فَصْلٌ، الْأَسْئِلَةُ الْمُتَوَجِّهَةُ عَلَى الْقِيَاسِ ثَمَانِيَةٌ: الْمُمَانَعَةُ، وَالْقَوْلُ بِمُوجَبِ الْعِلَّةِ، وَالْقَلْبُ، وَالْعَكْسُ، وَفَسَادُ الْوَضْعِ، وَالْفَرْقُ، وَالنَّقْضُ، وَالْمُعَارَضَةُ۔ اس فصل کے اندر مصنف قیاس پر متوجہ ہونے والے سوالات ذکر کریں گے، یعنی قیاس پر ہونے والے اعتراضات ذکر کریں گے بھئی کہ قیاس پر کس طرح اعتراض کیا جائے گا بھئی۔ تو اس بحث کا تعلق دراصل مناظرے سے ہے بھئی۔ قدیم زمانے میں علماء کے مابین مناظرے ہوا کرتے تھے مسائل وغیرہ کے سلسلے میں۔ تو اب کوئی معلل کوئی قیاس کرتا ہے، تو اس کے قیاس پر کیسے اعتراض کیا جائے گا؟ اس کو کیسے رد کیا جائے گا؟ وہ ذکر کریں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فَالْأَسْئِلَةُ الْمُتَوَجِّهَةُ عَلَى الْقِيَاسِ ثَمَانِيَةٌ، وہ اعتراضات جو وارد ہوتے ہیں قیاس پر، قیاس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، ثَمَانِيَةٌ وہ اٹھ ہیں بھئی۔ الْمُمَانَعَةُ ایک ممانعت ہے، دوسرا القول بموجب العلة ہے، تیسرا قلب ہے، چوتھا عکس ہے، پانچواں فساد الوضع ہے، چھٹا فرق ہے، ساتواں نقض ہے اور اٹھواں معارضہ ہے بھئی۔ تو یہ اٹھ قسم کے اعتراضات قیاس پر وارد ہو سکتے ہیں بھئی۔ اب سب سے پہلے ممانعت کے بارے میں آپ کو بتلائیں گے بھئی۔ أَمَّا الْمُمَانَعَةُ فَنَوْعَانِ: أَحَدُهُمَا مَنْعُ الْوَصْفِ، وَالثَّانِي مَنْعُ الْحُكْمِ۔ ممانعت کہتے ہیں کہ معلل کی دلیل کے بعض مقدمات یا تمام مقدمات کو رد کرنا بھئی۔ ممانعت کسے کہتے ہیں؟ معلل کی دلیل کے بعض مقدمات یا تمام مقدمات کو رد کرنا۔ معلل تعلیل کرنے والا، فریقِ مخالف نے تعلیل کی بھئی اور کسی حکم کے لیے کی کوئی علت بیان کی بھئی، تو اب جو سائل ہے، معترض ہے، وہ اس کی دلیل کے بعض مقدمات کو یا تمام مقدمات کو کیا کر دیتا ہے؟ رد کر دیتا ہے بھئی۔ اسے کہتے ہیں ممانعت بھئی، ممانعت۔ اور پھر یہ ممانعت دو قسم پر ہے: ایک منع الوصف ہے اور ایک منع الحكم ہے بھئی۔ منع الوصف بھئی نام سے ظاہر ہے کہ وصف کا انکار کر دینا، اور منع الحكم نام سے ظاہر ہے کہ حکم کا انکار کر دینا بھئی۔ معلل نے، جو فریقِ مخالف ہے جس نے حکم کی علت بیان کی بھئی، تو وہ معلل، تو معلل نے حکم کی کوئی علت بیان کی بھئی، اور معترض اس کی اس علت کو رد کر دیتا ہے کہ علت یہ نہیں ہے بلکہ علت دوسرا وصف ہے۔ سمجھ میں آیا منع الوصف کسے کہتے ہیں؟ کہ معلل نے ایک وصف کو حکم کی علت قرار دیا، معترض کیا کرتا ہے؟ اس علت کا انکار کر دیتا ہے، اس کو رد کر دیتا ہے کہ یہ وصف علت نہیں ہے بلکہ دوسرا وصف کیا ہے؟ علت ہے۔ یہ منع الوصف ہے بھئی۔ اور منع الحكم کہ معلل نے ایک حکم ثابت کیا، معترض اور سائل کہتا ہے کہ ہمیں یہ حکم تسلیم نہیں جو آپ نے ثابت کیا ہے۔ ہمیں یہ حکم تسلیم نہیں جو آپ نے ثابت کیا ہے بلکہ حکم دوسرا ہے، حکم کیا ہے؟ دوسرا ہے۔ تو دیکھا، منع الوصف کے اندر اس وصف کے علت ہونے کا انکار کیا جاتا ہے اور منع الحكم کے اندر اس حکم کا کیا کیا جاتا ہے؟ انکار کیا جاتا ہے اور اسے رد کیا جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں أَمَّا الْمُمَانَعَةُ فَنَوْعَانِ، ممانعت میں نے کیا بتلایا بھئی؟ معلل کی دلیل کے بعض مقدمات یا تمام مقدمات کو کیا کر دینا؟ رد کر دینا۔ تو وہ ممانعت ہے بھئی۔ أَمَّا الْمُمَانَعَةُ فَنَوْعَانِ، پس بہر حال ممانعت جو ہے وہ دو قسم پر ہے، أَحَدُهُمَا مَنْعُ الْوَصْفِ، ایک منعِ وصف ہے اور دوسرا منعِ حکم ہے۔ منعِ وصف میں نے کیا بتلایا بھئی؟ ایک معلل نے کیا کیا تھا؟ ایک وصف کو حکم کی علت بتلایا تھا، آپ نے اس وصف کے علت ہونے کا انکار کر دیا کہ یہ وصف علت نہیں ہے بلکہ کوئی دوسرا وصف علت ہے۔ وَالثَّانِي مَنْعُ الْحُكْمِ، اور دوسرا کیا ہے؟ منعِ حکم۔ اور منعِ حکم میں نے کیا بتلایا کہ معلل نے ایک حکم ثابت کیا تھا، آپ کیا کرتے ہیں؟ اس حکم کا انکار کرتے ہیں کہ حکم یہ نہیں ہے بلکہ حکم دوسرا ہے۔ جی! اب سب کی مثالیں ذکر کریں گے مصنف بھئی۔ مِثَالُهُ فِي قَوْلِهِمْ صَدَقَةُ الْفِطْرِ وَجَبَتْ بِالْفِطْرِ فَلَا تَسْقُطُ بِمَوْتِهِ لَيْلَةَ الْفِطْرِ، قُلْنَا لَا نُسَلِّمُ وُجُوبَهَا بِالْفِطْرِ بَلْ عِنْدَنَا تَجِبُ بِرَأْسٍ يَمُونُهُ وَيَلِي عَلَيْهِ۔ اس کی مثال بھئی، یہ پہلی مثال ہے منع الوصف کی بھئی، جس میں معترض اور سائل کیا کرتا ہے؟ معلل نے جس وصف کو علت قرار دیا ہے، اس کے علت ہونے کا انکار کرتا ہے کہ یہ علت نہیں ہے یہ وصف، بلکہ کوئی دوسرا ہے۔ جیسے شوافع فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر کے وجوب کی علت فطر ہے۔ صدقہ فطر کے وجوب کی علت کیا ہے؟ فطر ہے۔ فطر بھئی روزے کی ضد ہے بھئی، فطر کیا ہے؟ روزے کی ضد۔ ایک ہے روزہ، اور جو غیر روزہ کی حالت ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ فطر کہتے ہیں۔ عجیب بات یہ، اردو میں اس کا کوئی متبادل لفظ نہیں بھئی، کوئی مترادف لفظ اردو میں نہیں ہے بھئی فطر کا۔ ہاں، بعض دوسری زبان، پنجابی یا سرائیکی وغیرہ میں ایک لفظ ہے "کھوجا" بھئی، کھوجا کا لفظ آپ نے سنا ہو یا نہ سنا ہو، یہ اس کا معنی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا روزہ ہوگا یا کھوجا ہوگا، اردو میں زیادہ استعمال نہیں۔ اردو میں اس کا کوئی مترادف لفظ نہیں ہے بھئی۔ بھئی، صدقہ فطر واجب ہے بھئی۔ ہر انسان پر کیا ہے؟ صدقہ فطر واجب ہے، اپنی طرف سے بھی دے گا اور جو اس کی پرورش، نگرانی میں ہیں، جو اس کی سرپرستی میں ہیں، غلام وغیرہ، باندیاں اور جو نابالغ بچے ہیں اس کے، ان سب کی طرف سے اس کو دینا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے گا؟ دینا پڑے گا، سب کی طرف سے۔ اب صدقہ فطر کے واجب ہونے میں تو ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ دونوں کا اتحاد ہے بھئی، دونوں کا اتفاق ہے بھئی۔ وہ بھی فرماتے ہیں صدقہ فطر کیا ہے؟ واجب، ہم بھی کہتے ہیں صدقہ فطر واجب۔ لیکن وہ اس کی علت بتلاتے ہیں کہ اس کی علت ہے فطر بھئی، اس کی علت کیا ہے؟ فطر ہے، فطر کے زمانے کو پا لینا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صدقہ فطر کا سبب جو ہے، اس کی علت جو ہے، فطر ہے۔ کیا ہے؟ فطر ہے۔ یعنی فطر کا پا لینا، کوئی کیا کرے بھئی؟ فطر کے زمانے کو پا لے تو اس پر صدقہ فطر واجب ہو جائے گا۔ کیا کر لے؟ تو صدقہ فطر کا سبب اور اس کی علت فطر ہے، تو جو فطر کو پا لے گا، اس پر کیا واجب ہو جائے گا؟ صدقہ فطر بھی واجب ہو جائے گا بھئی، صدقہ فطر بھی۔ اور فطر کا زمانہ شروع ہوتا ہے جیسے ہی رمضان کا زمانہ ختم ہو، اور رمضان کا زمانہ ختم ہوگا آخری روزے کے دن جب سورج غروب ہوگا۔ 29 رمضان یا 30 رمضان کو جیسے ہی سورج غروب ہوگا، معلوم ہوا ایامِ صیام گزر گئے بھئی، ایامِ صیام گزر گئے اور فطر کا زمانہ شروع ہوا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فطر سبب ہے، اور جس نے اس کو پا لیا اس پر کیا ہو جائے گا؟ صدقہ فطر واجب ہو جائے گا۔ لہٰذا کوئی بھی شخص جو اس وقت موجود ہو، وہ اس زمانے کو پا لے گا، اس پر صدقہ فطر واجب ہو جائے گا، اور پھر عید کی رات ہی، اسی رات اگر اس کا انتقال ہو جائے بھئی، اس کی، اس کا انتقال ہو جائے تو اس پر وجوب آ چکا، اس کی موت سے یہ وجوب ساقط نہیں ہوگا بھئی۔ اس کی موت کی وجہ سے یہ وجوب ساقط نہیں ہوگا، اس لیے کہ علت پائی گئی تو حکم بھی پایا جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ ہم کہتے ہیں بھئی، ہم معترض ہیں، سائل ہیں کہ ہمیں آپ کی یہ علت تسلیم نہیں! آپ نے صدقہ فطر کی کیا علت ذکر کی تھی؟ کس وصف کو علت قرار دیا؟ فطر کو علت قرار دیا، ہمیں آپ کی یہ علت تسلیم نہیں! اس کو ہم رد کرتے ہیں، بلکہ اس کی، اس حکم کی علت دوسرا وصف ہے، اور وہ کیا ہے؟ ایسا راس ہے جس کی انسان، جس کی کفالت کرتا ہے اور جس کے، جس کے امور کی نگہبانی اور نگرانی کرتا ہے بھئی۔ وہ راس ہے، سمجھ میں آیا؟ وہ سر ہے، یعنی وہ شخص مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ وہ شخص مراد ہے۔ کہ وہ شخص ہو، وہ راس ہو تو یہ، وہ سبب ہے وجوبِ صدقہ فطر کا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہمارے نزدیک ہم نے کیا کیا ہے؟ شوافع نے جو علت ذکر کی تھی مولانا، ہم نے اس علت ہی کا کیا کر دیا؟ انکار کر دیا! انہوں نے علت کس کو قرار دیا تھا؟ فطر کو، ہم نے انکار کر دیا کہ حکم کی علت فطر نہیں ہے بلکہ اس کی علت ایسا راس ہے، راس ایسا یعنی شخص ہے جس کی انسان کیا کرتا ہے؟ مشقت اٹھاتا ہے یعنی خرچہ اٹھاتا ہے، اس کی کفالت کرتا ہے اور اس پر کیا ہوتا ہے؟ نگران ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ تو جس پر بھی انسان نگران ہو اور جس کا خرچہ اٹھاتا ہو، اس کا کیا واجب ہو جائے گا اس پر؟ صدقہ فطر اس پر واجب ہو جائے گا۔ مثلاً بھئی انسان کس کس کا خرچہ اٹھاتا ہے؟ اس کے غلام ہیں، ان کا خرچہ بھی وہ اٹھاتا ہے، ان کا نگران بھی وہی، ذمہ دار بھی وہی، خرچہ وغیرہ اٹھاتا ہے۔ باندیاں ہیں، اسی طرح نابالغ اولاد ہے، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اہل و عیال جو ہیں، یہ ان سب کا صدقہ فطر کیا ہو جائے گا اس شخص پر؟ واجب ہو جائے گا۔ واجب۔ لہٰذا اس فطر کے زمانے سے پہلے بھئی، ان کے نزدیک، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک فطر کا زمانہ جس شخص نے بھی پا لیا، اس کی طرف سے کیا واجب ہو جائے گا؟ اس کا صدقہ فطر اس شخص پر واجب ہو جائے گا۔ مثلاً اس کا کوئی بچہ پیدا ہوا اس شام سے پہلے پہلے، سمجھ میں آیا؟ اس پر بھی کیا ہو جائے گا؟ اس کی طرف سے بھی صدقہ فطر واجب ہو جائے گا۔ اسی طرح کوئی شخص مسلمان ہوا بھئی اس شام سے پہلے پہلے، تو اس پر بھی کیا واجب ہو جائے گا؟ صدقہ فطر واجب ہو جائے گا۔ صورت؟ ہاں، اس کے بعد پیدا ہو تو پھر نہیں مولانا! وہ بچہ بھئی مغرب کے بعد پیدا ہوا يا وہ کافر مغرب کے بعد مسلمان ہوا، تو اب صدقہ فطر واجب نہیں، اس لیے کہ انہوں نے سبب کو نہیں پایا ان کے نزدیک، علت کو نہیں پایا، جب علت نہیں، یعنی فطر کے زمانے کو انہوں نے نہیں پایا وہ مغرب کا وقت تھا، اور تو اب ان پر صدقہ فطر بھی واجب نہیں۔ جبکہ ہمارے نزدیک بھئی صدقہ فطر کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ ایسا راس ہے جس کی انسان کیا کرتا ہے؟ ایسا شخص ہے، ایسا شخص ہے جس کی انسان کفالت کرتا ہے اور اس کے نگہبان و نگران ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا جی! اور نیز یہاں پر صدقة الفطر آیا، صدقہ کی اضافت ہو رہی ہے فطر کی جانب، کس کی جانب؟ صدقة الفطر، صدقہ مضاف ہے، الفطر مضاف الیہ ہے، اور یہ اضافت تخصیص کے لیے ہے۔ کس کے لیے ہے؟ تخصیص کے لیے ہے، تخصیص کے لیے۔ تو لہٰذا ہمارے نزدیک سبب تو وہ راس ہے۔ کیا ہے؟ وہ راس ہے، وہ شخص ہے جس کی انسان خرچہ اٹھاتا ہے، جس کی مشقت برداشت کرتا ہے، اس کی کفالت کرتا ہے، اس کے امور کا سرپرست و نگران ہوتا ہے۔ یہ سبب ہیں، اور صدقہ فطر میں صدقہ کی اضافت ہو رہی ہے فطر کی طرف، اور فطر کی وجہ سے، یہ اضافت کس لیے ہے؟ تخصیص کے لیے ہے۔ تو یہ راس جب فطر میں پائے جائیں گے تو کیا واجب ہو جائے گا؟ اور یہ فطر کے زمانے کا پتہ کب چلے گا؟ جی! فطر ضد ہے روزے کی، اور روزہ کب شروع ہوتا ہے؟ طلوعِ فجر کے وقت، لہٰذا فطر کا پتہ بھی کس وقت چلے گا؟ طلوعِ فجر کے وقت! لہٰذا طلوعِ فجر کے وقت جب یہ راس پایا جائے گا تو پھر کیا واجب ہو جائے گا؟ صدقہ فطر واجب ہو جائے گا۔ لہٰذا ہمارے نزدیک عید کے دن جو طلوعِ فجر جب ہوگی، صبحِ صادق جب ہوگی، تو اور یہ راس پایا جائے گا تو کیا واجب ہو جائے گا؟ صدقہ فطر واجب ہو جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں، اس سے پہلے جو ہے اگر کسی راس نے یہ وقت ہی نہیں پایا تو اس پر صدقہ فطر بھی واجب نہیں۔ اب اگر کوئی بچہ اسی رات مر گیا یا غلام مر گیا تو اس کی جانب سے واجب ہوگا صدقہ فطر؟ اس پر صدقہ فطر بھی واجب نہیں ہے، نہیں ہے۔ تو جو رات کو بچہ پیدا ہوا، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر صدقہ فطر واجب نہیں، اس لیے کہ اس نے سبب یعنی فطر کے زمانہ جب شروع ہو رہا تھا اس کو نہیں پایا، اور ہمارے نزدیک اس پر کیا ہو جائے گا صدقہ فطر؟ واجب ہو جائے گا، اس لیے کہ ہمارے نزدیک اصل سبب تو کیا ہے؟ وہ راس ہے، اور اس کی تخصیص ہے زمانہ فطر کے ساتھ، اور فطر کا پتہ کب چلتا ہے؟ جب روزہ شروع ہوتا ہے، تو لہٰذا جب فطر شروع، جب وہ وقت شروع ہوگا تو پتہ چلے گا کہ روزہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ فطر ہے، تو اس وقت پھر واجب ہو جائے گا بھئی۔ لہٰذا رات کو پیدا ہونے والے اس عید کی رات پیدا ہونے والے بچے پر ہمارے نزدیک کیا ہو جائے گا؟ اگلے صبح پھر واجب ہو جائے گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک واجب نہیں ہوگا بھئی۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں مِثَالُهُ، بھئی مثال اس کی یعنی منع الوصف کی مثال فِي قَوْلِهِمْ شوافع کے اس قول میں ہے: صَدَقَةُ الْفِطْرِ وَجَبَتْ بِالْفِطْرِ، کہ صدقہ فطر واجب ہوتا ہے فطر کے سبب سے، فَلَا تَسْقُطُ بِمَوْتِهِ لَيْلَةَ الْفِطْرِ، تو پس ساقط نہیں ہوتا اس شخص کی موت سے فطر کی رات میں۔ سمجھ میں آیا؟ ایک مرتبہ فطر کا وقت پا لیا تو اب رات میں جا کر فوت بھی ہو جائے تو ساقط نہیں ہوگا۔ جی، قلنا: ہم کہتے ہیں: لا نسلم، ہمیں یہ بات تسلیم نہیں، آپ نے جس وصف کو علت بنایا، اس کا اس وصف کا علت ہونا ہمیں تسلیم نہیں، لا نسلم وجوبہا بالفطر، ہمیں تسلیم نہیں ہے کہ اس کا وجوب فطر کے سبب سے ہے، بل عندنا تجب براس یمونہ ویلی علیہ، بلکہ ہمارے نزدیک صدقہ فطر واجب ہوتا ہے براس ایسے راس کی وجہ سے، بھئی! یعنی ایسے شخص کی وجہ سے، یمونہ، جس کی انسان مؤنت اٹھاتا ہے، مؤنت کہتے ہیں مشقت کو، بھئی! یعنی خرچہ وغیرہ اٹھاتا ہے، جس کی کفالت کرتا ہے، بلکہ ہمارے نزدیک واجب ہوتا ہے ایسے راس کی وجہ سے، ایسے شخص کی وجہ سے، یمونہ، جس کی انسان کفالت کرتا ہے، ویلی علیہ، اور اس پر ولی ہوتا ہے، یلی علیہ، اس پر ولی ہوتا ہے، یعنی اس پر کیا ہوتا ہے؟ نگہبان و نگران ہوتا ہے، اس کے امور سرانجام دیتا ہے۔ یہ ایک مثال تھی، بھئی! یہ پہلی مثال پر اعتراض ہوتا ہے، بھئی! پہلی مثال پر کیا ہے؟ اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے یہ مثال ذکر کی ہے قیاس کے لیے، اور یہ قیاس کی مثال نہیں بن سکتی، بھئی! اس لیے کہ قیاس کے لیے مقیس علیہ چاہیے، اور یہاں پر کوئی مقیس علیہ ذکر نہیں، بھئی! کوئی ذکر ہوا یہ مقیس علیہ ہے اور یہ مقیس ہے؟ یہاں کوئی مقیس علیہ ذکر نہیں ہوا، تو اسے قیاس کی مثال کے طور پر ذکر کرنا صحیح نہیں۔ جواب یہ، مولانا! کہ یہ قیاس کی مثال ہے، بھئی! اور مقیس علیہ وہ حقوق مالیہ ہیں، جن کا تحقق اپنے اسباب سے ہوتا ہے۔ مقیس علیہ کیا ہیں؟ وہ حقوق مالیہ ہیں، جن کا تحقق اپنے اسباب اور اپنی علتوں سے ہوتا ہے، بھئی! تو حقوق مالیہ جو ہیں، جب ان کی علت پائی جائے، تو وہ حق مالی بھی کیا ہو جاتا ہے؟ پایا جاتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ بھئی! صدقہ فطر بھی ایک حق مالی ہے، سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو وہ بھی حق مالی جیسے دیگر مالی حقوق کیا ہیں، جب ان کی علت پائی جائے، تو وہ ثابت ہو جاتے ہیں، تو صدقہ فطر کی بھی جب علت پائی جائے گی، تو صدقہ فطر بھی کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا، بھئی! جیسے مثلاً بیع کے اندر، آپ ایک شخص کے ساتھ بیع کرتے ہیں، ایجاب و قبول ہوتا ہے، ایجاب و قبول کرتے ہی آپ کیا بن گئے مبیع کے؟ مالک بن گئے، اور آپ پر کیا واجب ہو گئے؟ ثمن واجب ہو گئے، تو دیکھا! عقد کی عقد کی وجہ سے آپ پر ثمن واجب ہوئے، بھئی! کیا واجب ہوئے؟ تو یہ ثمن کس کا حق ہے بھئی اب؟ کس کو دینے پڑیں گے؟ کس کو دینے پڑیں گے؟ بائع کو دینے پڑیں گے، بھئی! آپ ہیں مشتری، آپ نے چیز خریدی، تو اب بائع کے حوالے کیا کرنا پڑیں گے؟ ثمن حوالے کرنا پڑیں گے، تو یہ اس کا حق ہے، اور یہ حق مالی کیوں ثابت ہوا؟ اس کی علت کیا ہے؟ عقد پایا گیا، عقد بیع، جب عقد بیع پایا گیا، تو اب آپ پر کیا ثابت ہو گیا اس کا ایک حق، حق مالی ثابت ہو گیا، کہ کیا اب آپ کو کیا دینا پڑیں گے؟ ثمن، صورت سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ تو جیسے ان دوسرے حقوق مالیہ جو ہیں، ان کی جب علت پائی جاتی ہے، تو وہ ثابت ہو جاتے ہیں، تو اسی طرح یہ بھی ایک حق مالی ہے، اس کا بھی جب سبب اور علت پایا جائے گا، تو کیا ہو جائے گا؟ اس کا یہ ثابت ہو جائے گا، بھئی! سمجھ میں آیا؟ جو یہ صدقہ فطر ہے، بھئی! اس کی جب علت پائی جائے گی، تو صدقہ فطر بھی کیا ہو جائے گا؟ واجب ہو جائے گا۔ یہ ایک جواب ہے، مولانا! اعتراض یہ ہوا تھا کہ اس کا یہ تو قیاس کی مثال نہیں بن سکتا، اس لیے کہ قیاس کے لیے کیا چاہیے؟ مقیس علیہ، میں نے بتلایا: مقیس علیہ یہاں پر کیا ہیں؟ تمام حقوق، وہ تمام حقوق مالیہ ہیں، جن کا تحقق اپنے اسباب اور اپنے علتوں سے ہوتا ہے۔ دوسرا جواب یہ کہ یہ ایسا قیاس ہے جو بغیر مقیس علیہ کے ہے، بھئی! یہ ایسا قیاس ہے جو بغیر مقیس علیہ کے ہے، یعنی اور اسے تعلیل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ علت بیان کرنا، حکم کسی حکم کی علت بیان کرنا، علت بیان کرنا۔ یاد رکھو! قیاس اور تعلیل میں فرق اعتباری ہے، بالذات فرق نہیں ہے، بھئی! اور تعلیل میں کیا ہے؟ اعتباری فرق ہے، بالذات فرق نہیں ہے، بھئی! تعلیل کہتے ہیں کہ کسی حکم کے لیے علت بیان کرنا، یہ کیا کہلاتی ہے؟ تعلیل، کسی حکم کے لیے علت بیان کرنا، یہ تعلیل کہلاتی ہے، اور پھر اس حکم کو اس علت کی وجہ سے کسی دوسری چیز کی طرف متعدی کرنا، یہ قیاس کہلاتا ہے، بھئی! تعلیل کے ذریعے کیا کیا جائے گا، بھئی؟ کسی حکم کی علت معلوم کی جائے گی، اور پھر اس علت کی وجہ سے حکم کو کسی دوسری چیز کی طرف کیا کیا جائے گا؟ متعدی کیا جائے گا، تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ تو یہ جو حکم کی علت معلوم کی، حکم کے لیے علت بیان کی، یہ کہلاتا ہے تعلیل، اور پھر اس کے حکم کو جو علت کی وجہ سے متعدی کر دیا غیر کی طرف، تو یہ غیر کی طرف متعدی کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ قیاس کہلاتا ہے، تو تعلیل ہے ابتداءً، اور قیاس ہے انتہاءً، بھئی! قیاس کیا ہے؟ تو ابتداءً تعلیل ہے، انتہاءً قیاس ہے، جیسے مولانا! شراب کو شریعت نے حرام قرار دیا، تو اس شراب کے لیے حرمت کی علت کیا بیان کی گئی؟ اس کے اس کا نشہ آور ہونا، تو یہ نشہ آور ہونا شراب کے حرام ہونے کی علت ہے، تو یہ علت بیان کرنا یہ تعلیل ہے، یہ کیا ہے؟ اور پھر اس حکم کو یعنی حرمت کے حکم کو آپ نے ہیروئن کی طرف بھی مثلاً متعدی کر دیا اسی علت کی بناء پر کہ ہیروئن بھی کیا ہے؟ نشہ آور ہے، تو یہ حکم اب کیا یہ اب کیا کہلائے گا؟ قیاس، تو ابتداءً جو علت بیان کی کہ شراب کیوں حرام ہے؟ کیونکہ اس کی علت کیا ہے؟ یہ نشہ آور ہے، یہ ہے تعلیل، اور پھر جب اس حرمت کے حکم کو متعدی کر دیا غیر کی طرف اسی علت کی وجہ سے، تو یہ کیا کہلائے گا؟ قیاس، تو ابتداءً ہے تعلیل، اور انتہاءً ہے قیاس، بھئی! تو یہ تعلیل ہوئی، بھئی! یہ جو مثال ذکر ہوئی کتاب میں، یہ تعلیل ہے۔ وکذلک اذا قیل قدر الزکاۃ واجب فی الذمۃ فلا یسقط بہلاک النصاب کالقضین۔ بھئی! یاد رکھو، مسئلہ یہ کہ زکوۃ جب واجب ہو جائے، بھئی! زکوۃ جب واجب ہو جائے، تو اس کی ادائیگی ضروری ہے، اس کی ادائیگی ضروری ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک اگر مال وہ نصاب ہلاک ہو گیا، تو زکوۃ بھی کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی، پھر ادا کرنا ضروری نہیں۔ تو زکوۃ ذمہ میں واجب ہو جاتی ہے، لیکن اگر نصاب ہلاک ہو جائے، تو زکوۃ کیا ہو جایا کرتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے، یہ ہمارے نزدیک، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کہ ایک دفعہ جب زکوۃ واجب ہو گئی، تو اب اگرچہ وہ نصاب ہلاک ہی کیوں نہ ہو جائے، وہ زکوۃ ساقط نہیں ہو گی، بلکہ ذمہ میں باقی رہے گی، بھئی! مسئلہ سمجھ میں آیا اختلاف، بھئی؟ تو وجہ اس کی امام شوافع فرماتے ہیں کہ بقائے زکوۃ کی علت جو ہے، بقائے زکوۃ کی علت جو ہے، وہ مقدار زکوۃ کا واجب فی الذمہ ہونا ہے۔ بقائے زکوۃ کی کیا علت وہ بیان کرتے ہیں، بھئی؟ مقدار زکوۃ کا واجب فی الذمہ ہونا، یعنی مقدار زکوۃ اس شخص کے ذمہ میں واجب، اس کے ذمہ میں مقدار زکوۃ کا واجب ہونا، یہ کس چیز کی علت ہے؟ بقائے زکوۃ کی، کیا علت بقائے زکوۃ کی کیا علت بیان کی شوافع نے، بھئی؟ مقدار زکوۃ کا واجب فی الذمہ ہونا، یہ علت بیان کی، بھئی! منع الوصف کی مثال چل رہی ہے، بھئی! ہم، بھئی! انکار کرتے ہیں کہ ہمیں یہ علت کیا ہے؟ جی؟ یہ علت تسلیم نہیں، اس کو ہم رد کرتے ہیں، بلکہ تو یہ وصف نہیں ہے حکم کی علت، بلکہ دوسرا وصف کیا ہے؟ حکم کی علت ہے، اور وہ کیا؟ مقدار زکوۃ کی ادا کا وجوب کا واجب فی الذمہ ہونا۔ امام شوافع کے نزدیک، مولانا! بقائے زکوۃ کی علت کیا ہے؟ مقدار زکوۃ کا واجب فی الذمہ ہونا، ہم نے اس علت کا انکار کیا کہ بقائے زکوۃ کی علت مقدار زکوۃ کا واجب فی الذمہ ہونا نہیں ہے، بلکہ بقائے زکوۃ کی علت مقدار زکوۃ ہی ادا کا واجب فی الذمہ ہونا ہے، مقدار زکوۃ کی ادا کا واجب فی الذمہ ہونا ہے، جی۔ جی، اور تو ادا واجب ہوئی، کیا واجب ہوئی؟ مقدار زکوۃ کی ادا واجب کا واجب ہونا، یہ علت ہے بقائے زکوۃ کی، اور جب نصاب ہلاک ہو گیا، تو ادا کی کوئی صورت نہ رہی، بھئی! ادا کی کوئی صورت بقائے زکوۃ کی علت کیا تھی؟ مقدار زکوۃ کی جی ادا کا واجب فی الذمہ ہونا، اور ادا تبھی ہو گی جب نصاب پایا جائے، اور اب نصاب ہی ہلاک ہو گیا، تو ادا کی کوئی صورت نہ رہی، لہٰذا اس سے زکوۃ کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ تو امام شوافع نے، بھئی! شوافع نے کہا تھا: بقائے زکوۃ کی علت کیا ہے؟ مقدار زکوۃ کا واجب فی الذمہ ہونا۔ اور اس کو قیاس کیا تھا انہوں نے کس کے اوپر؟ دین کے اوپر، بھئی! یاد رکھنا، دین پر قیاس کرتے ہیں، کہ دین بھی انسان کے ذمہ باقی رہتا ہے، ساقط نہیں ہوتا، جب تک ادا نہ کر دے، اور بقاء باقی رہے، اور اس کی علت کیا ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہ مقدار دین کا ذمہ کا واجب فی الذمہ ہونا، تو جیسے دین جو ہے، دین کی بقاء کی علت کیا ہے؟ مقدار دین کا واجب فی الذمہ ہونا، اسی طرح بقائے زکوۃ کی علت بھی کیا ہے؟ مقدار زکوۃ کا واجب فی الذمہ ہونا، ہم انکار کرتے ہیں کہ نہیں، بھئی! یہ علت نہیں ہے، بلکہ علت کیا ہے؟ مقدار زکوۃ کی ادا کا واجب فی الذمہ ہونا۔ وکذلک اذا قیل، اور اسی طرح جب کہا جائے: قدر الزکاۃ واجب فی الذمۃ، کہ زکوۃ کی مقدار واجب ہوتی ہے فی الذمہ، انسان کے ذمہ میں، بھئی! کہ زکوۃ کی مقدار واجب فی الذمۃ، یہ واجب فی الذمہ ہوتی ہے، فلا یسقط بہلاک النصاب، تو یہ ساقط نہیں ہوتی نصاب کے ہلاک ہونے کی وجہ سے، کالقضین، جیسے کیا؟ دین، دیکھا! دین پر قیاس کیا، بھئی! دین جیسے ساقط نہیں ہوتا، بھئی! مدیون کا چاہے سارا مال ہی ہلاک کیوں نہ ہو جائے، پھر بھی دین ساقط نہیں ہوتا، تو یہاں پر بھی نصاب چاہے سارا ہلاک ہی کیوں نہ ہو جائے، زکوۃ ایک دفعہ واجب ہو چکی ہے، تو اب دوبارہ ساقط نہیں ہو گی۔ قلنا، ہم جواب دیتے ہیں: لا نسلم، ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ ان قدر الزکاۃ واجب فی الذمۃ، کہ مقدار زکوۃ واجب فی الذمہ ہوتی ہے، بل اداؤہ واجب، بلکہ اس کی ادا واجب ہوتی ہے، سمجھ میں آیا، بھئی؟ اس کی یعنی مقدار زکوۃ کی ادا واجب فی الذمہ ہوتی ہے۔ ولئن قال، جی، تو دو مثالیں گزر گئیں، بھئی! منع وصف کی۔ اب اس پر اشکال ہوتا ہے۔ شوافع اعتراض کرتے ہیں، بھئی! اے احناف! آپ نے کیا کہا؟ دین کی وجہ سے کیا واجب ہوتی ہے؟ جی؟ دین، جیسے دین ساقط نہیں ہوتا، اسی طرح زکوۃ بھی ساقط نہیں ہونی چاہیے۔ شوافع کیا اعتراض کرتے ہیں کہ بھئی! اے احناف! ٹھیک ہے، چلو ہم آپ کی بات تسلیم کر لیتے ہیں۔ کیا تسلیم کر لیتے ہیں؟ کہ کیا آیا کرتا ہے؟ بقائے زکوۃ کی علت کیا ہے؟ مقدار زکوۃ کی ادا کا واجب فی الذمہ ہونا، یعنی وجوب ادا ہے، کیا ہے؟ وجوب ادا، تو بقائے زکوۃ کی علت وجوب ادا ہے، ہم آپ کی یہ بات تسلیم کر لیتے ہیں، چلو۔ تو پھر اے احناف! آپ کے نزدیک جب دائن مدیون سے مطالبہ کر لے، ایک شخص ہے، اس نے دوسرے سے قرض لیا، دوسرے کا دین ادا کرنا ہے، اور وہ دائن آ کر اس سے مطالبہ کرتا ہے کہ میرا جو دین ہے تم پر، اب وہ میرے حوالے کر دو، تو مطالبے کی وجہ سے اس پر کیا آ جایا کرتا ہے؟ وجوب ادا، اس پر بھی کیا جاتا ہے، مولانا؟ وجوب ادا، وجوب ادا آ جاتا ہے، اور جب اس پر وجوب ادا آتا ہے، تو دیکھو! یہاں بھی آپ نے کیا کہا زکوۃ کے مسئلے میں؟ کہ زکوۃ کی بقاء کی علت کیا ہے؟ وجوب ادا ہے، تو وہاں پر بھی دائن نے جب مطالبہ کر دیا، وہاں پر بھی کیا آ گیا؟ وجوب ادا آیا، اور اب آپ بتلائیے کہ کیا مدیون کے پاس اگر مال بالکل نہ ہو، تو کیا وہ دین اس سے ساقط ہو جائے گا؟ وہ دین اس سے ساقط نہیں ہو گا، چاہے وہ بالکل کُنگال ہی کیوں نہ ہو، اس کے ذمہ سے وہ دین ساقط نہیں، تو دیکھو! وہاں پر بھی وجوب ادا آیا اور وہ شخص کنگال ہے بالکل، پھر بھی دین ساقط نہیں ہو رہا، لہٰذا یہاں پر بھی جب وجوب ادا آ گیا زکوۃ کے اندر، جیسا کہ آپ نے کہا، تو پھر اب چاہے نصاب رہے یا نہ رہے، بھئی! زکوۃ کو ساقط نہیں ہونا چاہیے۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آ رہا ہے یا مشکل ہو گیا، بھئی؟ جی؟ زکوۃ میں بقائے زکوۃ کی کیا علت بیان کی آپ نے، بھئی؟ ہم نے، وجوب ادا، اور اسی طرح جب دائن آ کر مدیون سے مطالبہ کر دیتا ہے کہ میرا دین میرے حوالے کر دو، تو وہاں پر بھی کیا آ جاتا ہے؟ وجوب ادا، کہ ادا کرنا واجب ہو جاتا ہے آپ پر، بھئی! تو وجوب ادا آ گیا، اور یہ ساقط، تو دین، اور اس کے پاس اگر مال نہ ہو، تو کیا دین ساقط ہو گا؟ دین اس سے ساقط نہیں، تو یہاں پر بھی دیکھو! وجوب ادا آیا اور اس کے پاس مال نہیں ہے، لیکن دین پھر بھی ساقط نہیں ہو رہا، تو زکوۃ کے اندر بھی وجوب ادا آیا اور وہاں پر بھی اس کے پاس نصاب نہیں ہے، تو لہٰذا زکوۃ کو ساقط نہیں ہونا چاہیے۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ جی! ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، دائن جب آ کر مطالبہ کر لے، تو وجوب ادا نہیں آتا، بلکہ منع کرنا حرام ہو جاتا ہے۔ منع کرنا کیا ہو جاتا ہے؟ حرام، دائن نے آ کر کیا کیا؟ مطالبہ کیا، میرا دین میرے حوالے کرو، تو اس سے وجوب ادا نہیں آئے گا، یعنی ادا واجب نہیں ہوتی، بلکہ کیا واجب ہو جاتا ہے؟ منع کا، منع کرنا حرام ہو جاتا ہے، منع کرنا حرام ہو جاتا ہے، کیا معنیٰ؟ معنیٰ یہ ہے کہ اگر دائن اس مدیون کے مال میں سے اپنے دین کو لینا چاہے، تو مدیون کو، کہ مدیون کے لیے اسے منع کرنا حرام ہے۔ مدیون کے لیے اسے منع کرنا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ وہ آیا، مطالبہ اس نے کیا، تو اب ہم شوافع نے کیا اعتراض کیا کہ جب مطالبہ کیا، تو کیا آ گیا؟ وجوب ادا آ گیا، جب وجوب ادا آیا، تو اب اس کو ساقط، یہ ساقط جیسے یہ نہیں ہوا، اسی طرح زکوۃ بھی ساقط نہیں ہو گی، ہم کہتے ہیں: نہیں، بھئی! جب دائن مطالبہ کرے، تو وجوب ادا نہیں آئے گا، بلکہ کیا آئے گا؟ منع کرنا کیا ہو جائے گا؟ حرام ہو جائے گا، یعنی دائن اگر مدیون کے مال میں سے اپنا دین لینا چاہے، تو مدیون کے لیے حرام ہے کہ اس کو کیا کرے؟ منع کرے اور روکے اور رکاوٹ بنے بلکہ اس کو کیا کرنے دے؟ لے لینے دے، اس کو اپنا حصہ لے لینے دے، تو اس کے لیے ضروری ہوا تخلیہ، کیا ضروری ہوا؟ تخلیہ ضروری ہوا، تخلیہ، یعنی اپنے مال اور دائن کو تنہا چھوڑ دے، وہ وصول کرنا چاہے تو اس کو روکے نہ۔ بائی! وہی بات تھی نا، میں نے کہا اگر اس نے اگر مطالبہ کیا تو کیا واجب ہوا اس پر؟ منع کا منع کرنا اس کے لیے کیا ہوا؟ حرام ہو گیا، منع کرنا حرام ہوا اس کے لیے، یعنی یہ تخلیہ اس پر واجب ہوا، کیا واجب ہوا؟ تخلیہ واجب ہوا، اپنے مال کو اور دائن کو کیا کر دے؟ تنہا چھوڑ دے، وہ اس میں سے اپنا دائن وصول کرنا چاہتا ہے تو رکاوٹ نہ بنے، اس کو روکے نہ، روکنا کیا ہو گیا؟ منع کرنا کیا ہے؟ حرام ہے، تو روکے نہ، تخلیہ کر دے، سمجھ میں آئی بات بھئی! تخلیہ کا معنیٰ خالی چھوڑ دینا، تنہا چھوڑ دینا۔ تو لہٰذا جب وہ تنہا چھوڑ دے گا یعنی منع نہیں کرے گا، دائن اپنا دائن وصول کرنا چاہتا ہے اور یہ رکاوٹ نہیں بنتا، روکتا نہیں ہے، روکتا نہیں ہے، تو کہتے ہیں: اب چاہے وہ وصول کرے یا نہ کرے، یہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے گا، ذمہ داری سے نکل جائے گا، بھئی! صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ اس کے ذمہ کیا تھا؟ ادا واجب نہیں تھی بلکہ اس کے ذمہ کیا واجب ہوا؟ تخلیہ واجب ہوا، بھئی! اس کو روکے نہ، منع نہ کرے، وہ اس کے مال میں سے اپنا دائن وصول کرنا چاہتا ہے، یہ اس کو روکے نہ روکے، بھئی! تو جب اس یہ رکاوٹ نہیں بنا، اس نے تخلیہ کر دیا، وہ لینا چاہتا ہے، لے سکتا ہے، اب وہ چاہے لے یا نہ لے، اس کی ذمہ داری کیا ہو گئی؟ پوری ہو گئی، ذمہ داری کیا ہوئی؟ پوری ہو گئی۔ ولئن قال الواجب اداؤہ فلا يسقط بالهلاك كالدين، اور اگر یہ کہا جائے کہ واجب وہ کیا ہے؟ اس مقدارِ زکوۃ کا ادا کرنا ہے، وہی اعتراض ذکر کر رہے ہیں کہ واجب جو ہے اگر مقدارِ زکوۃ کا ادا کرنا ہے، فلا يسقط بالهلاك، تو بھی وہ ہلاکت کی وجہ سے ساقط نہیں ہو گی، اے احناف! آپ نے کیا علت ذکر کی بقائے زکوۃ کی؟ مقدارِ زکوۃ کا کی مقدارِ زکوۃ کی کی ادا کا واجب ہونا، اگر اس کی ادا بھی واجب ہو تو بھی ہلاکت کی وجہ سے اس کو ساقط نہیں ہونا چاہیے، كالدين بعد المطالبة، جیسے کیا ہوتا ہے؟ جیسے دائن مطالبے کے بعد کہ اس کے اندر بھی ادا واجب ہو جاتی ہے اور اگر مال نہ ہو، پھر بھی وہ ساقط نہیں ہوتا، ہم کہتے ہیں: لا نسلم ان الاداء واجب فی صورت الدين، ہم کہتے ہیں: ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ ادا واجب ہے دائن کی صورت میں، بل حرم المنع، بلکہ منع کرنا کیا ہے؟ وہ حرام ہو جاتا ہے، حتی يخرج عن العهدة بالتخلية، یہاں تک کہ یہ نکل جاتا ہے مدیون جو ہے، یہ نکل جاتا ہے عن العهدة، کس سے؟ اپنی ذمہ داری سے، بالتخلية، کس کے ذریعے؟ تخلیے کے ذریعے، کہ اس کو رکاوٹ نہ بنے، اب وہ لے یا نہ لے، بس یہ کیا ہو گیا؟ اس کی ذمہ داری ختم ہوئی۔ وہذا من قبيل منع الحكم، اور یہ کس قبیل سے ہے؟ منع یہ منعِ حکم کی قبیل سے ہے، بھئی! بائی! مثالیں کس کی چل رہی ہیں، بھئی؟ منعِ وصف کی مثالیں چل رہی ہیں، درمیان آخر میں ایک اعتراض اور اس کا جواب ذکر ہوا، بھئی! یہ جو اعتراض اور جواب ذکر ہوا، کہتے ہیں: یہ کس قبیل سے ہے؟ منعِ حکم کی قبیل سے ہے، منعِ وصف کی قبیل سے منعِ حکم کی قبیل سے کیسے ہے، بھئی؟ منعِ حکم میں کیا کیا جاتا ہے؟ علت کا انکار ہوتا ہے یا حکم کا انکار ہوتا ہے؟ حکم کا انکار ہوتا ہے، تو یہاں بھی حکم کا انکار ہو رہا ہے، کیسے؟ بھئی! انہوں نے کیا کہا کہ جب دائن مطالبہ کرے، تو کیا حکم لگایا؟ وجوبِ ادا، انہوں نے کیا کہا تھا شوافع نے، بھئی؟ کہ جب دائن آ کر مطالبہ کر لے، تو کیا واجب ہو جاتی ہے؟ ادا، تو دیکھا! مطالبہِ دائن ہوا علت اور حکم کیا آیا؟ وجوبِ ادا، اس نے مطالبہ کیا، تو کیا آیا؟ وجوبِ ادا، تو وجوبِ ادا حکم بنایا انہوں نے، ہم نے اس وجوبِ ادا کا انکار کیا کہ وجوبِ ادا حکم نہیں ہے بلکہ حکم کیا ہے؟ تخلیہ ہے، کیا ہے؟ تخلیہ ہے، تو یہ منعِ حکم ہوا یا نہیں، بھئی؟ حکم کا انکار کیا ہے اس میں، صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو کہتے ہیں: وہذا من قبيل منع الحكم، اور یہ منعِ حکم کی قبیل سے ہے۔ وکذلک اذا قال المسح رکن فی باب الوضوء فليسن تسليسه كالغسل، قلنا: لا نسلم ان التسليس مسنون فی الغسل بل اطالة الفعل۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسح تین دفعہ کرنا مسنون ہے، بھئی! وضو کے اندر مسح کتنی دفعہ کرنا مسنون ہے سر کا؟ تین مرتبہ سر کا مسح کرنا مسنون ہے، سنت ہے، سنت ہے، بھئی! وہ اس کو قیاس کرتے ہیں اعضائے مغسولہ پر، بھئی! اعضائے مغسولہ پر۔ وہ اعضاء جن کو دھویا جاتا ہے، ان کے اندر سنت کیا ہے؟ تو جیسے وہ وضو کا رکن ہیں، اسی طرح مسح بھی کیا ہے وضو کا؟ اور جب ان کے اندر تثلیث مسنون ہے، تو اس وضو کے اس مسح کے اندر بھی کیا مسنون ہوئی؟ تثلیث، تو دیکھا! انہوں نے مسح کو باقی اعضائے مغسولہ پر کیا کیا؟ قیاس کیا، اور اس تثلیث کو مسنون قرار دیا مسح کے اندر بھی۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ بھئی! آپ نے کیا کہا؟ آپ نے مسح کو کس پر قیاس کیا؟ اعضائے مغسولہ پر، اور اعضائے مغسولہ میں جیسے کیا تثلیث مسنون ہے، تو مسح کے اندر بھی کیا قرار دے دی؟ تثلیث مسنون قرار دے دی۔ ہم بھئی! انکار کرتے ہیں، بھئی! کہ اس حکم کا انکار کرتے ہیں، کیا حکم آپ نے مسح کی تثلیث ثابت کی؟ ہمیں یہ حکم تسلیم نہیں، مسح کے اندر تثلیث مسنون نہیں ہے، ہمیں یہ حکم آپ کا تسلیم نہیں، دیکھا! یہ منعِ حکم کی مثال چل پڑی۔ کیا ذکر کیا، بھئی؟ انہوں نے مسح کے لیے میں کے لیے کیا حکم ثابت کیا کہ اس میں تثلیث مسنون ہے، ہم نے اس حکم کا انکار کر دیا کہ مسح کے اندر تثلیث مسنون نہیں ہے۔ وجہ کیا ہے؟ ہم کہتے ہیں: اس لیے کہ یہ جو اعضائے مغسولہ کے اندر آپ نے کہا تثلیث مسنون ہے، بھئی! تثلیث کیا ہے؟ تین مرتبہ سرانجام دے کرنا اس فعل کو یہ مسنون ہے، ہم کہتے ہیں: بھئی! یہ اعضائے مغسولہ کے اندر بھی تین مرتبہ دھونا سنتِ مقصودہ نہیں ہے، تین مرتبہ دھونا آپ نے کیا کہا، بھئی؟ دھونے والے اعضاء کو تین تین دفعہ دھویا جاتا ہے اور یہ تین دفعہ دھونا سنت ہے، تو مسح کے اندر بھی تین مرتبہ مسح کرنا، ہم کہتے ہیں: بھئی! یہ تین مرتبہ اعضاء کا دھونا یہ سنتِ مقصودہ نہیں ہے، سنتِ مقصودہ نہیں ہے۔ بلکہ یاد رکھو! یہ جو سنت اور واجب ہوتے ہیں، یہ مکملاتِ فرض ہوتے ہیں، سنت اور واجب کیا ہوتے ہیں؟ مکملاتِ فرض ہوتے ہیں، ان سے فرضوں کی تکمیل ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ یہ سنتیں کس لیے مشروع ہوئی ہیں؟ واجب کس لیے مشروع ہوئے ہیں؟ تاکہ فرض کے اندر کوئی کمی آ گئی ہو، تو اس کمی کو کس یہ وہ کمی کیا ہو جائے اس کے ذریعے؟ پوری ہو جائے، تو وضو اعضائے مغسولہ کے اندر ان کا تین مرتبہ دھونا یہ سنتِ مقصودہ نہیں، اس لیے کہ سنت جو ہے یہ مشروع ہے کس لیے؟ کہ اس کے ذریعے کیا ہوتی ہے؟ فرضوں کی تکمیل ہوتی ہے، فرض پوری طرح ادا ہو جایا کرتا ہے، اس لیے اس کو مشروع کیا گیا تاکہ فرض میں کوئی کمی نہ رہ جائے، پوری طرح وہ ادا ہو جائے، ادا ہو جائے۔ جی، تو چنانچہ سنت یہ ہے، سنتِ مقصودہ، کہ اس فعل کو لمبا کر دیا جائے، بھئی! اس فعل کو کیا کر دیا جائے؟ اس فعل کو محلِ فرض میں لمبا کر دیا جائے، بھئی! سنتِ مقصودہ کیا ہے؟ فعل کو لمبا کرنا محلِ فرض میں، تاکہ وہ مقدارِ فرض پر زائد ہو جائے، کیا زائد ہو جائے؟ فعل کو لمبا کرنا محلِ فرض کے اندر مقدارِ فرض پر بڑھاتے ہوئے، تاکہ فرض اچھی طرح ادا ہو جائے، تاکہ فرض کیا ہو جائے؟ اچھی طرح ادا ہو جائے۔ یعنی مقدارِ مفروض پر بڑھا دیا جائے، بھئی! تاکہ فرض اچھی طرح ادا ہو جائے، تاکہ فرض کیا ہو جائے؟ اچھی طرح ادا ہو جائے۔ محلِ فرض غور سے سنو، بھئی! یہ ذرا مشکل بات ہے۔ محلِ فرض ہے، بھئی! اس محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے اس فعل کو لمبا کر دیا جائے، کیا کر دیا جائے اس فعل کو؟ محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے اس فرض اس فعل کو کیا کر دیا جائے؟ تاکہ فرض اچھی طرح ادا ہو جائے، تاکہ فرض کیا ہو جائے؟ اچھی طرح ادا ہو جائے، یہ سنتِ مقصودہ ہے، یہ کیا ہے؟ تو وضو کے اندر یہ تثلیث سنتِ مقصودہ نہیں ہے بلکہ سنتِ مقصودہ ہے وہ فعل کو لمبا کرنا، بلکہ مسنون کیا ہے؟ فعل کو لمبا کرنا محلِ فرض میں، تاکہ وہ مقدارِ فرض پر زائد ہو جائے، کیا زائد ہو جائے؟ فعل کو لمبا کرنا محلِ فرض کے اندر مقدارِ فرض پر بڑھاتے ہوئے، تاکہ فرض اچھی طرح ادا ہو جائے، تاکہ فرض کیا ہو جائے؟ اچھی طرح ادا ہو جائے، تو فعل کو لمبا کرنا اور وہ لمبا کرنا کس میں ہو؟ محلِ فرض کے اندر ہی ہو اور مقدارِ فرض سے زائد ہو، تو مقدارِ فرض سے بڑھاتے ہوئے فعل کو لمبا کر دینا تاکہ فرض اچھی طرح ادا ہو جائے، اور یہ فعل کو لمبا کرنا کس کے اندر ہونا چاہیے؟ محلِ فرض کے اندر ہی اندر ہی ہونا چاہیے، محلِ فرض سے خارج نہیں ہونا چاہیے۔ تو اعضائے مغسولہ کے اندر بھی سنتِ مقصودہ تثلیث تین مرتبہ دھونا نہیں ہے بلکہ یہ سنتیں جو ہیں، مشروع ہوتی ہیں کس لیے؟ کہ فرض کی تکمیل ہو جائے اچھی طرح، اور اس کا کیا طریقہ ہے؟ کہ محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے اس فعل کو کیا کر دیا جائے؟ لمبا کر دیا جائے، دیکھو! مثال سے بات سمجھ میں آئے گی، جیسے قرات، بھئی! قرات کتنی فرض ہے؟ تین رکعت، تین چھوٹی آیتیں یا ایک لمبی آیت، بھئی! یہ فرض ہے، بھئی! اب سنت کیا ہے؟ کہ قرات تھوڑی طویل ہو، سنت کیا ہے؟ پوری ایک لمبی آیت پڑھ لیں، نہیں، بھئی! یا صرف پوری کیا پڑھ لیں؟ کتنی تین چھوٹی آیتیں پڑھ لیں، نہیں، بلکہ سنت کیا ہے؟ تین چھوٹی آیتیں یا ایک لمبی آیت پڑھنا تو فرض ہے، سنت کیا ہے؟ کہ قرات ذرا طویل ہو، تو دیکھو! یہاں پر محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے اس فعل کو کیا کر دیا گیا؟ لمبا کر دیا گیا، وہ جو فرض فعل تھا، فرض کیا تھا؟ قرات فرض تھی، اسی قرات کو کیا کر دیا گیا؟ لمبا کر دیا گیا، اور لمبا کرنے سے کیا محلِ فرض سے ہم خارج ہوئے؟ اسی قرات کے اندر ہی تو ہیں ہم، بھئی! اس سے خارج نہیں ہوئے۔ تو اس فعل کو لمبا کر دینا محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے اس سے خارج نہ ہو، اسی طرح رکوع ہے، مولانا! رکوع میں بھی سنت کیا ہے؟ اس کو تھوڑا لمبا کیا جائے، سجدے میں بھی سنت کیا ہے؟ اطمینان سے ہو، بھئی! سجدہ لمبا ہو، بھئی! سجدہ لمبا ہو، سجدہ لمبا، تو دیکھو! جب سجدے کو لمبا کیا، تو اطالتِ فعل آیا، فعل کا کیا پایا گیا؟ لمبا کرنا، اور محلِ فرض کے اندر ہے یا محلِ فرض سے خارج ہے، بھئی؟ محلِ فرض کے اندر ہے، اسی کیا کیا سجدے ہی کو طویل کیا ہے، سجدے سے ہم خارج نہیں، اسی رکوع ہی کو لمبا کیا ہے، اس رکوع سے ہم خارج نہیں، تو سنتِ مقصودہ کیا ہوئی، بھئی؟ محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے فعل کو کیا کر دیا جائے؟ لمبا کر دیا جائے، اور اعضائے مغسولہ کے اندر چونکہ یہ ممکن نہیں تھا، اس لیے تثلیث کو سنت قرار دیا گیا، کس پر عمل کیا گیا پھر؟ دیکھو! اعضائے مغسولہ میں یہ کیسے ممکن نہیں تھا، بھئی! مثلاً وضو کے اندر فرض مقدار کتنا ہاتھ کا دھونا ہے، بھئی؟ کہنیوں تک دھونا ہے، اب جب ایک مرتبہ دھو لیا گیا کہنیوں تک، تو فرض کیا ہو گیا؟ ادا ہو گیا، جب فرض ادا ہو گیا، اب سنت کیا ہے؟ اسی فعل کو کیا کرنا چاہیے؟ لمبا کرنا چاہیے، لیکن محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے، تو اب محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے اس فعل کو لمبا کرنا ممکن ہے ہی نہیں، ہاتھ تو ہم کہنی تک سارا دھو چکے ہیں، اسی کے اندر مزید طول ہو سکتا ہے؟ نہیں، ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ کہنی سے آگے بھی ہم دھو لیں، کیا کر لیں؟ کہنی سے آگے بھی دھو لیں، لیکن اگر کہنی سے آگے دھوئیں گے، تو یہ ہم محلِ فرض کے اندر رہے یا اس سے خارج ہو گئے؟ ہم تو اس سے خارج ہو گئے، بھئی! فرض تو کدھر تک تھی؟ کہنی تک، اور ہم تو کہنی سے بھی اوپر چلے گئے، لہٰذا یہاں پر اطالہ ممکن ہے، فعل کو لمبا کرنا ممکن ہے؟ نہیں، تو سنتِ مقصودہ تھی محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے فعل کو لمبا کیا جائے، اور یہاں پر چونکہ فعل کو لمبا کرنا محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے ممکن نہیں ممکن نہیں تھا، تو اس لیے یہاں پر کیا کس کو سنت قرار دیا گیا؟ تین مرتبہ دھونے کو سنت قرار دیا گیا، کیونکہ اور کوئی صورت ممکن نہیں، تو تین مرتبہ دھونا سنت ہوا، تاکہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے، اچھی طرح فرض کیا ہو جائے؟ ادا ہو جائے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ہم نے ثابت کر دیا، بھئی! کہ اعضائے مغسولہ کے اندر بھی سنتِ مقصودہ تثلیث نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ اطالة الفعل ہے، کیا ہے؟ اطالة الفعل ہے، فعل کو لمبا کرنا ہے فی محل فرض، اور چونکہ وہ یہاں ممکن نہیں تھا، اس لیے اس کے قائم مقام کس کو بنا دیا گیا؟ تثلیث کو، تثلیث پر عمل کر لیا گیا، صورت سمجھ میں آئی؟ اور مسحِ راس کے اندر اطالة الفعل ممکن ہے، مسحِ راس میں کیا ہے اطالة الفعل؟ اس لیے کہ ہمارے نزدیک سر میں کتنی مقدار کا مسح فرض ہے، بھئی؟ جی؟ جی، مقدارِ ناصیہ ہمارے نزدیک فرض مقدار ہے، بھئی! تقریباً چوتھائی سر کے قریب، تو یہ فرض ہے، اور یہاں پر اور محلِ مسح کیا ہے؟ کہاں پر مسح ہو گا؟ سر پر، تو محلِ مسح ہے راس، تو محلِ فرض کے اندر رہتے ہوئے اطالة الفعل یہاں ممکن تھا، فعل کو لمبا کرنا ممکن ہے، اور وہ کس طرح؟ کہ پورے سر کا کیا کر لیا جائے؟ مسح کر لیا جائے، تو جب پورے سر کا مسح ہم کریں گے، تو دیکھو! محلِ فرض سے ہم خارج بھی نہیں ہوئے اور وہ فعل بھی کیا ہو گیا؟ لمبا ہو گیا، فرض اچھی طرح پورا ہو گیا، تو لہٰذا وہاں پر تثلیث، مسح کے اندر تثلیث نہیں مسنون بلکہ کیا مسنون ہے؟ پورے سر کا مسح کرنا مسنون ہوا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ اور اسی طرح شوافع کے نزدیک تو ایک بال یا تین بالوں پر کیا ہے مسح فرض ہے، تو وہ بھی کیا کر سکتے ہیں؟ یہاں اطالة الفعل کر سکتے ہیں کہ پورے سر کا کیا کر لیں مسح میں؟ احاطہ کر لیں، پورے سر کا کیا کر لیں؟ تو وہاں اعضائے مغسولہ میں اطالة الفعل ممکن نہیں تھا اور یہاں تو اطالة الفعل ممکن ہے، لہٰذا یہاں تثلیث مسنون نہیں ہو گی بلکہ یہاں پر پورے سر کا مسح کرنا مسنون ہو گا، بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ وکذلک اذا قال، اور اسی طرح اگر کہا کسی نے کہ المسح رکن فی باب الوضوء، کہ مسح جو ہے رکن ہے وضو کے باب میں، فليسن تسليسه، تو اس مسح کی تثلیث کیا ہو گی؟ تثلیث مسنونہ ہو گی، مسنون ہو گی، كالغسل، جیسے کہ غسل دھونے میں ہے، وہاں تثلیث مسنون ہے، تو مسح میں بھی تثلیث کیا ہو گی؟ قلنا، ہم جواب دیتے ہیں: لا نسلم ان التسليس مسنون فی الغسل، ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ تثلیث مسنون ہے دھونے میں، بل اطالة الفعل، بھئی! آپ کی کتابوں میں کیا لکھا ہے؟ اعضاء الفعل غلط ہے، کتابت کی غلطی ہے، بھئی! اطالہ طاء کے ساتھ ہے، طاء، بھئی! اطالة الفعل، اطالة الفعل۔ تو ہم کہتے ہیں: یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ تثلیث مسنون ہے غسل میں، بل اطالة الفعل فی محل الفرض، بلکہ فعل کو لمبا کرنا محلِ فرض کے اندر، زيادة علی المفروض، زیادہ کرتے ہوئے کس پر؟ فرض مقدار پر زیادہ کرتے ہوئے اس فعل کو طویل کرنا، سمجھ میں آیا، بھئی؟ كاطالة القيام، جیسے کیا ہے؟ جیسے قیام کو لمبا کرنا ہے، تو دیکھا! اس فرض مقدار پر بڑھاتے ہوئے اس فرض، بھئی! قیام کیا تھا، بھئی؟ کتنا قیام ہونا چاہیے؟ جی! جتنے میں کم از کم کتنی آیتیں پڑھی جائیں؟ تین آیتیں، اتنا ہی، بھئی! جتنی آیتیں فرض، اتنا ہی قیام ضروری ہے اس کے لیے، تو یہ ضروری تھا، لیکن قیام کو کیا کیا جائے؟ طویل کیا جائے، اس فرض مقدار سے زائد ہو جائے اور رہے کس میں محلِ فرض کے اندر ہی، والقراة فی باب الصلاة، اور قرات ہیں، مولانا! صلاۃ کے باب میں، غير ان الاطالة فی باب الغسل لا يتصور، مگر یہ کہ فعل کا لمبا کرنا، اطالہ، فعل کا لمبا کرنا، فی باب الغسل لا يتصور، غسل کے باب میں اس کا تصور نہیں ہو سکتا، کیونکہ پھر تو ہم کیا ہو جائیں گے محلِ فرض سے؟ خارج ہو جائیں گے، وہاں تو ممکن ہی نہیں ہے فعل کا لمبا کرنا، الا بالتكرار، مگر کس کے ساتھ؟ تکرار کے ذریعے، لاستيعاب الفعل للمحل، تاکہ استیعاب کر لے فعل، گھیر لے وہ فعل للمحل، کس کو؟ استیعاب کا معنیٰ گھیر لینا، احاطہ کر لینا، بھئی! سمجھ میں آیا، تاکہ کوئی جگہ رہ نہ جائے۔ وبمثله نقول فی باب المسح، اور اسی کے مثال ہم کہتے ہیں مسح کے باب میں بھی، بان الاطالة مسنونة بطريق الاستيعاب، کہ اطالہ فعل کا کیا کرنا؟ لمبا کرنا مسنون ہے بطريق الاستيعاب، کس طریقے پر؟ استیعاب کے طریقے پر، یعنی احاطے کے طریقے پر، استیعاب یعنی احاطے کے طریقے پر، تاکہ وہ مسح پورے سر کا کیا کر لے؟ احاطہ کر لے، پورا سمجھ میں آ گئی؟ تو اس مسح میں اطالہ کیا جائے گا اس طریقے پر کہ وہ کیا کر لے پورے سر کا؟ احاطہ، یعنی پورے سر کو گھیر لے وہ مسح، تو پورے سر کا مسح یہ مسنون ہو جائے گا، مولانا! یہ ہمارے نزدیک مسنون ہے، بات سمجھ میں آئی سب کو، بھئی؟ وکذلک يقال التقابض، التقابض فی بيع الطعام بالطعام شرط كالنقود، قلنا: لا نسلم ان التقابض شرط فی باب النقود، بل الشرط تعيينها كيلا يكون بيع النسيئة بالنسيئة، غير ان النقود لا تتعين الا بالقبض عندنا۔ امام، بھئی! دوسری مثال ذکر کر رہے ہیں، بھئی! بلکہ تیسری مثال یہ بن جاتی ہے منعِ حکم کی، بھئی! تیسری مثال، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بھئی! کہ بيع الطعام بالطعام جب ہو، غلے کی بیع غلے کے بدلے ہو، تو قبضہ کرنا شرط ہے، بھئی! غلے کی بیع کیا ہے؟ ایک طرف بھی غلہ ہے، دوسری طرف سے بھی غلہ ہے، تو اس صورت میں قبضہ کرنا شرط ہے، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں کس پر؟ بيع صرف پر، کس پر؟ بيع صرف جانتے ہو جس میں ایک جانب بھی کیا ہوں؟ سونا، چاندی یا کرنسی وغیرہ ہو اور دوسری جانب بھی کیا ہو؟ سونا، چاندی یا کرنسی ہو، سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو یہ بیع صرف کہلاتی ہے، مثلاً آپ دیتے ہیں دوسرے کو ہزار درہم اور اس سے لے لیتے ہیں سو دینار، یہ کون سی بیع ہوئی؟ بیع صرف، اور یاد رکھو! بیع صرف کے اندر شرط ہے قبضہ عوضین پر مجلس کے اندر، دونوں عوضین پر اسی مجلس کے اندر کیا ہو جانا کیا ہونا چاہیے؟ قبضہ ہونا چاہیے، بھئی! قبضہ، اگر قبضہ نہیں پایا گیا، تو یہ کیا ہو جائے گی بیع؟ فاسد ہو جائے گی، بھئی! صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ، بھئی! فرماتے ہیں کہ غلے کی بیع غلے کے بدلے میں بھی جب ہو گی، تو اس وقت بھی قبضہ کیا ہے؟ دونوں عوضین پر قبضہ اسی مجلس میں شرط ہے، بھئی! آپ نے گندم دی اور دوسرے سے مثلاً گندم ہی لی یا چاول لے لیے، تو قبضہ کرنا شرط ہے اسی مجلس کے اندر، بھئی! وہ اس کو قیاس کرتے ہیں بیع صرف میں، بیع صرف میں جیسے قبضہ شرط، یہاں پر بھی کیا ہو گا؟ قبضہ شرط ہو گا، اور علت کیا ہے دونوں میں علتِ جامعہ؟ کہ دونوں اموالِ ربویہ میں سے ہیں، کس میں سے ہیں؟ ان اموال میں سے ہیں جن میں ربا آیا کرتا ہے، بھئی! اموالِ ربویہ میں سے، یہ بھی ربا والے مال میں سے اگر اس میں تقابض نہ کیا ہو اور اسی طرح وہ بھی کس میں سے ہے؟ اموالِ ربویہ میں سے ہے، ربا جن میں سود جاری ہوتا ہے۔ تو کیا حکم بیان کیا، بھئی! امامِ شافعی رحمہ اللہ نے؟ غلے کی بیع غلے کے بدلے ہو، تو کیا شرط ہے؟ قبضہ دونوں تج دونوں عوضین پر اسی مجلس میں قبضہ شرط ہے، یہ حکم بیان کیا، ہم نے کہا: لا نسلم، ہمیں آپ کا یہ حکم تسلیم نہیں کہ قبضہ شرط ہے۔ جی، بلکہ شرط اس کا متعین کرنا ہے، شرط کیا ہے؟ قبضہ نہیں شرط، متعین کرنا، یہ والا غلہ ہے یہ جو میں نے آپ کو بیچا ہے، دوسرا بھی متعین کر دے، یہ والا غلہ ہے جو میں نے آپ کو بیچا ہے، بیچا ہے، اور باقی وہ جو بیع صرف کے اندر ہم نے کیا کہا تھا کہ قبضہ شرط ہے؟ کہتے ہیں: اس کی ہم نے اس کی وجہ جی! یوں کر لو، اعتراض بنا لو، بھئی! انہوں نے کہا: اچھا! یہ تو مالِ ربویہ میں سے ہے، تو یہاں پر آپ تعین کو شرط قرار دے رہے ہیں اور صرف کے اندر آپ نے کس کو قرار دیا، بھئی؟ قبضے کو شرط، بیع صرف میں آپ کیا فرماتے ہیں احناف؟ کہ قبضہ شرط ہے، اور وہ اموالِ رب جیسے وہ اموالِ ربویہ میں سے ہیں، یہ یہ بھی کیا ہے؟ یہ غلے کی بیع غلے کے بدلے، یہ بھی اموالِ ربویہ میں سے ہے، لہٰذا اس میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ یہاں آپ تعین کو قرار دے رہے ہیں، یہ کیسی بات ہوئی؟ ہم جواب دیتے ہیں کہ وہاں بھی دراصل تعین ضروری ہے، تعین شرط ہے، کیا ہے؟ تعین شرط ہے، لیکن یاد رکھو! ہمارے نزدیک یہ جو درہم و دنانیر وغیرہ ہیں، ثمن جو ہیں، یہ متعین کرنے سے متعین ہوتے نہیں، تو شرط تو بیع صرف کے اندر بھی یہی تھی کہ درہم و دنانیر کو کیا کر لیا جائے؟ متعین کر لیا جائے، کافی ہے، یہ جائز ہونی چاہیے، لیکن بات یہ ہے کہ ہمارے نزدیک درہم و دنانیر کیا ہیں؟ متعین کرنے سے متعین ہوتے نہیں، اس لیے کہ یہ مقصود نہیں ہیں، یہ تو صرف وسیلہ ہے، ان کے ذریعے دوسری چیزوں کو کیا کیا جاتا ہے؟ حاصل کیا جاتا ہے، دوسری چیزوں تک پہنچا جاتا ہے ان کے ذریعے، تو یہ وسیلہ ہیں صرف، کیا ہیں؟ وسیلہ، تو ان کی یہ متعین کرنے سے بھی متعین نہیں ہوتے، بھئی! مثلاً بھئی! ایک آدمی کو آپ نے کہا: بھئی! یہ دیکھو، یہ میرے ہاتھ میں ایک دینار ہے، اس کے بدلے میں مجھے اپنا یہ قلم دے دو، کیا کرو اپنا؟ قلم میں تم سے میں نے خریدا، وہ کہتا ہے: ٹھیک ہے، میں نے بیچا، بس بیع ہو گئی، اب آپ کیا کرتے ہیں، بھئی؟ وہ دینار اٹھا کر جیب میں ڈالتے ہیں، دوسرا اس کو دینار دے دیتے ہیں، وہ کہے گا: بھئی! تم نے تو وہ دوسرے دینار کو کیا کیا تھا؟ دینے کا وعدہ، تو کہیں وہی دینار فقہاء لکھتے ہیں، وہی دینا واجب نہیں آپ کے ذمہ، آپ اور بھی کوئی کیا کر سکتے ہیں؟ دے سکتے ہیں، اس لیے کہ یہ دینار اور درہم وغیرہ جو ہیں، ثمن جو ہیں، متعین نہیں ہوتے، اس جیسے اور کوئی بھی دینار دے سکتے ہیں، بھئی! تو ہمارے نزدیک، بھئی! بیع صرف کے اندر بھی اصل میں تو تعین شرط تھی لیکن وہاں چونکہ تعین ممکن ہی نہیں، درہم و دینار تو متعین ہوتے ہی نہیں، لہٰذا اس کے متعین ہونے کی ایک ہی صورت تھی پھر کہ کیا کر لیا جائے؟ وہیں پر قبضہ دونوں جانب سے کر لیا جائے، کیا کر لیا جائے؟ اس لیے قبضے کو ہم نے وہاں پر ضروری قرار دیا، اور یہاں پر غلے کے اندر تو تعین کیا ہے؟ ہو سکتی ہے، غلے کے اندر کیا ہو سکتی ہے؟ تعین ہو سکتی ہے، تو یہاں تعین ضروری اور وہاں پر قبضہ ضروری، ورنہ تو اصل میں وہاں پر بھی کیا ضروری تھا؟ تعین ضروری تھی، بھئی! وکذلک يقال التقابض فی بيع الطعام بالطعام شرط كالنقود، اور اسی طرح کہا جاتا ہے کہ قبضہ کرنا دونوں جانب دونوں دونوں بدلین پر قبضہ کرنا فی بيع الطعام بالطعام شرط، غلے کی بیع غلے کے بدلے میں، اس بیع کے اندر دونوں بدلین پر قبضہ کرنا شرط، کیا ہے؟ شرط ہے یعنی واجب و ضروری ہے، كالنقود، جیسے نقود کے اندر ہوتا ہے، جیسے نقدیوں کی بیع میں ہوتا ہے، بھئی! سمجھ میں آیا، بھئی؟ بیع صرف مراد، وقلنا، ہم جواب دیتے ہیں: لا نسلم ان التقابض شرط فی باب النقود، ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ دونوں عوضین پر قبضہ کرنا شرط ہے نقود کے باب میں، بل الشرط تعيينها، بلکہ شرط تو وہاں پر کیا ہے؟ ان نقود کی تعین کا کرنا ہے، كيلا يكون بيع النسيئة بالنسيئة، تاکہ کہیں ادھار کے بدلے ادھار کی بیع لازم نہ آئے، بھئی! تاکہ کہیں ادھار کے بدلے تو وہاں اس لیے بیع صرف کے اندر تعین ہم نے ضروری قرار دی تاکہ کہیں ادھار کی بیع ادھار کے بدلے میں لازم نہ آئے اور وہ حدیث میں منع کیا گیا ہے، بھئی! ادھار کی بیع ادھار کے بدلے میں اس سے حدیث میں منع کیا گیا ہے، بھئی! نہى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الكالئ بالكالئ، بھئی! اس ادھار کے بدلے ادھار کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ غير ان النقود لا تتعين، مگر یہ کہ نقود وہ متعین نہیں ہوتے، الا بالقبض عندنا، مگر قبضے ہی کے ساتھ ہمارے نزدیک، چلیے! بس مولانا! ہذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔