ یہ جو رسی کے ذریعے ڈول کو لٹکایا جاتا ہے کنویں میں، اس کو إدلاء کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تو کہتے ہیں: رسی سبب ہے پانی تک پہنچنے کا ڈول لٹکانے کے ساتھ۔ تو دیکھو بھئی، پانی تک پہنچنا یہ کیا ہوا؟ حکم، اور یہ ڈول کا لٹکانا یہ کیا ہوا؟ علت، اور یہ رسی کیا ہوئی؟ سبب۔ تو رسی ہے سبب اور ڈول کا لٹکانا اس کے ذریعے یہ کیا ہوا؟ علت، اور پانی تک پہنچنا یہ کیا ہوا؟ حکم ہوا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو رسی سبب ہے، اس نے کہاں تک پہنچایا بھئی؟ پانی تک پہنچایا، کس کے واسطے سے؟ ڈول لٹکانے کے واسطے سے، کس کے واسطے سے؟ تو وہ علت ہوئی بھئی، ڈول کا لٹکانا علت ہوئی۔ فعلى هذا كل ما كان طريقاً إلى الحكم بواسطةٍ يسمى سبباً له شرعاً - پس بناء پر اس کے، بھئی یہ جو ہم نے ذکر کر دیا، ہر وہ چیز جو پہنچانے کا ذریعہ ہو حکم تک کسی واسطے سے يسمى سبباً له - یہ اس کے لیے کیا کہلاتی ہے؟ سبب کہلاتی ہے شرعاً - شرعی اعتبار سے، شرعاً یہ اس کے لیے کیا کہلاتی ہے؟ سبب، وتسمى الواسطة علةً - اور وہ جو درمیان میں واسطہ ہوتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ علت، اور واسطہ علت کہلاتا ہے۔ مثاله - مثال اس کی: فتح باب الإصطبل - اصطبل بالکسر الهمزه پڑھیں، فتح باب الإصطبل والقفص وحل قيد العبد. اس کی مثال، سبب کی مثال ہے جیسے اصطبل کا دروازہ کھولنا، اصطبل کا... اسی طرح فتح باب القفص - قفص کا عطف اصطبل پر ہے، قفص پنجرے کا دروازہ، قید خانے یعنی پنجرہ مراد، پنجرے کا دروازہ کھولنا، وحل قيد العبد - قید، بیڑی بھئی، زنجیر، غلام کی بیڑی کھولنا، غلام کی زنجیر کھولنا۔ دیکھیے بھئی، ایک شخص نے اصطبل کا دروازہ کھولا بھئی، اس دروازہ کھولنے کی وجہ سے جانور اس سے بھاگا اور گم ہو گیا۔ گھوڑے وغیرہ اس سے بھاگے اور گم ہو گئے، اصطبل جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ جس میں گھوڑے وغیرہ باندھے جاتے ہیں بھئی۔ تو اصطبل سے گھوڑے بھاگ گئے، گم ہو گئے، یا ایک شخص نے پنجرے کا دروازہ کھولا تو اس سے پرندہ اڑا اور گم ہو گیا بھئی، چلا گیا۔ یا ایک غلام کسی نے باندھا ہوا تھا، اس کسی نے آکر اس کی زنجیر کھول دی بھئی، غلام بھاگ گیا، غائب ہوا بھئی۔ تو دیکھو ان تینوں صورتوں میں یہ چیزیں تلف ہوئیں، وہ جانور تلف ہوا، ضائع ہو گیا بھئی، اسی طرح وہ پرندہ تلف ہوا، ضائع ہو گیا بھئی، اور اسی طرح وہ غلام تلف ہوا، غائب ہو گیا۔ تو یہ حکم ہے بھئی، جانور کا بھاگ جانا، گم ہو جانا، پرندے کا اسی طرح گم ہو جانا، غائب ہو جانا، غلام کا غائب ہو جانا، یہ سب ہیں حکم، یہ سب کیا ہیں؟ اور یہ جو اصطبل کا دروازہ کھولا، پنجرے کا دروازہ کھولا، اور غلام کی بیڑی کھولی، یہ کیا ہیں؟ یہ سبب ہیں، یہ کیا ہیں؟ سبب ہیں۔ اور سبب حکم تک پہنچاتا ہے کسی واسطے سے، درمیان میں واسطہ کیا ہے بھئی؟ اس جانور کا بھاگنا، وہ بھاگے گا تو گم ہوگا بھئی۔ اس نے اصطبل کا دروازہ کھولا، دروازہ کھولنے کی وجہ سے جانور بھاگا، اور بھاگنے کی وجہ سے وہ کیا ہوا؟ گم ہوا، تو دیکھو اصطبل کے دروازہ کھولنے نے پہنچا دیا جانور کے تلف کرنے تک کس واسطے کے ذریعے؟ جانور کے بھاگنے کے واسطے سے۔ اسی طرح پنجرے کا دروازہ کھولنا اس نے پرندے کے گم ہونے تک پہنچا دیا، کس واسطے سے؟ پرندے کے اڑنے کے واسطے سے۔ اور اسی طرح غلام کی بیڑی اور زنجیر کھولنا، اس نے غلام کے تلف ہو جانے تک پہنچا دیا کس ذریعے سے؟ غلام کے بھاگ جانے، تو دیکھو سب کے اندر یہ سبب ہیں اور درمیان میں حکم سے پہلے کیا آ رہا ہے؟ درمیان میں واسطہ۔ تو لہٰذا اصطبل کا دروازہ کھولنا یہ ہوا سبب اور گھوڑے کا بھاگ جانا یہ ہے علت اور پھر اس کا ضائع ہو جانا، گم ہو جانا حکم ہے۔ اسی طرح پنجرے کا دروازہ کھولنا سبب، پرندے کا اڑنا علت اور اس کا گم ہو جانا حکم ہے۔ اور اسی طرح غلام کی بیڑی کھولنا سبب، اس کا بھاگنا علت اور پھر غائب ہو جانا، گم ہو جانا یہ کیا ہے؟ حکم ہے۔ مثاله: فتح باب الإصطبل والقفص وحل قيد العبد - اس کی مثال اصطبل کا دروازہ کھولنا ہے اور پنجرے کا دروازہ کھولنا ہے وحل قيد العبد اور غلام کی بیڑی کھولنا ہے۔ فإنه سببٌ للتلف - اس لیے کہ یہ سبب ہیں ان میں سے ہر ایک سبب ہے للتلف - کس کے لیے؟ تلف کرنے کے لیے بواسطةٍ - بواسطةٍ کسی واسطے سے تؤجد من الدابة والطير والعبد - جو پایا گیا ہے کس کی جانب سے؟ دابہ اس جانور کی طرف سے والطیر اور پرندے کی طرف سے اور عبد غلام کی طرف سے۔ وہ بھاگنا، اڑنا وغیرہ کن کی طرف سے پایا گیا ہے؟ وہ ان کی طرف سے پایا گیا، وہ علت ہے بھئی۔ والسبب مع العلة إذا اجتمعا - یہاں سے اب آپ کو ضابطہ بتلا رہے ہیں۔ یاد رکھو بھئی، جب بھی سبب اور علت جمع ہو جائیں، حکم کی اضافت علت کی طرف کی جائے گی، سبب کی طرف نہیں کی جائے گی۔ کیا ضابطہ بتلایا؟ جب بھی سبب اور علت جمع ہو جائیں، تو حکم کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ علت کی طرف کی جائے گی، کیونکہ علت بالذات کیا ہوتی ہے؟ مؤثر ہوتی ہے حکم میں، جبکہ واسطہ... جبکہ سبب تو کیا ہوتا ہے؟ صرف واسطہ پہنچا... نہیں، سبب تو صرف پہنچانے والا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حکم کی نسبت علت کی طرف کی جائے گی۔ سبب کا اتنا تعلق نہیں ہے، جتنا گہرا تعلق کس کا ہے؟ علت۔ علت تو بالذات مؤثر ہے، اور سبب تو بالذات مؤثر اس میں نہیں۔ تو جب بھی سبب اور علت جمع ہو جائیں، حکم کی نسبت علت کی طرف کی جائے گی۔ ہاں، اگر علت کی طرف حکم کی نسبت کرنا متعذر ہو جائے، ممکن ہی نہ رہے، تو پھر کس کی جانب نسبت کی جائے گی؟ سبب کی طرف۔ کیا ضابطہ بتلایا بھئی؟ سبب اور علت جمع ہو جائیں، تو کس کی طرف نسبت کریں گے؟ علت کی طرف نسبت کریں گے، لیکن اگر علت کی طرف نسبت کرنا متعذر ہو جائے، ممکن نہ رہے، پھر کس کی طرف کریں گے؟ سبب کی طرف۔ تو کہتے ہیں: والسبب مع العلة إذا اجتمعا يضاف الحكم إلى العلة دون السبب إلا إذا تعذرت الإضافة إلى العلة - سبب علت کے ساتھ جب یہ دونوں جمع ہو جائیں، تو حکم کی علت کی... حکم کی نسبت کی جائے گی علت کی طرف، نہ کہ سبب کی طرف، مگر جس وقت متعذر ہو جائے نسبت کرنا علت کی طرف۔ فيضاف إلى السبب حينئذٍ - پھر نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ سبب کی طرف اس وقت۔ وعلى هذا قال أصحابنا - اسی بناء پر ہمارے فقہائے کرام رحمہُم اللہ تعالیٰ رحمةً واسعةً وہ فرماتے ہیں: إذا رفع السكين إلى صبيٍّ فقتل به نفسه لا يضمن۔ ایک آدمی نے ایک بچے کو چھری پکڑا دی بھئی۔ چھری پکڑائی اور چھری اس بچے نے اس چھری کے ذریعے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا، تو فقہائے کرام لکھتے ہیں کہ اس بچے... اس آدمی پر ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ اس آدمی پر ضمان نہیں آئے گا۔ کیوں؟ وجہ یہ کہ اس آدمی کا چھری دینا ہے سبب، اور اس کے ذریعے بچے کا اپنے آپ کو ہلاک کرنا یہ کیا ہے؟ یہ ہے واسطہ، یہ ہے علت، اور بچے کا ہلاک ہو جانا یہ کیا ہے؟ حکم ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو چھری دینا یہ ہے سبب، بچے کا اپنے آپ کو ہلاک کرنا یہ کیا ہے؟ علت ہے، اور اس کا پھر ہلاک ہو جانا یہ کیا ہے؟ حکم ہے۔ اور تو یہاں سبب بھی پایا گیا اور علت بھی پائی گئی، اور سبب اور علت جمع ہو جائیں، تو حکم کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ علت کی طرف کی جائے گی۔ اور علت تو کیا ہے؟ بچے کا اپنے آپ کو ہلاک کرنا۔ اس نے اپنے... وہ تو اختیاری فعل ہے، اس نے اپنے اختیار سے کیا کیا ہے اپنے آپ کو ہلاک کر دیا ہے۔ لہٰذا اس... اس قتل کی نسبت اس آدمی کی طرف نہیں کی جائے گی، لہٰذا اس پر ضمان یعنی دیت وغیرہ بھی نہیں آئے گی۔ وعلى هذا قال أصحابنا - اسی بناء پر ہمارے فقہائے کرام فرماتے ہیں: إذا رفع السكين إلى صبيٍّ - جب کسی نے اٹھائی چھری بچے کی طرف، یعنی اس کے... اس کو دی بھئی، مراد یہ ہے۔ جب چھری دی بچے کو فقتل به نفسه - تو اس چھری کے ذریعے قتل کر ڈالا بچے نے اپنے نفس کو، اپنے آپ کو، لا يضمن - وہ شخص ضامن نہیں ہوگا جس نے کیا کی تھی؟ چھری دی تھی۔ ولو سقط من يد الصبي فجرحه يضمن - لیکن اگر چھری اس بچے کے ہاتھ سے گر پڑی اور وہ زخمی ہو گیا، پاؤں وغیرہ کیا ہوا اس کا؟ زخمی ہو گیا، تو اب اس شخص پر ضمان آئے گا بھئی۔ کیا ہوگا اس شخص پر؟ ضمان آئے گا۔ کیوں؟ بھئی دیکھو، یہاں پر سبب ہے اس آدمی کا چھری دینا اور علت ہے بچے کے ہاتھ سے چھری کا چھوٹنا اور حکم کیا ہے؟ اس بچے کا زخمی ہونا۔ تو علت بھی آ گئی، سبب بھی آ گیا، لیکن یہاں پر علت کی طرف حکم کی نسبت کرنا متعذر ہے، ممکن نہیں۔ کیوں نہیں ممکن؟ اس لیے کہ یہ جو چھری اس کے ہاتھ سے گری ہے، یہ غیر اختیاری فعل ہے۔ یہ کیا ہے؟ غیر اختیاری فعل ہے۔ لہٰذا یہ اس صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس کی جانب کیا کی جائے حکم کی نسبت کی جائے۔ اپنے اختیار سے ہو فعل، پھر تو ٹھیک ہے، اس کی جانب کیا کی جا سکتی ہے حکم کی... لیکن یہ تو غیر اختیاری فعل ہے اور غیر اختیاری فعل صلاحیت نہیں رکھتا کہ حکم کی اس کی جانب نسبت... تو علت کی جانب حکم کی اضافت متعذر ہوئی، تو اب مجبورا ً کس کی طرف نسبت کریں گے؟ سبب، اور سبب کیا تھا؟ اس آدمی کا چھری دینا۔ تو معلوم ہوا یہ زخمی کرنا کس کی جانب سے... کس وجہ سے ہوا ہے؟ اس آدمی کے چھری دینے کی وجہ سے ہوا ہے۔ لہٰذا اب اس پر کیا آ جائے گا؟ ضمان آ جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ ولو سقط من يد الصبي - اور اگر گر پڑی وہ چھری بچے کے ہاتھ سے فجرحه - اس کو اس نے زخمی کر دیا يضمن - تو وہ شخص کیا ہوگا؟ ضامن ہوگا۔ ولو حمل الصبي على دابةٍ - جی، اسی طرح ایک شخص ہے، اس نے ایک بچے کو جانور پر، سواری کے جانور پر سوار کر دیا۔ جانور پر کیا کر دیا؟ جب بچے نے اس جانور کو چلایا بھئی۔ جانور چلا، اس نے کوئی ادھر ادھر حرکت کی، اچھلا کودا بھئی، اور وہ بچہ گرا اور بچہ گرا اور مر گیا۔ بچہ گرا اور مر گیا۔ تو دیکھیے بھئی، اب آپ مجھے بتلائیے۔ اس آدمی کا جانور پر بچے کو بٹھانا یہ ہے سبب، اور اس بچے کا اس جانور کو چلانا یہ ہے علت، اور پھر اس جانور سے بچے کا گر کر مرنا یہ کیا ہے؟ حکم ہے۔ تو اب آپ بتلائیے، اس حکم کی نسبت علت کی طرف کرنا درست ہے یا کرنا درست نہیں بھئی؟ جی؟ ہاں، اب یہاں پر سبب اور علت جمع ہوئے ہیں، تو حکم کی نسبت علت کی طرف کی جائے گی، اس لیے کہ بچے کا اس جانور کو چلانا یہ ہے علت اور یہ اختیاری فعل ہے، اس کی جانب حکم کی نسبت ہو... کی جا سکتی ہے۔ تو لہٰذا اب اس شخص پر جس نے بچے کو جانور پر بٹھایا تھا، اس پر کوئی ضمان اور دیت وغیرہ نہیں آئے گی۔ ولو حمل الصبي على دابةٍ - اور اگر سوار کیا بچے کو کسی جانور پر فسيرها - تو اس بچے نے چلایا اس جانور کو، سيرها - "ہا" ضمیر مفعول کس کو راجع ہے بھئی؟ صبی کو۔ اس بچے نے اس جانور کو چلایا فحالت - حالت... حالت کا معنیٰ ہے حرکت کرنا بھئی، حرکت کرنا۔ فحالت - پس اس جانور نے حرکت کی یمنةً ويسرةً - دائیں اور بائیں بھئی۔ دائیں بائیں کیا کی؟ حرکت کی فسقط - وہ بچہ گر پڑا ومات - اور مر گیا لا يضمن - تو یہ بٹھانے والا کیا ہوگا؟ ضامن نہیں ہوگا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ولو دل إنساناً على مال الغير فسرقه أو على نفسه فقتله أو على قافلةٍ فقطع عليهم الطريق لا يجب الضمان على الدال۔ جی، ایک اور کچھ اور مسائل۔ ایک آدمی نے غیر پر، دوسرے کسی انسان کی رہنمائی کی بھئی۔ ایک آدمی نے کسی انسان کی رہنمائی کی غیر کے مال پر، اور اس غیر نے اس مال کو چرا لیا۔ ایک آدمی نے دوسرے کو بتایا کہ فلاں جگہ زید کا مال پڑا ہوا ہے اور اس نے جا کر کیا کر لیا اس کو؟ چرا لیا۔ یا اسی طرح ایک آدمی نے کسی کے دشمن پر اس کی رہنمائی کی۔ زید کے دشمن کو ایک آدمی بتلاتا ہے بھئی کہ زید فلاں جگہ پر اس وقت ہے، زید کیا ہے؟ فلاں جگہ پر چھپا ہوا ہے۔ یہ اس کا دشمن جاتا ہے اور اس کو قتل کر دیتا ہے۔ یا اسی طرح کوئی قافلہ جا رہا ہے، ایک شخص ڈاکوؤں کو بتلاتا ہے کہ فلاں جگہ ایک قافلہ جا رہا ہے، بڑا مال ہے اس کے پاس۔ ڈاکو جاتے ہیں، ڈاکا ڈال لیتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ ڈاکا ڈال لیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان تمام صورتوں میں دیکھیے، اس شخص کا رہنمائی کرنا یہ کیا ہے؟ سبب، اور اس شخص کا جا کر چوری کرنا یا اس کو قتل کرنا یا ڈاکا ڈالنا یہ کیا ہے؟ علت، اور ان کا مال تلف ہو جانا یا ان کا... ان کی ان کی ان کی جان یا مال وغیرہ کا تلف ہونا یہ کیا ہے؟ حکم ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب اس کی نسبت سبب بھی جمع ہو... سبب بھی آ گیا، علت بھی آ گئی، تو اب حکم کی نسبت کس کی طرف کریں گے؟ علت کی طرف کریں گے، لہٰذا اب اس سبب کی طرف نسبت نہیں ہوگی، تو اس رہنمائی کرنے والے پر ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ رہنمائی کرنے والے پر ضمان نہیں آئے گا۔ اس لیے کہ انہوں نے صرف دلالت کی ہے، جبکہ علت تو کیا ہے؟ ایک شخص کا آگے اختیاری فعل ہے۔ اس شخص دوسرے نے اپنے اختیار سے چوری کی ہے، اپنے اختیار سے جا کر قتل کیا ہے یا اپنے اختیار سے جا کر ڈاکا ڈالا ہے۔ تو لہٰذا اب علت کی جانب حکم کی نسبت کی جائے گی اور اس... وہ سبب کی طرف حکم کی نسبت نہیں، لہٰذا اس پر ضمان بھی نہیں آئے گا۔ ضمان کی بات کر رہا ہوں مولانا، یہ نہیں کہ ان کو اس رہنمائی کرنے والے کو سزا ہی نہیں دی جائے گی، ان کو سزا دی جائے گی بھئی۔ ضمان البتہ مال، نفس وغیرہ کا ان پر نہیں آئے گا، کیونکہ وہ تو کس میں اپنے اختیاری فعل سے تلف کیے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ولو دل إنساناً على مال الغير - اگر دلالت کی کسی آدمی نے کسی انسان کی علی مال الغير - غیر کے مال پر فسرقه - تو اس انسان نے اس غیر کے مال کو کیا کر لیا؟ چرا لیا أو على نفسه - یا دلالت کی کسی انسان کی علی نفسہ یعنی نفس الغير، اس غیر کے... غیر کے نفس پر رہنمائی کی فقتله - تو اس انسان نے اس غیر کو جا کر کیا کر دیا؟ قتل کر دیا أو على قافلةٍ - یا کسی نے دلالت کی کسی انسان کی قافلے پر فقطع عليهم الطريق - تو اس نے ان پر ڈاکا ڈالا۔ قطع طریق کہتے ہیں ڈاکے کو بھئی۔ قطع طریق کس کو کہتے ہیں؟ فقطع عليهم الطريق - تو اس نے ان پر ڈاکا ڈالا لا يجب الضمان على الدال - تو دلالت کرنے والے پر ضمان واجب نہیں ہوگا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ اے صاحبِ اصول الشاشی، آپ نے ہمیں بتلایا کہ صرف دلالت کرنے کی وجہ سے کسی پر کوئی ضمان نہیں آیا کرتا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ دلالت جب صرف کسی نے کی ہے، رہنمائی صرف کی ہے، تو اس پر ضمان نہیں آیا کرتا، لیکن ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ صرف دلالت ہی کی ہے، لیکن فقہائے کرام رحمہُم اللہ تعالیٰ رحمةً واسعةً وہ فرماتے ہیں کہ دلالت کرنے والے پر کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا۔ جیسے ایک شخص کے پاس کسی نے امانت رکھوائی بھئی۔ آپ نے اپنی امانت بھئی زید کے پاس رکھوا دی بھئی۔ زید نے دوسرے شخص کو بتلایا جا کر کہ میرے پاس فلاں نے بھئی بڑا قیمتی مال بطورِ امانت رکھوایا ہے، اور اس نے آ کر اس کو چوری کر دیا۔ کیا کر لیا؟ تو اب زید جو مودَع ہے، جس کے پاس کیا رکھوائی گئی ہے؟ امانت رکھوائی گئی ہے، اس نے صرف رہنمائی کی ہے، چوری تو دوسرے شخص نے کی ہے۔ تو علت ہے اور سبب دونوں جمع ہیں، تو لہٰذا یہاں حکم کی نسبت کس کی جانب ہونی چاہیے؟ علت کی طرف ہونی چاہیے، اور زید صرف دال ہے، دلالت کرنے والا ہے، تو اس پر ضمان نہیں آنا چاہیے، لیکن فقہائے کرام لکھتے ہیں کہ اس پر بھی کیا آ جائے گا؟ اس پر ضمان آئے گا بھئی۔ مودَع پر جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے، ایک ہے مودِع، ایک ہے مودَع۔ مودِع جو امانت رکھواتا ہے، مودَع جس کے پاس امانت رکھوائی جائے۔ تو مودَع پر ضمان آئے گا، فقہاء لکھتے ہیں بھئی۔ یا اسی طرح اگر محرم جو ہے، کوئی شخص حالتِ احرام کے اندر... بھئی، حالتِ احرام میں شکار وغیرہ، خوشبو لگانا، سلے ہوئے کپڑے پہننا وغیرہ بہت سی چیزیں منع ہوتی ہیں۔ اب محرم نے کیا کیا بھئی؟ ایک شخص کی رہنمائی کی شکار پر کہ وہ شکار ہے بھئی۔ کوئی آدمی شکار کھیلنے آیا ہے بھئی، محرم اس کو بتلاتا ہے: وہ جانور جا رہا ہے بھئی، یہ جانور یا یہ جانور چھپا ہوا ہے۔ اس شکاری نے اس جانور کو مار ڈالا۔ تو اب دیکھو، محرم نے صرف رہنمائی کی ہے اور مارا تو اس دوسرے شخص نے ہے، لیکن فقہاء لکھتے ہیں کہ اس محرم پر ضمان آئے گا بھئی۔ کیا آئے گا؟ اس پر ضمان آئے گا۔ تو دیکھو، آپ نے پہلے کہا تھا کہ رہنمائی کرنے والے پر ضمان نہیں آیا کرتا، جبکہ یہاں پر آپ کیا فرماتے ہیں... کیا فرما رہے ہیں؟ کہ رہنمائی کرنے والے پر بھی ضمان آئے گا۔ مصنف اس کا جواب دیں گے کہ بھئی، بات دراصل یہ ہے کہ یہاں ان پر رہنمائی کرنے کی وجہ سے ضمان نہیں آیا بھئی۔ تو ضابطہ وہی ہے، رہنمائی کرنے والے پر ضمان نہیں۔ لیکن یہ جو محرم اور یہ جو مودَع پر ضمان آیا، اس وجہ سے کہ انہوں نے جنایت کی ہے۔ کیا کی ہے؟ جنایت یہ کی بھئی کہ مودَع جس کے پاس امانت رکھوائی، امانت کس لیے رکھوائی جاتی ہے؟ حفاظت کرنے کے لیے۔ تو اس نے کیا کر دیا؟ اس حفاظت کو ترک کر دیا جو اس پر واجب تھی۔ اس پر واجب کیا تھی کہ اس مال کی کیا کرتا؟ لیکن اس نے جب غیر کو بتلا دیا، تو اس نے اس حفاظت کو کیا کر دیا؟ ترک کیا ہے۔ تو ترکِ حفاظت کی وجہ سے اب اس پر کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا، رہنمائی کرنے کی وجہ سے ضمان نہیں۔ اسی طرح محرم نے جو جانور کو کی پر رہنمائی کی ہے، تو رہنمائی کرنے کی وجہ سے اس پر ضمان نہیں، بلکہ اس پر ضمان اس وجہ سے ہے کہ حالتِ احرام کے اندر جیسے شکار کرنا منع تھا، شکار پر رہنمائی کرنا بھی منع تھی۔ تو اس نے ایک ایسا کام کیا جو حالتِ احرام میں ممنوع تھا۔ تو یہ اس نے جنایت کی بھئی۔ احرام کے ممنوع کاموں میں سے کیا کر لیا؟ ایک ممنوع کام کا اس نے ارتکاب کر لیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس وجہ سے، جنایت کرنے کی وجہ سے ان پر کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا، صرف رہنمائی کرنے کی وجہ سے نہیں۔ وهذا بخلاف المودَع إذا دل السارق على الوديعة - اور یہ برخلاف مودَع کے ہے، برخلاف المودَع - مودَع کے برخلاف ہے، إذا دل - جب وہ دلالت کرے السارق - چور کی، چور کی رہنمائی کرے علی الوديعة - امانت پر فسرقها - تو وہ چور کیا کر لے اس کو؟ چرا لے أو دل المحرم غيره - یا دلالت کرے محرم شخص، غيرہ - غیر کی على صيد الحرم - کس پر رہنمائی کرے؟ حرم کے شکار پر فقتله - حرم کے اندر کوئی شکار تھا، فقتله - اس غیر نے کیا کر دیا؟ اس شکار کو قتل کر دیا۔ تو یہ اس صورت میں ان پر ضمان آئے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیوں؟ لأن وجوب الضمان على المودَع - اس لیے کہ وجوبِ ضمان جو آیا ہے مودَع پر باعتبار ترك الحفظ - یہ کس اعتبار سے ہے؟ حفاظت کو ترک کرنے کی وجہ سے ہے الواجب عليه - وہ حفاظت جو اس پر کیا تھی؟ واجب۔ وہ تو وہ حفاظت جو اس پر واجب تھی، اس کو ترک کرنے کے اعتبار سے ہے لا بالدلالة - دلالت کرنے کی وجہ سے نہیں ہے۔ وعلی المحرم, اور یہ جو وجوبِ ضمان آیا ہے محرم پر باعتبار ان الدلالة محظور احرامه, بعتبار ہے کہ یہ دلالت کرنا محظور احرامه, محظور کا معنی ممنوع ممنوع, کہ یہ جو دلالت کرنا ہے محظور احرامه, اس کے احرام کے ممنوع کام میں سے ہے۔ اس کے احرام کا ممنوع کام ہے بھئی, یعنی اس کے لیے حالتِ احرام میں یہ کرنا جائز نہیں۔ تو یہ انہوں نے جنایت کی بمنزلة مس الطيب ولبس المخيط, یہ کس درجے میں ہے؟ مس الطيب, خوشبو لگانے کے, ولبس المخيط, اور سلے ہوئے کپڑے پہننے کے درجے میں ہے۔ بھئی, جیسے محرم کے لیے خوشبو لگانا جائز نہیں, اس کے لیے سلے ہوئے کپڑے پہننا جائز نہیں, تو یہ جیسے وہ خوشبو لگانا اور سلے ہوئے کپڑے پہننا اس کے لیے جنایت ہے, اسی طرح یہ رہنمائی کرنا بھی, یہ بھی کیا تھا اس کے لیے؟ جنایت ہے۔ تو جنایت کرنے کی وجہ سے مودَع پر اور محرم پر کیا آیا ہے؟ ضمان, رہنمائی کرنے کی وجہ سے نہیں آیا۔ فیضمن بارتكاب المحظور, تو یہ جو محرم ہے, یہ ضامن ہوگا بارتكاب المحظور, ممنوع کام کے ارتکاب کی وجہ سے, لا بالدلالة, رہنمائی کرنے کی وجہ سے نہیں۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے, اچھا! آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے اے صاحبِ اصولِ شاشی! کہ اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں شکار پر رہنمائی کر دے, تو یہ جنایت ہے۔ یہ کیا ہے؟ جنایت ہے۔ اور اسی طرح اگر مودَع, امانتدار شخص کے پاس اگر کوئی امانت رکھوائی جائے اور وہ کسی اس کے بارے میں بتلا دے, تو یہ کیا ہے؟ کسی چور کو اس کے بارے میں بتلائے, تو یہ کیا ہے؟ جنایت ہے۔ تو جب یہ جنایت ہے, تو اب جب وہ یہ کام کر لیں, تو ان کی جنایت پائی گئی, لہٰذا ان پر ضمان آ جانا چاہیے, چاہے وہ چور وہ چوری نہ کرے, چاہے وہ شکاری اس جانور کو شکار نہ کرے۔ بھئی, مودَع نے کیا کیا بھئی؟ چور کو بتلایا کہ میرے پاس زید کے بڑا مال رکھوایا ہے, تو جنایت پائی گئی۔ اب وہ چور چوری کرے, اب وہ چور چاہے چوری نہ بھی کرے بھئی, چور چاہے چوری نہ بھی کرے, اس کی جانب سے جنایت پائی گئی یا نہیں پائی گئی بھئی؟ جنایت پائی گئی, تو لہٰذا اس پر کیا آنا چاہیے؟ ضمان آنا چاہیے۔ اسی طرح اگر محرم نے حرم کے شکار پر غیر کی رہنمائی کی کہ وہ شکار ہے, لیکن اس شکاری نے اس شکار کو مارا ہی نہیں یا تیر تو چلایا, وہ جانور بچ نکلا یا کوئی اور صورت, وہ قتل نہیں ہوا جانور, تو دیکھو, اب اس صورت میں بھی محرم کی جنایت تو پائی گئی, اس نے کیا کی؟ شکار پر رہنمائی۔ سمجھ میں آیا؟ تو امانتدار نے کسی کو امانت چور کو امانت کے بارے میں بتلا دیا, تو اب چاہے چور چوری نہ بھی کرے, اس کی جنایت تو آ گئی, لہٰذا اس پر کیا آنا چاہیے؟ ضمان۔ اسی طرح محرم اگر کسی شکار پر رہنمائی کر دے, اب شکاری اس کو چاہے شکار نہ بھی کرے, اس کی جنایت تو پائی گئی, لہٰذا ان پر کیا آنا چاہیے؟ ضمان آنا چاہیے, ضمان آنا۔ لیکن آپ کیا کہتے ہیں, اگر چور نے چوری نہیں کی, تو مودَع پر ضمان نہیں آئے گا, اگر وہ شکاری نے شکار کو قتل نہیں کیا, تو اس محرم پر ضمان نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ حالانکہ جنایت تو پائی جا رہی ہے ان کی, تو جواب دینے لگے ہیں صاحبِ اصولِ شاشی اس کا, کہ بھئی جنایت ان کی ابھی پختہ نہیں ہوئی, جنایت پختہ ہوگی, پکی ہوگی, جبکہ اس کا اثر بھی پایا جائے۔ کیا ہو اس کا؟ اثر بھی پایا جائے, جب اس کا اثر پایا جائے گا, تو اب جنایت پکی ہو گئی اور اگر اس کا اثر ہی اٹھ جائے, ختم ہو جائے, تو پھر تو جنایت ہی گویا ختم ہو گئی۔ صورت لہٰذا ان پر ضمان بھی, تو اثر پکا کیسے ہوگا؟ کہ وہ چور جا کر اس مال کو چوری کر گئے, اب جنایت پکی ہو گئی, اس کا اثر پایا گیا جنایت کا۔ سمجھ میں آیا؟ اور یا شکاری اس جانور کو کیا کر دیتا ہے؟ قتل کر دیتا ہے, تو اب جنایت کیا ہوئی؟ پکی ہوئی کہ اس کا اثر بھی پایا گیا, تو جنایت تو ہے ان کی, لیکن یہ جنایت پکی کب ہوگی؟ جب اس کا اثر بھی پایا جائے اور اگر ان کا اثر ہی نہیں پایا گیا, تو جنایت ہی کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔ یہ اسی طرح ہے, کہتے ہیں جیسے زخم کا بھر جانا, زخم کا بھر جانا, اس کا نشان ختم ہو جانا۔ آپ نے پڑھا ہے بھئی, سر وغیرہ کے مسائل میں کہ سر پر کوئی زخم وغیرہ لگا دے, تو اس پر ضمان آیا کرتا ہے, کیا آتا ہے؟ ضمان آتا ہے, آرش آتا ہے بھئی۔ اگر مختلف قسم کے زخم, بھئی تفصیل آپ نے فقہ کی کتابوں میں پڑھی ہے, کسی میں اس پر 10 اونٹ آتے ہیں, کسی میں 15 اونٹ آتے ہیں وغیرہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کیوں؟ اس لیے کہ چہرے اور سر پر زخم لگا کر اس نے اس کے بدنما کر دیا, اس شخص کو کیا کر دیا ہے؟ بدنما, تو اب ضمان دینا پڑے گا۔ لیکن اگر وہ زخم اس طرح بھر گیا کہ نشان ہی ختم ہوا, تو ضمان بھی ختم ہو جائے گا۔ ضمان تو کیوں آ رہا تھا؟ اس شخص کو بدنما کرنے, اب وہ زخم کا نشان ہی بالکل ختم ہو گیا, تو ضمان بھی کیا ہو جائے گا؟ پھر وہ جنایت جو ہے, جب اس کا, اگر اس کا اثر پایا جائے گا, تو وہ پکی ہو جائے گی, اگر اس کا اثر ہی ختم ہوا, تو جنایت بھی کیا ہوئی؟ مرتفع ہوئی, ضمان ختم ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ إلا أن الجناية إنما تتقرر بحقيقة القتل, مگر یہ کہ جنایت جو ہے, یہ پکی ہوتی ہے, یہ پختہ ہوتی ہے بحقيقة القتل, کس کے سبب سے؟ حقیقتِ قتل کے اعتبار سے کہ حقیقتاً اس جانور کا کیا ہے؟ قتل بھی پایا جائے, تو پھر اس کی محرم کی جنایت پکی ہوگی۔ فاما قبله فلا, اس سے پہلے بھئی قتل سے پہلے فلا, جنایت پکی نہیں ہے۔ فلا حکم له, تو اب اس کا کوئی حکم نہیں ہے, لجواز ارتفاع اثر الجناية, بوجہ جائز ہونے جنایت کے اثر کے اٹھنے کے, کہ جنایت کا اثر کا اٹھ جانا بھی ممکن ہے, جنایت کا اثر اٹھ جانا بھی جواز بمعنی ممکن کے کریں۔ بمنزلة الاندمال, اندمال کہتے ہیں زخم کا بھر جانا, مندمل ہو جانا۔ بمنزلة الاندمال فی باب الجراحة, یہ باب الجراحت میں زخم کے بھر جانے کے درجے میں ہے۔ یہ باب الجراحت میں زخم کے جیسے وہاں اثر ختم, اثر نہیں پایا گیا, تو جنایت بھی نہیں گویا اور یہاں پر بھی جب اثر نہیں پایا جائے گا, تو جنایت بھی گویا نہیں, صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ وقد يكون السبب بمعنى العلة فيضاف الحكم إليه, جی! نیا ضابطہ بتلا رہے ہیں آپ کو, کہتے ہیں: کبھی سبب علت کے معنی میں ہوگا, فيضاف الحكم إليه, تو حکم کی اس کی جانب نسبت کی جائے گی بھئی۔ سبب کس معنی میں ہوگا؟ علت। دیکھو بھئی! ایک ہے سبب اور اس سبب اور اس کے بعد کیا ہے؟ ایک علت ہے اور علت کی وجہ سے پھر آگے کیا پایا جا رہا ہے؟ حکم, لیکن کبھی سبب اس قسم کا ہوتا ہے جو علت کو وجود دے دیتا ہے, علت کو وجود دینے والا ہوتا ہے۔ بھئی, گزشتہ مثالوں میں راستہ تھا سبب اور اس پر چلنا کیا تھا؟ علت تھی, لیکن کیا راستہ چلنے کو وجود دیتا ہے؟ راستہ چلنے کو وجود نہیں, لیکن بعض اوقات سبب ایسا ہوتا ہے کہ جب سبب پایا جاتا ہے, تو آگے علت بھی, اور جب علت پائی جائے گی, تو پھر لازمی بات ہے آگے حکم بھی پایا جائے گا۔ تو یہ سبب علت العلة ہوا, علت کے لیے علت ہوا, یعنی یہ سبب جب پایا گیا, تو کس کا وجود آ گیا؟ علت, اور علت جب پائی گئی, تو آگے کیا آ گیا؟ حکم, تو علت کے لیے یہ علت ہوا۔ یہ سبب کیا ہوا؟ علت کے لیے علت ہوا, تو اگر وہ سبب علت العلة کی قبیل سے ہو, تو حکم کی نسبت اس کی طرف سبب کی طرف کی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس لیے کہ اس سبب نے کس کو وجود دے دیا؟ علت کو وجود دے دیا, یہ سبب جیسے ہی آیا, اس نے فوراً کس کو وجود دیا؟ علت, اور علت نے تو پھر آگے لازمی بات ہے کس کو وجود دینا ہے؟ حکم کو, تو حکم دراصل اب کس کی وجہ سے پایا گیا؟ سبب کی وجہ سے۔ وقد يكون السبب بمعنى العلة, اور سبب کبھی علت کے معنی میں ہوتا ہے, فيضاف الحكم إليه, تو حکم کی اس کی جانب نسبت کی جائے گی, ومثاله فيما يثبت العلة بالسبب, اور مثال اس کی ان مسائل میں ہے, اس صورت میں ہے جب يثبت العلة بالسبب کہ جب علت کیا ہو؟ ثابت ہو جائے سبب کی وجہ سے, علت سبب کی وجہ سے ثابت ہو, فيكون السبب في معنى العلة, تو یہ سبب کس معنی میں ہے؟ علت کے معنی میں ہے, لأنه لما ثبت العلة بالسبب, اس لیے کہ جب ثابت ہوئی ہے علت سبب کی وجہ سے, فيكون السبب في معنى علة العلة, تو سبب کس معنی میں ہوگا؟ علت العلة کے معنی میں ہوگا, فيضاف الحكم إليه, تو حکم کی اس کی جانب اضافت کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ولهذا قلنا, اسی بنا پر ہم کہتے ہیں: إذا ساق دابة فأتلفت شيئا ضمن السائق, اگر کسی نے جانور کو ہانکا, تو اس نے کسی چیز کو تلف کر دیا, ضمن السائق, تو ہانکنے والا ضامن ہوگا۔ ہانکنے والا کیا ہوگا؟ ضامن ہوگا۔ دیکھیے بھئی! ایک شخص نے کیا کیا بھئی؟ ایک جانور کو ہانکا, جانور کو ہانکا, اس کو چلایا اور جانور تو بیچارہ مجبور و عاجز ہے, اس کو جب چلایا جاتا ہے چلتا ہے, جب روکا جاتا ہے رک جاتا ہے, تو جب یہ ہانکے گا, تو جانور کا چلنا پایا جائے گا۔ تو یہ اس آدمی نے چلایا, آدمی کا چلانا یہ ہوا سبب اور اس سبب کی وجہ سے آگے کیا پایا گیا؟ جانور کا چلنا اور یہ ہے علت اور پھر اس حکم کیا ہے؟ اس چیز کا تلف کر دینا, جانور کے چلنے کی وجہ سے وہ چیز کیا ہو گئی؟ بھئی ایک آدمی نے ایک جانور کو چلایا, اس نے چلتے اس کے چلتے ہوئے کسی کی کوئی چیز تلف کر دی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب اس آدمی کا جانور کو چلانا, یہ سبب, جانور کا چلنا, علت اور اس چیز کا تلف ہو جانا, یہ حکم ہے۔ تو اب یہاں پر یہ جو سبب ہے, یہ علت العلة ہے, لہٰذا حکم کی اس کی جانب نسبت کی جائے گی۔ علت بھی ہے اور سبب بھی جمع ہیں, لیکن سبب کس قسم کا ہے؟ علت العلة ہے کہ وہ جب پایا جاتا ہے, تو مسبب بھی, یعنی علت بھی بھئی جب وہ جانور کو ہانکے گا, تو جانور کا چلنا بھی پایا جائے گا, تو یہ سبب ایسا ہے جو علت العلة ہے, لہٰذا حکم کی نسبت اس کی جانب کی جائے گی۔ وہی علت العلة سبب ہی ہے نا, تو اس کے حکم کی نسبت کس کی جانب کی جائے گی؟ اس سبب کی جانب, کیونکہ وہ کیا ہے؟ علت العلة ہے, صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ولهذا قلنا, اسی بنا پر ہم کہتے ہیں: إذا ساق دابة, جب کسی نے ہانکا کسی جانور کو, فأتلفت شيئا, اور اس نے کیا کر دیا اس چیز کسی چیز کو تلف کر دیا, ضمن السائق, تو سائق کیا ہوگا؟ ضامن ہوگا, والشاهد إذا, اسی طرح قاضی کے پاس دو آدمیوں نے گواہی دی, زید نے مثلاً عمرو پہ دعویٰ کیا تھا کہ عمرو نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے, قاضی کے پاس مسئلہ پہنچا, قاضی نے عمرو کس سے گواہ طلب کیے؟ زید سے, زید دو گواہ لے آیا بھئی, انہوں نے گواہی دی کہ واقعتاً عمرو نے زید کے کتنے دینے ہیں؟ ایک لاکھ۔ جب انہوں نے گواہی دی, تو قاضی نے فیصلہ کر دیا, اب کیا کیا جائے گا؟ عمرو سے عمرو کو ایک لاکھ روپیہ دینے پڑیں گے, کس کو بھئی؟ زید کو۔ اس نے مثلاً زید کو دے دیے, تو اب بعد میں ان گواہوں نے قاضی کے پاس آ کر رجوع کر لیا کہ ہم سے غلطی ہوئی, ہم نے جھوٹی گواہی دی تھی۔ تو کہتے ہیں بھئی, اب دیکھیے یہاں پر اس مسئلے کے اندر, اس مسئلے کے اندر بھئی, گواہوں کا گواہی دینا, یہ ہے سبب, قاضی کا فیصلہ کرنا, یہ ہے علت, اور مدعا علیہ کے مال کا تلف ہو جانا, یہ ہے حکم۔ کیا سبب ہے؟ گواہوں کی گواہی, اور علت کیا ہے؟ قاضی کا فیصلہ کرنا, اور حکم کیا ہے؟ مدعا علیہ کے مال کا تلف, اس بیچارے کا تو مال چلا گیا بھئی, تو اب اس صورت میں یہ جو سبب ہے, یہ علت العلة کے درجے میں ہے, یہ علت العلة ہے, اس لیے حکم کی نسبت اس کی جانب کی جائے گی, تو جب انہوں نے کیا کہہ دیا؟ کہ ہم نے جھوٹی گواہی دی تھی, تو اب ان پر ضمان آئے گا بھئی کہ انہوں نے گویا عمرو کا مال تلف کیا ہے گواہوں نے بھئی, کیا کیا ہے؟ گواہوں نے, لہٰذا ان پر کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا, اس لیے بھئی یہ علت العلة اس لیے ہے یہ گواہی, اس لیے کہ جب قاضی کے سامنے دو عادل آدمی گواہی دے دیں, تو اب قاضی ایک مجبورِ محض ہے, حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد اب وہ مجبور ہے کہ اسی کے مطابق کیا کرے؟ فیصلہ کرے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے وہ جانور مجبور تھا کہ جب اس کو ہانکا گیا, تو اب وہ چلنے پر مجبور تھا۔ تو قاضی بھی مجبور ہونے میں اس جانور کی طرح ہے, جب اس کے سامنے دو عادل آدمی گواہی دے دیں, تو حق ظاہر ہو گیا, اب قاضی اس کے مطابق فیصلہ کرنے پر مجبور ہے, اب اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے, صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہٰذا تو یہ گواہی, یہ کس کے کیا یہ سبب جو ہے, یہ کس درجے میں ہے؟ علت العلة کے درجے میں ہے, یہ گواہی ہے, تو اب قاضی کا فیصلہ لازمی طور پر پایا جائے گا, اور جب قاضی کا فیصلہ پایا جائے گا, تو لازمی طور پر کیا ہوگا؟ مدعا علیہ کا مال تلف ہوگا, لیکن اب قاضی کے فیصلے کی طرف نسبت نہیں کی جائے گی, بلکہ کس کی جانب نسبت کی جائے گی؟ علت العلة کی جانب, سبب کی جانب بھئی۔ والشاهد إذا أتلف بشهادته مالا, اور گواہ نے جب تلف کر دیا اپنی شہادت کے ذریعے کسی کے مال کو, کسی مال کو, فظهر بطلانها بالرجوع, پھر ظاہر ہوا اس گواہی کا باطل ہونا بوجہ اس گواہ کے رجوع کرنے کے, ضمن, تو گواہ ضامن ہوگا, لأن سير الدابة يضاف إلى السوق, اس لیے کہ جانور کا چلنا جو ہے, اس کی نسبت کی جائے گی ہانکنے کی طرف, وقضاء القاضي يضاف إلى الشهادة, اور قاضی کے فیصلے کی نسبت کی جائے گی گواہی کی طرف, لما أنه لا يسعه ترك القضاء, اس وجہ سے کہ وہ جو قاضی ہے اس کے لیے لا يسعه اس کے لیے گنجائش نہیں ہے, ترك القضاء, قضا کو ترک کرنے کی, قاضی کے لیے فیصلے کو ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے, بعد ظهور الحق, حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد, بشهادة العدلين, بسب عادل آدمیوں کی گواہی کے, عنده, قاضی کے پاس, جب عادل آدمیوں نے قاضی کے پاس گواہی دے دی, حق ظاہر ہو گیا, تو اب قاضی کے لیے اس فیصلے کو ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے, فصار كالمجبور, تو قاضی کس کی طرح ہوا؟ مجبور کی طرح ہو گیا, في ذلك, اس فیصلے کے اندر, بمنزلة البهيمة بفعل السائق, اس جانور کے درجے میں بفعل السائق, جو کس کے سبب سے مجبور ہے؟ سائق کے, ہانکنے والے کے فعل کی وجہ سے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب ایک اور ضابطہ بتلا رہے ہیں بھئی: ثم السبب قد يقام مقام العلة, پھر کہتے ہیں سبب کو کبھی کبھار قائم مقام کر دیا جاتا ہے علت پر کہ عند تعذر الاطلاع على حقيقة العلة, جب علت کی حقیقت پر مطلع ہونا ممکن نہ رہے۔ بھئی دیکھیے بھئی, حکم تو, آپ کو پہلا ضابطہ انہوں نے یہ بتلایا کہ جب سبب اور علت جمع ہو جائیں, تو حکم کی نسبت کس کی جانب کی جائے گی؟ علت کی جانب کی جائے گی, سبب کی جانب نہیں, ہاں اگر علت کی جانب نسبت کرنا ممکن نہ رہے, پھر کس کی جانب کریں گے؟ سبب کی جانب کریں گے, دوسرا ضابطہ انہوں نے آپ کو یہ بتلایا کہ سبب کبھی ایسا ہوتا ہے جو علت کو وجود دینے والا ہوتا ہے, یعنی تو وہ علت العلة ہوا اور لہٰذا اس صورت میں اگر سبب جو ہے, ہے علت العلة کی قبیل سے ہو, تو پھر حکم کی نسبت علت کی طرف نہیں کی جائے گی, بلکہ کس کی جانب کی جائے گی؟ سبب, یعنی علت العلة کی طرف۔ اب تیسرا ضابطہ آپ کو بتلانے لگے ہیں کہ کبھی کبھار علت کا پتہ چلنا مشکل ہوتا ہے, ممکن نہیں ہوتا, علت کا پتہ چلانا ممکن نہیں ہوتا یا مشکل ہوتا ہے, تو اس صورت کے اندر شریعت نے سبب ہی کو علت کے قائم مقام کر دیا ہے, ایک سبب پایا جا رہا ہے, پھر آگے ایک علت ہے اور علت کے بعد کیا پایا جا رہا ہے؟ حکم, تو ہونا تو یہ چاہیے کہ حکم کی نسبت کس کی جانب ہو؟ علت کی جانب ہو, لیکن علت پر مطلع ہونا ممکن نہیں, جب علت پر مطلع ہونا ممکن نہیں, تو اب شریعت نے کیا کر دیا؟ اس سبب ہی کو قائم مقام کر دیا کس کے؟ علت کے قائم مقام کر دیا, معاملے کو آسان کرنے کے لیے, کس کے لیے؟ معاملے کو آسان بنانے کے لیے بھئی مکلف پر, تاکہ معاملہ آسان ہو جائے, آسانی سے فیصلہ کر سکے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ دیکھو, مثالوں سے بات خوب واضح ہو جائے گی۔ ثم السبب قد يقام مقام العلة, پھر سبب کبھی قائم کو قائم مقام بنایا جاتا ہے علت کے, عند تعذر الاطلاع على حقيقة العلة, جب ممکن نہ رہے مطلع مطلع ہونا على حقيقة العلة, علت کی حقیقت پر, جب یہ پتہ چلانا مشکل ہو کہ علت پائی گئی ہے یا علت پائی نہیں گئی, ایسی جگہ ہوتی ہے بعض اوقات, تو پھر اب سبب کو شریعت قائم مقام بنا دیتی ہے, کیوں؟ تيسيرا للأمر على المكلف, آسان بنانے کے لیے معاملے کو مکلف پر, ويسقط به اعتبار العلة, اور ساقط ہو جاتا ہے به ای بتعذر الاطلاع على حقيقة العلة, اور اس علت پر علت پر مطلع ہونا چونکہ ممکن نہیں رہتا, تو اس اس پر مطلع ہونا متعذر ہونے کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے اعتبار العلة, علت کا اعتبار, سمجھ میں آیا بھئی؟ تو علت پر کیا ہوا؟ علت پر مطلع ہونا کیا ہوتا ہے کبھی کبھار؟ مشکل ہوتا ہے یا ناممکن ہوتا ہے, تو اس صورت میں شریعت کس کو اس کا قائم مقام بنا دیتی ہے؟ سبب کو, تو کہتے ہیں ويسقط به اعتبار العلة, تو ساقط ہو جاتا ہے اس کی وجہ سے علت کا اعتبار, ويدار الحكم على السبب, اور حکم جو ہے, مرتب ہوتا ہے سبب پر, حکم کس پر مرتب ہوتا ہے؟ بھئی دیکھو, علت کا پتہ چلانا مشکل کہ پتہ نہیں علت پائی گئی یا علت نہیں پائی گئی, ایسے مقام ہوتا ہے, تو شریعت کس کو قائم مقام بنا دیتی ہے؟ سبب کو قائم مقام بنا دیتی ہے, تو اب سارے حکم کا دارومدار سبب پر ہوگا, علت کو نہیں دیکھا جائے گا, علت کو نہیں, سبب ہی پر دارومدار ہوگا۔ مثال دیکھیے بھئی: ومثاله في الشرعيات النوم الكامل, اور مثال اس کی شرعی مسائل کے اندر النوم الكامل, کامل نیند ہے۔ کامل, دیکھیے بھئی, وضو ٹوٹتا ہے حدث کی وجہ سے, وضو ٹوٹتا ہے, بدن سے خروجِ نجاست ہو, تو اس کی وجہ سے کیا حکم لگایا جاتا ہے؟ وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگایا جاتا ہے, وضو کے ٹوٹنے کا حکم۔ تو یہ جو نومِ کامل ہے, گہری نیند بھئی, ایسی نیند جس میں استرخائے مفاصل پایا جائے, جوڑ, اعضاء وغیرہ ڈھیلے پڑھ جائیں, تو جو, تو یہ ہے سبب, یہ ہے سبب, اور سبب ہے بھئی, سبب, تو اب نیند کی حالت میں اگر خروجِ نجاست ہو, تو انسان کو علم نہیں ہوگا, سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر اب وضو کے ٹوٹنے کی علت تو ہے حدث کا لاحق ہونا, حدث کا, یعنی خروجِ نجاست کا پایا جانا, لیکن اس خروجِ نجاست پر نیند کی حالت میں مطلع ہونا ممکن نہیں, جب کوئی آدمی سویا ہو, تو خروجِ نجاست پر مطلع ہو سکتا ہے؟ کہ خروجِ نجاست ہوا ہے یا خروجِ نجاست نہیں, اگر ہوا ہے, تو وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں, اگر نہیں ہوا, تو وضو کے نہ ٹوٹنے کا حکم لگائیں بھئی, تو لہٰذا اب نیند کی حالت میں اب خروجِ نجاست پر مطلع ہونا, یعنی علت پر مطلع ہونا ممکن نہ رہا, تو شریعت نے سبب, یعنی نیند ہی کو اس کا قائم مقام بنا دیا, علت کے قائم مقام بنا دیا, مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو نیند ہی کو اس کا قائم مقام بنا دیا, تو ایسی گہری نیند جس میں استرخائے مفاصل ہو, وہ جب بھی پائی جائے گی, وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا, تو دیکھا حکم وضو ٹوٹنے کا, یہ حکم جو ہے, اب اس کا سارا دارومدار کس پر ہو گیا؟ نومِ کامل پر ہوا, کس پر ہوا؟ حالانکہ نومِ کامل تو سبب ہے, وضو تو اس سے نہیں ٹوٹ رہا, وضو تو کس سے ٹوٹتا ہے؟ خروجِ نجاست سے, لیکن خروجِ نجاست کا پتہ چلے گا؟ خروجِ نجاست پر مطلع ہونا یہاں ممکن نہیں, تو حکم کا دارومدار سبب پر ہی کر دیا, تو جب یہ سبب پایا جائے گا, وضو ٹوٹنے کا حکم ہوگا, سمجھ میں آیا؟ تو جب یہ سبب پایا جائے گا, تو کیا حکم لگایا جائے گا؟ وضو کے ٹوٹنے کا بھئی, مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ومثاله في الشرعيات, اور مثال اس کی شرعی مسائل کے اندر النوم الكامل, نومِ کامل ہے, فإنه لما أقيم مقام الحدث, اس لیے کہ جب اس کو قائم مقام کر دیا گیا حدث کے, سقط اعتبار حقيقة الحدث, تو ساقط ہوا حدث کی حقیقت کا اعتبار, اب حدث کو نہیں دیکھا جائے گا کہ حدث نیند میں لاحق ہوا ہے, حدث نیند میں لاحق, بس سبب کو دیکھا جائے گا۔ ويدار الانتقاض على كمال النوم, اور مرتب ہوگا وضو کا ٹوٹنا علی كمال النوم, کامل نیند پر, نیند کے کامل ہونے پر, ويدار الانتقاض على كمال النوم, اور مرتب ہوگا وضو کا ٹوٹنا علی كمال النوم, نیند کے کامل ہونے پر, یعنی ایسی نیند جب بھی پائی جائے گی, کیا حکم لگایا جائے گا؟ وضو ٹوٹنے کا, بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس مولانا, هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔