أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ. اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ، تلا يتلو سے امر ہے بھئی، اتل۔ آپ تلاوت کیجیے۔ یعنی اے پیغمبر، اتل، آپ تلاوت کیجیے ما، وہ جو کہ، اوحی الیک، وحی کی گئی ہے آپ کی طرف، من الکتاب، کتاب میں سے۔ یعنی کہ قرآن جو ہے، جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے، اس کی تلاوت کرتے رہیے۔ تو تلاوت کرتے رہیے، وہ جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے کتاب میں سے۔ واقم الصلاۃ، اور نماز قائم کیجیے۔ ان الصلاۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر، بے شک نماز روکتی ہے، تنہی کے معنی روکنا۔ بے شک نماز روکتی ہے عن الفحشاء والمنکر، بے حیائی سے اور بری بات سے، برائی سے، برے کام سے۔ بے شک نماز روکتی ہے بے حیائی اور بری بات سے۔ ان الصلاۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر، بے شک نماز روکتی ہے بے حیائی اور بری بات سے۔ اب اس کا کیا معنی کہ نماز روکتی ہے بے حیائی اور بری بات سے؟ مفسرین نے مختلف معانی اس کے بیان کیے۔ ایک معنی یہ کہ بھئی، نماز روکتی ہے بے حیائی اور، ہاں بلکہ یوں کر لیں۔ یہاں اللہ نے کیا ذکر فرمایا؟ ان الصلاۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر، بے شک نماز روکتی ہے بے حیائی اور بری بات سے۔ معلوم ہوا، جو نماز پڑھنے والا ہوگا، وہ بے حیائی اور برے کاموں سے اور گناہوں سے رک جائے گا بھئی، نماز اسے روک دے گی۔ آپ کے ذہن میں اشکال پیدا ہوگا کہ ہم دیکھتے ہیں بہت سے لوگ نماز پڑھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ گناہوں میں مبتلا ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تو کیا فرما رہے ہیں کہ نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روک دیتی ہے۔ مفسرین نے کئی جوابات ذکر فرمائے بھئی، یا یوں کہیں، اس کلام کے، اس آیت کے کئی معانی ذکر فرمائے۔ بعض یہ ذکر فرماتے ہیں کہ نماز روکتی ہے بے حیائی اور بری بات سے، یعنی جب تک آدمی اس میں مشغول ہوتا ہے، اس وقت تک بے حیائی اور برے کام سے رکا ہوا ہے بھئی، جب تک اس میں مشغول ہے۔ بعضوں نے کہا کہ، کہ نماز کی تاثیر ہی یہی ہے کہ وہ کیا کرتی ہے؟ انسان کو بے حیائی اور گناہوں سے روک دیتی ہے، اور اگر کوئی شخص نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں سے اور بے حیائی سے نہیں رکتا، معلوم ہوا اس کی نماز کے اندر کمی ہے بھئی۔ معلوم ہوا، وہ غافل دل کے ساتھ نماز پڑھتا ہے۔ اگر پورے حضورِ قلب کے ساتھ، پوری کامل توجہ کے ساتھ نماز پڑھی جائے، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کی جائے تو پھر یقیناً یہ اپنا اثر دکھائے گی اور انسان کو گناہوں سے اور بے حیائی اور برے کاموں سے روک لے گی، برے کاموں سے روک لے گی بھئی۔ یہ دوسرا معنی بیان ہوا۔ بعض مفسرین یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ نماز بے حیائی اور برے کام سے روکتی ہے کہ بھئی، نماز تو روکتی ہے۔ رکنا یا نہ رکنا، یہ انسان کا فعل ہے۔ جیسے اللہ تعالی تو حکم دیتے ہیں کہ یہ، نیکی کام کرو، یہ کام کرو، اس طرح دنیا میں زندگی گزارو، لیکن انسان کیا ہے؟ بعض اس پر عمل کرتے ہیں اور بعض اس پر عمل نہیں کرتے۔ اسی طرح نماز بھی جو ہے، انسان کو روکتی ہے کہ جس معبود کے سامنے تم دن میں پانچ مرتبہ اپنی بندگی اور غلامی کا اقرار کرتے ہو اور اس کے سامنے اپنا ماتھا زمین پر رکھتے ہو تو تمہیں اس ذات کی تمام احکام کو ماننا چاہیے اور کسی بھی درجے میں اس کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے، تو نماز روکتی ہے، ہاں بعض آگے آئے یا بعض نہ آئے، وہ الگ چیز ہے، البتہ نماز کیا کرتی ہے؟ روکتی ہے اس کو۔ تو تین معانی میں نے بیان کر دیے بھئی، ان کو یاد رکھنا۔ ایک کیا معنی؟ کہ جب تک انسان نماز میں مشغول ہے تو وہ بے حیائی اور برے کام سے رکا ہوا ہے، نماز نے اس کو روک رکھا ہے۔ دوسرا معنی یہ کہ نماز جو ہے، اس کی یہ تاثیر ہے کہ وہ انسان کو بے حیائی اور برے کام سے روک دیتی ہے، البتہ اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے اور گناہ میں مبتلا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کی نماز میں کوئی کمی ہے، معلوم ہوا وہ غافل دل کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے۔ نماز میں جس قدر خشوع و خضوع ہوگا، جس قدر اللہ کی طرف توجہ زیادہ ہوگی اور جس قدر شوق و شغف سے نماز ادا کی جائے گی، اسی قدر یہ گناہوں سے روکتی چلی جائے گی انسان کو۔ نماز کی یہ تاثیر ہے کہ وہ گناہ سے روک دیتی ہے۔ اور تیسرا معنی کیا میں نے بیان کیا؟ نماز تو روکتی ہے کہ گناہ نہ کرو، اس عظیم ذات کا ذرا تصور تو کرو جس کے سامنے تم دن میں پانچ مرتبہ اپنی بندگی اور غلامی کا اقرار کرتے ہو، تمہیں اس کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے، تو نماز تو روکتی ہے لیکن انسان بعض آئے یا بعض نہ آئے، یہ الگ چیز ہے، جیسے اللہ تو حکم دیتے ہیں کہ میری، کہ اس طرح دنیا کے اندر زندگی گزارو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کرو، وہ اللہ تو گناہوں سے روکتے ہیں لیکن کوئی باز آئے یا باز نہ آئے، وہ الگ چیز ہے بھئی۔ ولذکر اللہ اکبر، اور البتہ ولذکر اللہ اکبر، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔ اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے بھئی۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب تک اس زمین پر ایک بھی شخص اللہ اللہ کرنے والا ہے، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی بھئی۔ معلوم ہوا، ذکر اللہ اس کائنات کی اور اس زمین کی بقا کا ذریعہ ہے۔ جب تک اس زمین پر ذکر اللہ ہے، اس وقت تک یہ زمین ہے، اور جس وقت کوئی ذکر اللہ کرنے والا نہیں رہے گا تو اس وقت قیامت قائم ہو جائے گی بھئی۔ اور اسی طرح حدیث میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ نیک فرشتے ہیں اور وہ ذکر اللہ کی مجالس کی تلاش میں رہتے ہیں، اور راستوں میں چکر لگاتے ہیں اور ڈھونڈتے ہیں اس قسم کی مجالس کو۔ تو جب انہیں اس قسم کی کوئی مجلس ملتی ہے تو وہ اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور اپنے اور دوسرے فرشتوں کو بھی بلاتے ہیں کہ آؤ بھئی، یہ ہے وہ ذکر اللہ کی مسجد، مجلس جسے آپ تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ فرشتے اس مجلس کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں پہاڑوں کی صورت میں، یہاں تک کہ اتنی کثرت ہو جاتی ہے فرشتوں کی کہ وہ آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ آسمان پر اللہ تعالی فرشتوں سے پوچھتے ہیں، اگرچہ اللہ کو علم ہوتا ہے لیکن پوچھتے ہیں کہ یہ میرے بندے کیا کر رہے تھے؟ کیا کر رہے ہیں؟ فرشتے بتلاتے ہیں کہ اے اللہ، یہ آپ کی بزرگی اور عظمت اور بڑائی بیان کر رہے ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں، کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں، اے اللہ، آپ کو انہوں نے نہیں دیکھا۔ اللہ پوچھتے ہیں کہ اگر، اگر یہ مجھے دیکھ لیتے تو پھر ان کا کیا حال ہوتا؟ تو فرشتے کے جواب میں، جواب دیتے ہیں کہ اے اللہ، اگر یہ آپ کو دیکھ لیتے تو پہلے سے بھی کئی گنا بڑھ کر آپ کی بزرگی اور عظمت بیان کرتے۔ پھر اللہ پوچھتے ہیں، یہ کیا مانگ رہے ہیں؟ فرشتے بتلاتے ہیں کہ یہ آپ کی جنت مانگ رہے ہیں۔ اللہ پوچھتے ہیں، کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں، انہوں نے جنت کو نہیں دیکھا۔ تو اللہ پوچھتے ہیں، کیا اگر یہ جنت دیکھ لیتے تو ان کی کیا حالت ہوتی؟ تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ، اگر یہ آپ کی جنت دیکھ لیتے تو پہلے سے بھی کئی گنا بڑھ کر اس کی طلب کرتے اور اس کو آپ سے مانگتے۔ پھر اللہ فرماتے ہیں، کیا اور یہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے ہیں؟ فرشتے کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہ آپ کی جہنم سے پناہ مانگ رہے ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں، کیا انہوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں، اے اللہ، انہوں نے جہنم کو دیکھا نہیں ہے۔ اللہ کہتے ہیں کہ اگر یہ جہنم کو دیکھ لیتے تو پھر ان کا کیا حال ہوتا؟ تو وہ فرشتے جواب میں کہتے ہیں کہ اے اللہ، اگر یہ آپ کی جہنم کو دیکھ لیتے تو پہلے اس سے اور بھی زیادہ ڈرتے اور اس سے اور بھی زیادہ پناہ طلب کرتے۔ تو اللہ فرشتوں سے کہتے ہیں کہ تو، کہ جاؤ، میں نے ان لوگوں کو بخش دیا۔ میں نے ان کی مغفرت کر دی۔ تو بھئی، فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ، ان میں ایک شخص ایسا تھا جو ان کے ساتھ ویسے کی، ان کے ساتھ نہیں تھا، ویسے ہی کسی کام سے آیا تھا اور وہاں بیٹھ گیا تھا، تو اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی بھی بخشش فرما دی، کیونکہ یہ لوگ، اس مجلس والے لوگ ایسے ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم اور بد نصیب نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو اللہ کے نیک فرشتے نیک مجالس کی تلاش میں رہتے ہیں بھئی، نیک مجالس کی تلاش میں رہتے ہیں بھئی۔ اللہ تعالی ہماری اس مجلس کو بھی ان مجالس میں سے فرما دے جس کو ملائکہ گھیر لیتے ہیں، بلکہ یقیناً یقیناً یہ ان مجالس میں سے ہوگی کہ جس کے گرد فرشتے جمع ہو جاتے ہیں آسمانوں تک، اور کیونکہ ہم یہاں اللہ ہی کا تو ذکر کر رہے ہیں، اللہ ہی کی کتاب پڑھ رہے ہیں، اللہ ہی کی کتاب کو سیکھ رہے ہیں بھئی، اللہ ہی کی کتاب کو۔ تو اللہ تعالی کی رحمت بڑی وسیع ہے، دعا کرو، اے اللہ، ہم سب کو جنت نصیب فرما، آمین، اے اللہ، ہم جہنم سے ہم سب کی حفاظت فرما، اے اللہ، عذابِ قبر سے بھی ہم سب کی حفاظت فرما، ہم سب کی قبروں کو اے اللہ منور فرما۔ ولذکر اللہ اکبر، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔ واللہ یعلم ما تصنعون، اور اللہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ اور اللہ، واللہ یعلم، اور اللہ جانتے ہیں، ما تصنعون، جو تم کرتے ہو۔ ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتی ھی احسن. ولا تجادلوا، جادل یجادل مجادلہ کے معنی ہیں جھگڑنے کے، مراد بحث و مباحثہ ہے بھئی۔ کیا مراد ہے؟ بحث و مباحثہ مراد ہے، اور اے ایمان والو، لا تجادلوا، تم بحث و مباحثہ نہ کرو، اھل الکتاب، اہل کتاب کے ساتھ، یعنی یہود و نصاری کے ساتھ، یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ تم بحث و مباحثہ نہ کرو، الا بالتی ھی احسن۔ التی، یاد رکھیے، التی ھی احسن، یہ صفت ہے، موصوف محذوف ہے بھئی۔ موصوف الخصلۃ، الخصلۃ۔ صاد کے ساتھ ہے خصلت بھئی، عادت کو کہتے ہیں بھئی، عادت۔ عادت اور طریقہ بھئی۔ ولا تجادلوا اھل الکتاب، اور تم لوگ بحث و مباحثہ نہ کرو اہل کتاب کے ساتھ، الا بالتی، مگر اس طریقے سے، ھی احسن، کہ جو بہتر ہو۔ یعنی ان کے ساتھ بات چیت کرو، بحث کرو، دین کی بات پر، دین کے سلسلے میں باتیں ہوں تو ان کے ساتھ برے طریقے سے نہ پیش آؤ، اچھے طریقے سے دعوت دو، اگر وہ ناراضگی، غصے کا اظہار بھی کریں تو تمہاری طرف سے نرمی ہی نرمی ہونی چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور حکمت کے ساتھ، طریقے کے ساتھ انہیں دینِ حق کی طرف بلاؤ بھئی۔ تو ولا تجادلوا اھل الکتاب، اور تم بحث و مباحثہ نہ کرو اہل کتاب کے ساتھ، الا بالتی ھی احسن، مگر اس طریقے سے جو بہتر ہو۔ الا الذین ظلموا منھم، مگر وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان میں سے۔ مگر وہ لوگ، ہاں، تو ہم، اللہ فرما رہے ہیں کہ جو باقی ہیں، ان کے ساتھ احسن طریقے سے بحث و مباحثہ کرو، البتہ جو لوگ ظلم ان میں کرنے والے ہیں، زیادتی کرنے والے ہیں، ان کے لیے یہ حکم نہیں ہے بھئی کہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بحث و مباحثہ کرنے کا یہ حکم ان کے لیے نہیں ہے۔ الا الذین ظلموا منھم، مگر وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ان میں سے۔ وقولوا، اور تم یوں کہو، احسن طریقے سے ان کو، ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کرو، انہیں دعوت دو اور وہ بیان ہو رہی ہے کہ اس طرح دعوت دو، اس طرح ان سے بات کرو، اور کہو، یوں کہو، آمنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم، یہود و نصاری سے یوں کہو کہ آمنا، کہ ہم ایمان لائے ہیں، بالذی انزل الینا، اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا، یعنی اس کتاب پر ہم ایمان لائے ہیں، یعنی قرآن پر، جو ہماری طرف نازل کیا گیا، وانزل الیکم، اور اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا، یعنی تمہاری کتابوں پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں، تورات اور انجیل کو ہم بھی مانتے ہیں بھئی، کہ یہ اللہ کی کتابیں ہیں جو اللہ نے اپنے پیغمبروں پر نازل فرمائیں بھئی۔ ہاں، وہ الگ بات ہے کہ اب ان میں انہوں نے بہت سی تبدیلیاں کر دیں، اپنی طرف سے باتیں ڈال دیں اور توحید وغیرہ کے بجائے شرک کے، شرکیہ عقائد اس میں انہوں نے شامل کر دیے بھئی۔ تو کہو، آمنا بالذی، ہم ایمان لائے اس کتاب پر جو ہماری طرف نازل کی گئی، وانزل الیکم، اور وہ جو تمہاری طرف نازل کی گئی، والھنا والھکم واحد، اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود واحد، ایک ہی ہے۔ ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہے۔ ونحن لہ مسلمون، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ مسلمون، فرمانبردار۔ ونحن لہ مسلمون، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ ونحن، اور ہم، لہ، اس معبود کے، یعنی اس ایک معبود جو ہے، مسلمون، اس کے فرمانبردار ہیں۔ وکذالک انزلنا الیک الکتاب، اور اسی طرح ہم نے نازل کی آپ کی طرف کتاب۔ یعنی اے پیغمبر، ہم نے آپ کی طرف بھی اسی طرح کتاب نازل کی جس طرح آپ سے پہلے انبیاء پر ہم نے کتابیں نازل کی تھیں۔ وکذالک انزلنا الیک الکتاب، اور اسی طرح ہم نے نازل کی آپ کی طرف کتاب۔ فالذین آتیناھم الکتاب یؤمنون بہ، پس وہ لوگ، آتیناھم، کہ دی ہے ہم نے ان کو کتاب، پس وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے، یعنی یہود و نصاری، یہود اور نصاری، نصاری عیسائیوں کو کہتے ہیں بھئی، یہ جمع ہے نصرانی کی۔ ایک ہو تو نصرانی کہتے ہیں اور جمع ہو تو نصاری۔ تو پس وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے، یعنی تورات اور انجیل، الف لام جنسی ہے۔ وہ لوگ جن سے کتاب داخل ہوئی اس میں بھئی، وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے یُؤْمِنُونَ بِهِ، وہ ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر، یعنی قرآن پر۔ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔ جیسے عبد اللہ ابن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی۔ یہ بہت بڑے یہودی عالم تھے اور یہ ایمان لائے، مسلمان ہوئے اس قرآن، اس دین پر، دینِ اسلام کو انہوں نے قبول کیا۔ تو دیکھا وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس قرآن پر بھی ایمان لاتے ہیں، یعنی بعض ان میں سے۔ فَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ، پس وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے، يُؤْمِنُونَ بِهِۦ وہ ایمان لاتے ہیں اس قرآن پر۔ وَمِنْ هَٰٓؤُلَآءِ، اور ان لوگوں، ان لوگوں میں سے بھی، اور ان لوگوں میں سے، یعنی اشارہ ہے مکہ والوں کی طرف، اہل مکہ کی طرف۔ اور ان اہل مکہ میں سے بھی بعض وہ ہیں مَن يُؤْمِنُ بِهِۦ، جو ایمان لاتے ہیں اس قرآن پر۔ ان مکہ والوں میں سے بھی بعض کیا ہیں؟ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور اس دین کو قبول کرتے ہیں۔ وَمَا يَجْحَدُ بِئَايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلْكَٰفِرُونَ، اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا إِلَّا ٱلْكَٰفِرُونَ مگر کفر کرنے والے، کافر۔ اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا مگر کافر۔ تو ہماری آیتوں کا کافر ہی انکار کرتے ہیں۔ جَحَدَ کے معنی ہیں انکار کرنا۔ علماء نے لکھا ہے جَحْد اس انکار کو کہتے ہیں جو بعد علم ہو۔ یعنی ایک چیز کا پتہ ہے کہ یہ اسی طرح ہے، پھر ضد اور عناد کرتے ہوئے اس کا انکار کر دینا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ یہود جو ہیں، یہ اپنی کتاب، یہودی جو ہیں ان کی کتابوں کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام نشانیاں موجود تھیں اور یہ پہچانتے تھے کہ یہ پیغمبرِ برحق ہیں، لیکن صرف جاننے کے باوجود انہوں نے ضد اور عناد کرتے ہوئے، صرف تعصب کی وجہ سے یہ ایمان نہیں لے کر آئے بھئی۔ کہتے ہیں وَمَا يَجْحَدُ بِئَايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلْكَٰفِرُونَ، اور انکار نہیں کرتے ہماری آیتوں کا مگر کافر ہی۔ وَمَا كُنتَ تَتْلُوا۟ مِن قَبْلِهِۦ مِن كِتَٰبٍ، وَمَا كُنتَ اور آپ نہیں تھے تَتْلُوا۟ تلاوت کرتے، یعنی پڑھتے، آپ نہیں تھے، آپ پڑھتے نہیں تھے مِن قَبْلِهِۦ اس قرآن سے پہلے مِن كِتَٰبٍ کوئی کتاب۔ آپ پڑھتے، آپ پڑھتے نہیں تھے اس قرآن سے پہلے کسی کتاب میں سے وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَ، اور نہ اسے لکھتے تھے اپنے دائیں ہاتھ سے۔ خَطَّ يَخُطُّ، لکھنا۔ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَ، اور نہ آپ اسے لکھتے تھے اپنے دائیں ہاتھ سے إِذًا لَّٱرْتَابَ ٱلْمُبْطِلُونَ، تب تو شک کرتے اہل باطل۔ إِذًا، تب تو۔ لَّٱرْتَابَ، البتہ شک کرتے۔ ٱلْمُبْطِلُونَ، اہل باطل۔ یعنی اے پیغمبر، اے محمد، آپ ان کے اندر 40 سال تک رہے، 40 سال کے بعد آپ کو نبوت دی گئی، تو 40 سال تک آپ ان کے اندر رہے اور اس 40 سال کے دوران انہوں نے اچھی طرح آپ کو دیکھا بھالا ہوا تھا، وہ جانتے تھے کہ آپ نے اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھی اور نہ آپ لکھنا جانتے تھے۔ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے نہیں تھے یعنی لکھنا بھی نہیں جانتے تھے اور پڑھنا بھی نہیں جانتے۔ اگر لکھنا جانتے اور پڑھنا جانتے، پھر تو یہ شک کر سکتے تھے کہ پھر تو کوئی بات بھی بنتی تھی کہ یہ شخص جو ہے، یہ شاید پرانی کتابوں میں سے پڑھتا ہے اور پھر اس اپنی عبارت بنا کر کیا کرتا ہے، ہمارے سامنے لے آتا ہے اور کہتا ہے یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ لیکن آپ تو، یہ تو ان لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ اس سے پہلے آپ نے کسی کتاب کو نہیں پڑھا، آپ پڑھنا نہیں جانتے تھے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے۔ قرآن کے عبارات تو اتنی فصیح و بلیغ ہیں کہ ان کو دعوت دی گئی، ان کو چیلنج کیا گیا کہ قرآن جیسی کوئی چھوٹی سے چھوٹی سورۃ ہی بنا کر لے آؤ۔ تو وہ جو اپنے اپ کو، عرب اپنے اپ کو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ سمجھتے تھے، چنانچہ اسی وجہ سے باقی دنیا والوں کو وہ عجم کہا کرتے تھے۔ ایک عرب ہے، تو عرب کے علاوہ جو ہیں انہیں وہ کیا کہتے تھے؟ عجم۔ اور عجم کے معنی گونگے کے ہیں، تو یعنی اپنی فصاحت و بلاغت اور اپنی زبان کی خوبصورتی کی وجہ سے باقیوں کو گونگا ہی قرار دے دیا کہ ان کی زبان تو ہماری زبان کے سامنے کچھ ہے ہی نہیں، تو ان کا کلام بھی کس کی طرح ہے گو کہ لا کلام کی طرح ہے، یہ گونگوں کے مثل ہیں ہمارے فصیح و بلیغ کلام کے سامنے۔ تو اتنا فصاحت کا، اتنا ان کو اپنی فصاحت پر مان تھا، لیکن جب پیغمبر وہ آیتیں لے کر آتے قرآن کی، تو اس سے وہ خود بھی یہ تسلیم کر لیتے، اپنی عاجزی کو تسلیم کر لیتے کہ ہم کبھی بھی اس جیسا کلام بنانے پر قادر نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ ان کو چیلنج کیا گیا کہ اس جیسی کوئی چھوٹی سے چھوٹی سورۃ ہی بنا کر لے آؤ۔ اب یہ کتنی، یہ ایک آسان راستہ تھا بھئی، کسی شخص کا مقابلہ کرنا ہے، اسی جیسا جو، جو ایک کلام لے کر آیا ہے، تو اسی جیسا یا اس سے اچھا کلام اس کے سامنے ذکر کر دو کہ یہ تو ہم بھی قادر ہیں اس کے بنا لینے پر، اور ایک انتہائی مشکل راستہ تھا جنگوں کا، تو انہوں نے جنگوں کے راستے کو تو اختیار کر لیا، لیکن قرآن کے مقابلے میں کوئی خود کوئی سورۃ یا کوئی آیت بنانے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ وہ جانتے تھے یہ اتنا فصیح و بلیغ اور دلکش اور حسین کلام ہے کہ ہم کبھی بھی اس جیسا کلام بنانے پر قادر نہیں ہو سکتے۔ تو پھر اے پیغمبر، اگر آپ اس سے پہلے لکھنا پڑھنا جانتے، تو پھر تو شک کی گنجائش ہوتی، بلکہ شک کی گنجائش تو پھر بھی نہ تھی، اتنا فصیح و بلیغ کلام تو لکھنے پڑھنے والا بھی نہیں بنا سکتا، تو اور اب، اب تو ان کو بخوبی علم ہے کہ نہ آپ اس سے پہلے پڑھتے تھے کچھ اور نہ لکھتے تھے، اب تو شک کی کسی بھی درجے میں گنجائش نہیں ہے، ان کو شک نہیں کرنا چاہیے، اس قرآن کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ اگر آپ لکھنا پڑھنا جانتے، پھر تو چلو کچھ شک کی گنجائش ہو جاتی، ان کے لیے کوئی بات نکل آتی، لیکن جب ان کو پوری طرح علم ہے، 40 سال آپ نے ان کے اندر گزارے اور انہوں نے دیکھا کہ اس دوران نہ آپ کو لکھنا آتا تھا نہ آپ کو پڑھنا آتا تھا، تو پھر ان کو شک کسی بھی درجے میں نہیں کرنا چاہیے۔ وَمَا كُنتَ تَتْلُوا۟ مِن قَبْلِهِۦ مِن كِتَٰبٍ، اور نہیں آپ پڑھتے تھے اس قرآن سے پہلے کسی کتاب میں سے، وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَ، اور نہ آپ لکھتے تھے اس کتاب کو بِيَمِينِكَ اپنے دائیں ہاتھ سے، إِذًا لَّٱرْتَابَ ٱلْمُبْطِلُونَ، تب تو شک کرتے اہل باطل۔ یمین، دائیں ہاتھ بھئی، اس کو ویسے ذکر کر دیا اس، اس چیز کی تاکہ ذہن میں اچھی طرح صورت، تصویر آ جائے، صورت بن جائے جس کی نفی کی جا رہی ہے، کیونکہ عام طور پر لکھا ہی کس کے ساتھ جاتا ہے؟ دائیں ہاتھ سے عموماً لکھا جاتا ہے، تو حضور علیہ السلام سے اس لکھنے کی نفی کی جا رہی ہے اور لکھا جاتا ہے دائیں ہاتھ سے، تو دائیں ہاتھ کو بھی ساتھ ذکر کر دیا کہ یہ جو دائیں ہاتھ سے انسان لکھتا ہے، اس کی ہم پیغمبر سے نفی کر رہے ہیں کہ پیغمبر لکھنے والے اس سے پہلے نہیں تھے۔ تو یہ بات کی صورت اچھی طرح اس چیز کی صورت بنانے کے لیے یمین کو ذکر کیا گیا جس کی نفی کی جا رہی ہے۔ نفی کس چیز کی کی جا رہی ہے پیغمبر سے؟ لکھنے کی، تو اس لکھنے کی ذہن میں اچھی طرح صورت بن جائے کہ یہ جو لکھنا ہوتا ہے دائیں ہاتھ سے، یہ پیغمبر، پیغمبر یہ نہیں جانتے تھے بھئی، وہ ہاتھ سے لکھتے نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کہتے ہیں، مثلاً کوئی بات ذکر کرنے لگیں تو آپ کہتے ہیں میں نے دیکھا، یہ معاملہ میں نے دیکھا۔ اور اسی بات کو جب آپ نے خوب پختہ کرنا ہو تو آپ کہتے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، بھئی دیکھنا ہوتا ہی آنکھوں سے ہے، لیکن آپ بھی استعمال کرتے ہیں اس کو اپنے کلام میں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تاکہ بات خوب پکی ہو جائے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ بھی اسی انداز میں جس چیز کی پیغمبر سے نفی کی جا رہی ہے یعنی لکھنے کی، اس لکھنے کی تاکہ ذہن میں خوب صورت واضح ہو جائے کہ یہ ہے وہ چیز جس کی پیغمبر سے کیا کی جا رہی ہے؟ نفی کی جا رہی ہے۔ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَ، اور آپ لکھتے نہیں تھے اپنے دائیں ہاتھ سے۔ دیکھیے تَخُطُّهُۥ، ھا ضمیر اس کتاب کو راجع ہے پیچھے جو گزرا مِن كِتَٰبٍ۔ وَمَا كُنتَ تَتْلُوا۟ مِن قَبْلِهِۦ، اور آپ نہیں، آپ پڑھتے نہیں تھے مِن قَبْلِهِۦ اس قرآن سے پہلے مِن كِتَٰبٍ کسی کتاب میں سے، آپ اس قرآن سے پہلے کسی کتاب کو پڑھتے نہیں تھے وَلَا تَخُطُّهُۥ، اور نہ اسے لکھتے تھے بِيَمِينِكَ اپنے دائیں ہاتھ سے إِذًا لَّٱرْتَابَ ٱلْمُبْطِلُونَ، تب تو شک کرتے اہل باطل۔ ھا ضمیر یہ وہ، یہ پیچھے جو کتاب گزرا، اس سے پہلے نہ کوئی کتاب آپ پڑھتے تھے اور نہ کوئی کتاب لکھتے تھے۔ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَ، اور نہ آپ کوئی کتاب اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے۔ بَلْ هُوَ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٌ فِى صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ، بلکہ وہ قرآن جو ہے، ھُوَ ضمیر کس کو راجع؟ قرآن کو۔ بلکہ وہ قرآن ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٌ، واضح آیتیں ہیں فِى صُدُورِ ٱلَّذِينَ، ان لوگوں کے سینوں میں أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ، جنہیں علم دیا گیا۔ بلکہ یہ قرآن تو واضح آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں کے اندر جن کو علم دیا گیا بھئی۔ قرآن علماء کے، حفاظ کے، قاریوں کے سینوں میں محفوظ فرما دیا اللہ، اللہ تعالیٰ نے اور اس کی حفاظت فرمائی۔ اس سے پہلی کتابوں کو حفظ نہیں کیا جاتا تھا اور قرآن کو اللہ نے اس کے حفظ کو آسان فرما دیا اور سینکڑوں ہزاروں لوگوں کے سینوں میں یہ قرآن محفوظ ہے اور اسی طرح تا قیامت آگے منتقل ہوتا رہے گا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن سینوں میں محفوظ فرمایا اللہ نے، کوئی قرآن کے اندر کفار نے کئی مرتبہ کوشش کی بھئی تاریخ کے اندر کہ قرآن کے اندر تبدیلی کر دیں، لیکن کہیں وہ ایک حرف کی بھی تبدیلی کرتے ہیں، تو ہمارا پڑھنے والا ایک چھوٹا سا بچہ بھی اس کے سامنے بھی جیسے ہی وہ آتا ہے، وہ کہتا ہے بھئی یہ تو غلط لکھا گیا ہے، اس طرح تو نہیں ہے بھئی، کیونکہ پورا قرآن اس کے سینے میں محفوظ ہوتا ہے بھئی۔ وَمَا يَجْحَدُ بِئَايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّٰلِمُونَ، اور انکار نہیں کرتے ہماری آیتوں کا مگر ظالم ہی۔ وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَٰتٌ مِّن رَّبِّهِۦ، اور کہا انہوں نے، ان مکہ والوں نے لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ، کیوں نہیں اتاری گئی اس پیغمبر پر ءَايَٰتٌ مِّن رَّبِّهِۦ، نشانیاں اپنے پروردگار کی طرف سے۔ آیت نشانی کو کہتے ہیں بھئی۔ وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ، اور کہا ان اہل مکہ نے کہا لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ، کیوں نازل نہیں کی گئی اس پیغمبر پر ءَايَٰتٌ، نشانیاں مِّن رَّبِّهِۦ اس کے پروردگار کی طرف سے۔ نشانیوں سے مراد ہے معجزے وہ طلب کرتے تھے بھئی کہ ہمیں کیا کریں؟ معجزات دکھائیں اور جس طرح اور پیغمبروں کو معجزات عطا ہوئے تھے، تو آپ بھی اسی طرح بہت معجزات لائیں، تو پھر ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ بس ویسے ہی کہا کرتے تھے، اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قدم قدم پر انہیں معجزات دیکھنے کو ملتے تھے، لیکن بس جب ضد اور ہٹ دھرمی پر انسان آ جاتا ہے، تو کسی چیز کو پھر وہ قبول نہیں کرتا، تو یہ لوگ بھی اسی طرح تھے۔ سب سے بڑا معجزہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا، سب سے بڑا معجزہ جو آج تک موجود ہے، یہ قرآن ہے بھئی۔ قرآن کی آیتیں سن کر ہی پتہ چل جاتا تھا کہ یہ انسانی کلام نہیں، انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور پھر خاص طور پر جب ان کو باقاعدہ چیلنج کر دیا جائے کہ بنا کر لاؤ اس جیسی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورۃ بھئی، اور کوئی بھی اس پر قادر نہ ہو سکے، یہی بتلا دیتا تھا انہیں کہ یہ کیا ہے؟ اللہ کی کتاب ہے، کسی انسان کی بنائی ہوئی کتاب نہیں۔ تو وہ کہا انہوں نے کیوں نہیں، وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَٰتٌ مِّن رَّبِّهِۦ، اور کہا انہوں نے کیوں نہیں نازل کی گئی اس پیغمبر پر نشانیاں اس کے پروردگار کی طرف سے، یعنی معجزات بھئی۔ قُلْ إِنَّمَا ٱلْءَايَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ، اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں، یعنی معجزات تو اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پیغمبر کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر ہوتا ہے مولانا، لیکن وہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا کہ جب چاہے کیا کرے؟ کوئی معجزہ دکھا دے، ہاں اللہ جب چاہتے ہیں، پیغمبر کے ہاتھ پر معجزہ دکھلا دیتے ہیں اور اللہ نہیں چاہتے، تو پیغمبر میں یہ قدرت نہیں کہ وہ کیا کر سکے؟ معجزہ دکھا سکے بھئی۔ تو اے پیغمبر، قُلْ إِنَّمَا ٱلْءَايَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ، آپ فرما دیجیے کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں، وَإِنَّمَآ أَنَا۟ نَذِيرٌ مُّبِينٌ، اور میں تو واضح ڈرانے والا ہوں۔ نذیر، ڈرانے والا۔ مبین، واضح۔ میں تو صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ، کیا کافی نہیں ہے ان کے لیے؟ أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ، کیا کافی نہیں ہے ان لوگوں کے لیے أَنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ، کہ ہم نے نازل کیا آپ پر کتاب کو يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ، جو تلاوت کی جاتی ہے ان پر، جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے، ان کے سامنے جس کی تلاوت کیا ان کے لیے یہ بات کافی نہیں ہم نے آپ پر کتاب کو نازل کیا جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے؟ یہ کتاب ہی خود بتلا دیتی ہے کہ یہ کسی انسان کی بنائی ہوئی کتاب نہیں بلکہ یہ کس کی کتاب ہے؟ اللہ کی کتاب ہے۔ أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ، کیا کافی نہیں ہے ان کے لیے؟ کیا کافی نہیں ہے؟ آگے یہ أَنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ، یہ فاعل بن رہا ہے بھئی۔ کیا ان کے، ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے نازل کیا آپ پر کتاب کو يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ، پڑھی جاتی ہے ان لوگوں پر، تلاوت کی جاتی ہے ان لوگوں پر ان کے سامنے؟ يُتْلَىٰ، تلا یتلو کے معنی تلاوت کرنے کے، يُتْلَىٰ تلاوت کی جاتی ہے، يُتْلَىٰ مجہول کا صیغہ ہے۔ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ، بے شک اس کے اندر، اس کتاب کے اندر لَرَحْمَةً البتہ رحمت ہے وَذِكْرَىٰ اور نصیحت ہے لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں، جو ایمان رکھنے والے ہیں ان کے لیے اس کتاب کے اندر رحمت اور نصیحت ہے بھئی۔ چلیے بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔