اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. ولقد أرسلنا نوحا إلى قومه فلبث فيهم ألف سنة إلا خمسين عاما فأخذهم الطوفان وهم ظالمون. اور تحقیق ہم نے بھیجا نوح علیہ السلام کو الى قومه ان کی قوم کی طرف فلبث فيهم تو وہ رہے ان کے بیچ ألف سنة ایک ہزار سال إلا خمسين عاما مگر 50 سال۔ یعنی 50 سال کم ایک ہزار سال تک ان میں رہے یعنی ساڑھے 900 سال تک ان کو دعوت و تبلیغ کرتے رہے بھئی۔ حضرت نوح علیہ السلام کتنے عرصے تک اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے؟ ساڑھے 900 سال تک بھئی۔ تو کہتے ہیں فلبث فيهم پس رہے ان میں ألف سنة إلا خمسين عاما 50 کم ایک ہزار سال فأخذهم الطوفان وهم ظالمون پس پکڑ لیا ان کے ان کو یعنی ان کی قوم والوں کو طوفان نے وهم ظالمون اور وہ ظلم کرنے والے تھے۔ بھئی قرآن کی آیات ہیں، ان کا آپس میں ربط ہوتا ہے، تعلق ہوتا ہے۔ اور تو اس پہلے اس سے پہلے ذکر ہوا سورت کے شروع کے اندر کہ أحسب الناس کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ان کو ویسے ہی صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟ اور پھر آگے اللہ نے بتایا ولقد فتنا الذين من قبلهم کہ تحقیق ہم نے آزمایا ہے آزمائش لی ہے آزمائش کی ہے ان لوگوں کے بیچ جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ تو انہی میں سے ایک حضرت نوح علیہ السلام بھی ہیں، تو آگے اسی کو تفصیل سے اب ذکر کیا کچھ تفصیل سے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے کہ اے پیغمبر آپ کو یہ کفار تکلیف دیتے ہیں اور یہ آپ پر ایمان نہیں لاتے تو آپ گزشتہ امتوں پر نظر ڈال لیجیے۔ جیسے کہ حضرت نوح علیہ السلام تھے، وہ آپ کے آپ کی عمر تو کم ہے حضرت نوح علیہ السلام تو ساڑھے 900 سال تک دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہے لیکن صرف چند تھوڑے سے لوگ ہی ان پر ایمان لے کر آئے اور آپ کے آپ کا زمانہ اگرچہ کم ہے لیکن آپ پر ان سے زیادہ لوگ ایمان لانے والے ہیں بھئی، تسلی کے طور پر۔ بھئی اللہ فرما رہے ہیں فلبث فيهم ألف سنة کہ ان میں رہے ایک ہزار سال إلا خمسين عاما مگر 50 سال کم بھئی۔ تو سنة یہ بھی سال کو کہتے ہیں اور عام یہ بھی سال کو کہتے ہیں، تو پہلے سنة کا لفظ ذکر فرمایا اللہ نے اور اس کے بعد عام کا لفظ ذکر فرمایا۔ نقطہ اس میں یہ ہے بھئی کہ سنة کے معنی قحط اور شدت کے بھی آتے ہیں بھئی۔ سنة کے معنی قحط، خشکسالی اور سختی کے معنی ہیں اس کے۔ تو لہذا اور یہ جو دعوت و تبلیغ کا زمانہ تھا، چونکہ یہ نہایت سختی والا تھا کفار کی طرف سے تکلیف اور ایذا رسانی ہوتی رہتی تھی، اس لیے اس کے لیے سنة کا لفظ استعمال فرمایا جب کہ عام ایسا نہیں ہے بھئی۔ تو جن سالوں کو نکالا ان کے لیے عام کا لفظ استعمال کیا گیا اور وہ سال جن کے اندر دعوت و تبلیغ کی ہے، وہ نہایت تکلیف والے، سختی اور شدت والے تھے اس لیے ان کے لیے کیا لفظ ذکر کیا؟ سنة کا لفظ ذکر کیا گیا بھئی۔ تو وہ ان میں رہے 50 سال کم ایک ہزار سال، یعنی ساڑھے 900 سال بھئی، ساڑھے 900 سال۔ بھئی ساڑھے 900 کوئی چیز بیان کرنے کے لیے عربی میں عام طریقہ یہ ہے کہ یوں کہا جاتا ہے سیدھا کہہ دیا جاتا ہے ساڑھے 900 سال، تسع مائة وخمسين سنة۔ تو اس طریقے کو چھوڑ دیا اور نیا طریقہ اختیار کیا گیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ اللہ نے اس انداز میں کیوں فرمایا؟ کیا ہونا چاہیے؟ تسع مائة وخمسين سنة، تسع مائة وخمسين، ساڑھے 900 سال۔ وجہ اس کی یہ تاکہ تصریح ہو جائے عدد پر کہ ساڑھے 900 جو ذکر ہوئے ان سے ساڑھے 900 ہی مراد ہیں، کم مراد نہیں ہیں۔ اگر یوں کہا جاتا کہ ان میں رہے تھے ساڑھے 900 سال، تو عموماً عرف میں یہ ہے کہ ساڑھے 900 کے قریب کا بھی عدد ہو تو اس کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ ساڑھے 900 سال۔ کچھ کم بھی ہوں دو، چار، پانچ سال، 10 سال، 15 سال فرق بھی ہو تو اس کو معمولی فرق کو شمار ہی نہیں کرتے۔ مثلاً آپ کے پاس ساڑھے 900 سے کچھ کم روپے ہیں، 5، 10 کم ہیں لیکن کوئی آپ سے پوچھے گا تو آپ کیا کہیں گے میرے پاس کتنے ہیں؟ ساڑھے 900 ہیں۔ تو اس میں چونکہ جو اس عدد کے قریب والا تھا اس کو بھی اس سے تعبیر کر دیا جاتا ہے، تو پوری عین عدد کا پتہ نہ چلتا کہ پورے ہی ساڑھے 900 سال تھے یا کچھ کم تھے۔ لیکن جب یہ انداز آیا کہ ان میں رہے ألف سنة إلا خمسين عاما 50 کم ایک ہزار سال، تو معلوم ہوا پورے ساڑھے 900 سال رہے ان میں، پورے پورے ساڑھے 900 سال رہے بھئی کہ ہزار میں سے 50 کم کر دو۔ کتنے رہ گئے؟ ساڑھے، یہ سال ان کے اندر رہے پورے، تو یہ پورے ساڑھے 900 پر دلالت ہوئی، کم یا زیادہ پر نہ ہوئی بھئی۔ تو حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے 900 سال تک دعوت دیتے رہے اور مختلف روایات ہیں بھئی۔ بہرحال ایک روایت جس کو علماء ترجیح دیتے ہیں کہ دعوت کے لیے جب ان کو بھیجا گیا اور ان کو رسالت عطا کی گئی تو ان کی عمر 40 سال تھی۔ تو 40 سال کی عمر میں یہ پیغمبر بنا کر بھیجے گئے اور ساڑھے 900 سال تک یہ دعوت دیتے رہے تو یہ کتنے ہو گئے؟ 990 اور پھر طوفان آیا اور اس میں سارے کفار غرق ہوئے اور اس کے بعد پھر 60 سال تک زندہ رہے تو یہ 1850 سال ان کی عمر تھی۔ بعض علماء فرماتے ہیں، لکھتے ہیں بھئی کہ ان کی عمر 1400 سال تھی، بعض نے ساڑھے 1600 لکھے اور بعض نے 1700 سال تک ان کی عمر لکھی، تو یہ سب سے لمبی عمر والے پیغمبر ہیں اور ان کا زمانہ بڑا طویل ہے اور یہ پہلے رسول ہیں بھئی، ایک ہے نبی، ایک رسول۔ نبی وہ انسان جسے اللہ نے اپنے احکام کی تبلیغ کے لیے بھیجا ہو اور رسول بھی وہی انسان جسے اللہ نے اپنے احکام کی تبلیغ کے لیے بھیجا ہو لیکن نئی شریعت دی ہو، نئی شریعت دی ہو، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسے رسول کہتے ہیں۔ تو حضرت نوح علیہ السلام پہلے رسول تھے بھئی، پہلے رسول۔ اور ان کا زمانہ بڑا طویل ہے اور پھر طوفان آیا بھئی، طوفان کے اندر ان کی بیوی وہ بھی ایمان نہ لائی تھیں وہ بھی غرق ہوئیں اور ان کے بیٹے کنعان جن کا ذکر قرآن میں بھی ہے، تو وہ بھی غرق ہوئے۔ ساڑھے 900 سال تک دعوت دیتے رہے اور پھر جب مایوس ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتلا دیا کہ اب ان کفار جو ایمان جنہوں نے لانا تھا وہ لا چکے، اب باقیوں میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا تو انہوں نے ان کے لیے ان پر عذاب کی دعا کی جسے اللہ نے قبول فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ آپ کشتی بنائیے۔ چنانچہ کشتی بنانے میں مصروف ہوئے۔ کفار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے بھئی۔ بہت بڑی انہوں نے کشتی بنائی اور پھر اس کشتی کے اندر جب وہ اللہ تعالیٰ نے علامت ذکر فرما دی کہ جب زمین سے پانی ابلنے لگے تو پھر کشتی میں سوار ہو جانا، جانوروں ایک ایک جوڑا لے لینا، چنانچہ جب وہ نشانی دیکھ لی تو ایک ایک جوڑا جانوروں کا کشتی میں لے لیا اور تمام مومنین اور اپنے گھر والوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو گئے۔ کہتے ہیں 80 افراد تھے کل بھئی کشتی میں، جن میں سے نصف آدھے مرد تھے اور آدھی عورتیں اور بعض روایات میں 78 کا ذکر آیا ہے اسی طرح اور بھی روایات ہیں تو بہرحال ان میں آدھے مرد تھے اور آدھی عورتیں، پھر چھ ماہ تک وہ طوفان رہا، پانی رہا اور اس کے بعد پھر کشتی جودی پہاڑ پر جا کر ٹھہر گئی بھئی۔ پانی خشک ہوا اور پھر وہاں سے اس کے بعد جو حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد تھی اسی سے آگے نسل انسانی چلی بھئی۔ آپ کے تین بیٹے تھے جو باقی تھے، ایمان لانے والے تھے، ایمان لے آئے تھے: سام، حام اور یافث۔ سام سین کے ساتھ ہے، سام، حام اور یافث، ثاء ہے آخر میں یافث کے۔ تو انہی سے تمام انسانوں کی نسل آگے چلی، اسی لیے حضرت نوح علیہ السلام کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ آدم ثانی کہ انہی سے آگے تمام انسانوں کی نسل چلی۔ پھر سام جو تھے یہ ابو العرب ہیں، عرب کی نسل ان سے ہوئی ہے۔ حام بھئی یہ ابو الحبش ہیں، حبشی جو ہیں یہ ان کی نسل میں سے ہیں اور یافث یہ روم والے یعنی انگریز وغیرہ ان کی نسل میں سے ہیں بھئی۔ علماء محققین لکھتے ہیں کہ ہندوستان و پاکستان وغیرہ کے لوگ بھی سام کی اولاد میں سے ہیں جو ابو العرب ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اتنی طویل عمر تھی بھئی ان کی۔ اور کہتے ہیں جب ملک الموت ان کے پاس آئے تو کہا: اے اللہ کے سب سے سب سے لمبی عمر والے پیغمبر! آپ نے اس دنیا کو کیسا پایا اور اس کی لذت کو؟ تو حضرت نوح علیہ السلام نے عجیب جواب دیا، فرمایا: یہ اسی طرح ہے، یہ دنیا اتنی تیزی سے گزر گئی جیسے ایک کمرے کے دو دروازے ہوں، ایک ہی کے دروازے سے انسان داخل ہو کچھ دیر ٹھہرے اور پھر دوسرے دروازے سے باہر نکل جائے۔ تو دنیا جتنی بھی ہو، بڑی رفتار سے گزرتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا اس کے گزرنے کا۔ آپ اپنا دیکھ لیجیے، ابھی دو تین سال پہلے آپ پہلے درجے میں تھے، کتنی تیزی سے وقت گزرا۔ آپ سوچتے ہیں، پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے پلک جھپکتے میں وقت گزر گیا اور پتہ ہی نہیں چلا اور جو گزر گیا وہ اب کبھی واپس نہیں آ سکتا بھئی۔ تو زندگی کے ان لمحات کو قیمتی سمجھنا چاہیے اور اس میں جس قدر انسان اللہ کی طرف اور دین کی طرف متوجہ رہے اتنا ہی اپنی آخرت بناتا چلا جائے گا، ورنہ جو لمحہ ایک مرتبہ ضائع ہوا اور گزر گیا اس کے دوبارہ لانے کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین پر کامل طریقے سے چلنے اور سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے بھئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ولقد أرسلنا نوحا إلى قومه اور تحقیق البتہ بھیجا ہم نے نوح علیہ السلام کو إلى قومه ان کی قوم کی طرف فلبث فيهم تو وہ ٹھہرے ان میں ألف سنة إلا خمسين عاما 50 کم ایک ہزار سال فأخذهم الطوفان تو پکڑ لیا ان کی قوم کو طوفان نے وهم ظالمون اور وہ ظلم کرنے والے تھے فأنجيناه وأصحاب السفينة پس نجات دی ہم نے انہیں یعنی نوح علیہ السلام کو وأصحاب السفينة اور کشتی والوں کو، ہم نے نوح علیہ السلام اور کشتی والوں کو نجات دی وجعلناها آية للعالمين اور بنا دیا اس کشتی کو ہم نے نشانی جہان والوں کے لیے، ہم نے اس کشتی کو جہان والوں کے لیے نشانی بنا دیا۔ یہ کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری اور بڑی مدت تک وہاں لوگ گزرتے اور دیکھتے تھے اور اس واقعے سے عبرت حاصل کرتے تھے کہ جو اللہ کے راستے پر نہیں چلتا بالآخر اللہ کی طرف سے رسی ڈھیلی کی جاتی ہے لیکن ایک وقت آتا ہے کہ پھر اللہ کا عذاب شخص کو ان لوگوں کو ہلاک کر دیتا ہے۔ تو ها ضمیر میں نے کس کو لوٹائی؟ کشتی کو بھئی، السفينة کو۔ بعض کہتے ہیں یہ ها ضمیر لوٹائیں اس واقعے کو، واقعة کا لفظ بھی مؤنث ہے بھئی یہ واقعہ۔ یہ جو حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ ہے اس کو ہم نے نشانی بنایا کس کے لیے؟ جہان والوں کے لیے کہ ان کے لیے اس میں بڑی عبرت ہے۔ وإبراهيم إذ قال لقومه وإبراهيم، إبراهيم پر إبراهيم منصوب ہے، آپ دیکھ رہے ہیں نصب اس پر بھئی، نصب تلفظ کر رہے ہیں۔ تو یہ اس کو اس پر نصب کیوں آیا؟ تو بعض علماء مفسرین لکھتے ہیں کہ اس کا عطف ہو رہا ہے نوحا پر، تو کیسے ہوئی عبارت؟ ولقد أرسلنا نوحا اور ولقد أرسلنا إبراهيم اور ہم نے بھیجا ابراہیم علیہ السلام کو۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں پر اذكر محذوف نکال لیں بھئی، اذكر محذوف ہے۔ یاد کیجیے، حضور علیہ السلام کو خطاب ہو رہا ہے، اے پیغمبر! اذكر إبراهيم یاد کیجیے ابراہیم علیہ السلام کو اور ان کے واقعے کو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اذكر محذوف نکال لیں تب بھی یہ وہ نصب دے گا یا آپ اس کا عطف نوحا پر کر لیں۔ اور اے پیغمبر! یاد کیجیے ابراہیم علیہ السلام کو إذ قال لقومه جب کہ فرمایا انہوں نے اپنی قوم سے اعبدوا الله واتقوه تم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو ذلكم خير لكم یہ تمہارے لیے بہتر ہے ان کنتم تعلمون اگر تم جانتے ہو۔ اگر تم جانتے ہو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو، اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ ذلكم خير لكم آیا بھئی۔ بھئی یہ ذلكم، یہ جو کم پہلا آیا یہ ضمیر نہیں ہے بھئی۔ یہ حرف خطاب ہے۔ نحو کی کتابوں میں آپ پڑھ چکے ہوں گے پھر بھی تفصیل سن لیجیے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ذلك زيد، وہ زید ہے۔ ترجمہ کیا ہوگا؟ وہ زید ہے ذلك۔ تو ذلك اس میں اشارہ ہوا اور یہ جو کاف اس ذا کے ساتھ ملا ہوا ہے، یہ حرف خطاب کہلاتا ہے۔ یہ ضمیر نہیں، یہ صرف اتنا بتاتا ہے کہ جس سے میں بات کر رہا ہوں، جو میرا مخاطب ہے، وہ ایک ہیں، ایک ہے یا دو ہیں یا دو سے زیادہ ہیں، مذکر ہیں یا مونث ہیں۔ ان کے اعتبار سے یہ بدلتا جائے گا۔ مثلاً آپ میرے سامنے صرف ایک شخص کھڑا ہے، اس کو یہی بات میں کہتا ہوں تو ایک کے مخاطب کے لیے کیا ضمیر استعمال کرتے ہیں؟ کاف ضمیر۔ تو تو اس کو ساتھ جوڑ دوں گا: ذلك زيد۔ لیکن یہ ضمیر نہیں ہے، ضمیر کی صورت ہے، اس کو حرف خطاب کہتے ہیں۔ اسی لیے اس کا ترجمہ بھی نہیں ہوتا، تو ذلك زيد، کیا ترجمہ ہوگا؟ وہ زید ہے۔ لیکن اگر میرے سامنے دو شخص موجود تھے تو اب میں یوں کہوں گا: ذلكما زيد۔ ذلكما زيد، ترجمہ اب بھی وہی ہے: وہ زید ہے۔ تو یہ كما کیا ہے؟ حرف خطاب۔ اس نے صرف کیا بتلایا کہ میرے مخاطب کتنے ہیں؟ دو ہیں جن سے میں بات کر رہا ہوں۔ اور اگر دو سے زیادہ مرد ہوں تو میں کیا کہوں گا؟ ذلكم زيد۔ تو یہ کم ضمیر ہے؟ نہیں، یہ کیا ہے؟ حرف خطاب۔ اب میں نے کہا: ذلكم زيد، ترجمہ کیا ہوگا؟ وہ زید ہے۔ اور میں نے کتنے لوگوں سے یہ بات کی؟ معلوم ہوا جمع ہیں، دو سے زیادہ ہیں۔ اور اگر مونث ہو تو کیا کہیں گے؟ ذلك زيد۔ اور اگر دو ہوں؟ ذلكما زيد۔ اور اگر دو سے زیادہ ہوں؟ ذلكن زيد۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ذاك زيد، ذاكما زيد، ذاكم زيد، ذاك، ذاك زيد، ذاكما زيد، ذاكن زيد، سب کا ترجمہ یہی ہے: وہ زید ہے۔ یہ حرف خطاب صرف کیا بتلا رہا ہے؟ کہ خطاب ایک سے ہو رہا ہے، دو سے ہو رہا ہے یا زیادہ سے ہو رہا ہے اور وہ مذکر ہیں یا مونث۔ تو کہتے ہیں اللہ فرما رہے ہیں: ذلكم خير لكم، یہ تمہارے لیے بہتر ہے ان کنتم تعلمون اگر تم جانتے ہو، اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ إنما تعبدون من دون الله أوثانا، تم عبادت کرتے ہو اللہ کے علاوہ اوثانا، بتوں کی، وتخلقون إفكا۔ اوثان جمع ہے وثن کی اور یہ بت کو کہتے ہیں بھئی۔ تم عبادت کرتے ہو اللہ کے علاوہ بتوں کی، یعنی اللہ کو چھوڑ کر کس کی عبادت کرتے ہو تم لوگ؟ بتوں کی وتخلقون إفكا، اور بناتے ہو جھوٹ، یعنی جھوٹ گھڑتے ہو، اپنی طرف سے جھوٹ تراشتے ہو۔ کیا جھوٹ تراشتے ہیں بھئی؟ یہی کہ یہ بت جو ہیں اللہ کے ساتھ معبود ہونے میں شریک ہیں یا یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے بھئی۔ تو یہ باتیں تم نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہیں، ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ تو إنما تعبدون من دون الله أوثانا، تم عبادت کرتے ہو اللہ کے علاوہ بتوں کی وتخلقون إفكا اور بناتے ہو جھوٹ۔ إن الذين تعبدون من دون الله، یقیناً وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے علاوہ لا يملكون لكم رزقا، وہ مالک نہیں ہیں تمہارے رزق کے۔ وہ مالک نہیں ہیں تمہارے لیے رزق کے، یعنی تمہارے رزق کے وہ مالک نہیں ہیں بھئی۔ تمہارے تھوڑے سے رزق کے بھی مالک نہیں ہیں، یوں ترجمہ کریں بھئی۔ لا يملكون لكم رزقا، وہ تمہارے تھوڑے سے، ادنیٰ سے، معمولی سے رزق کے مالک بھی نہیں ہیں۔ یہ تھوڑے کا ترجمہ اور ادنیٰ اور معمولی کا ترجمہ یہ رزقاً کی جو تنوین ہے اس سے آیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ علماء لکھتے ہیں بھئی، عربی کے اندر تنوین کبھی کبھار تعظیم کے لیے لائی جاتی ہے، کبھی تحقیر کے لیے لائی جاتی ہے وغیرہ مختلف مقاصد کے لیے ذکر کی جاتی ہے۔ تو یہاں پر جو تنوین آئی وہ تحقیر کے لیے ہے۔ تھوڑا سا، رزقاً کا کیا معنی ہوا؟ تھوڑا سا رزق، اس کے بھی مالک نہیں ہیں بھئی۔ اور نیز لا يملكون لكم رزقا۔ رزقاً نکرہ ہے اور تحت النفی آیا: لا يملكون۔ نفی کے بعد آیا اور نکرہ تحت النفی عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ما جاءني رجل۔ ما جاءني، ما نفی کے لیے، ما جاءني رجل، کیا ترجمہ کریں گے؟ میرے پاس نہیں آیا ایک رجل، نہیں بھئی، یہ ترجمہ نہیں۔ میرے پاس کوئی رجل نہیں آیا، کوئی مرد نہیں آیا۔ تو یہ جو رجل تھا، یہ نکرہ تھا، رجل کا معنی ہوتا ہے ایک شخص، نکرہ ہے، لیکن تحت النفی آیا اس سے پہلے کیا آ چکی؟ نفی۔ تو اس یہ نفی استغراق کا فائدہ دیتی ہے، عموم کا فائدہ دیتی ہے اور ہر ہر فرد کی نفی کر دیتی ہے۔ تو اس نے یہاں پر رجل کے ہر ہر فرد کی نفی کر دی کہ کوئی بھی رجل نہیں آیا۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کوئی بھی رجل نہیں آیا، یہ معنی ہوگا۔ تو یہاں پر بھی لا يملكون لكم رزقا، یہ بھی رزقاً تحت النفی آیا تو اس میں عموم بھی آ گیا کہ کسی رزق کے مالک، کسی ادنیٰ رزق کے بھی وہ مالک نہیں ہیں۔ ترجمہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فابتغوا عند الله الرزق، پس تلاش کرو تم اللہ کے پاس رزق کو واعبدوه واشكروا له، اور اسی اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو، إليه ترجعون، اسی کی طرف ترجعون تم لوٹائے جاؤ گے۔ جیسا صیغہ، اسی کے مطابق آپ نے ترجمہ کرنا ہے۔ مجہول کا صیغہ آیا تو مجہول کا ترجمہ، معروف کا صیغہ آئے تو معروف کا۔ إليه ترجعون، اسی اللہ کی طرف ترجعون تم لوٹائے جاؤ گے۔ وإن تكذبوا فقد كذب أمم من قبلكم، اور اگر تم جھٹلاؤ گے فقد كذب أمم من قبلكم، تو تحقیق جھٹلایا ہے اور امتوں نے بھی تم سے پہلے۔ تم سے پہلے اور امتوں نے بھی جھٹلایا ہے۔ یا تو یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کی بات چل رہی ہے، کہ ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ اگر تم مجھے جھٹلاؤ گے تو اگر تم ایمان لے آؤ تو اچھی بات ہے اور اگر ایمان نہیں لاتے اور مجھے جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بھی بہت سی امتیں اپنے اپنے پیغمبروں کو جھٹلا چکی ہیں۔ اور یا پھر یہ حضور علیہ السلام جو ہیں کہ ان سے فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ کہ آپ اپنی قوم سے کہہ دیجیے کہ اے میری قوم! إن تكذبوا، اگر تم مجھے جھٹلاؤ گے فقد كذب أمم من قبلكم، تو تحقیق تم سے پہلے بھی بہت سی امتوں نے کیا کیا ہے؟ اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا ہے۔ فقد كذب أمم من قبلكم، پس تحقیق جھٹلایا ہے اور امتوں نے تم سے پہلے۔ جھٹلایا ہے بہت سی امتوں نے تم سے پہلے۔ بھئی دیکھیے، كذب مفرد کا صیغہ ہے اور یہ فعل معروف ہے، یہ فاعل چاہتا ہے۔ جیسے فعل مجہول کس کا تقاضا کرتا ہے؟ نائب الفاعل کا۔ اور اس کے لیے آگے فاعل آئے گا، اس کو یہ رفع دے گا۔ تو یہ أمم یہ كذب کے لیے کیا بن رہا ہے؟ فاعل۔ كذب أمم، جھٹلایا ہے بہت سی امتوں نے۔ تو أمم جمع ہے امت کی۔ اور جب فاعل اسم ظاہر ہو، فعل کو ہمیشہ مفرد رکھتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ اسم دو قسم پر ہے، ایک اسم ضمیر ہے، ایک اسم ظاہر۔ تو یہ أمم ضمیر ہے؟ ضمیر نہیں، تو یہ اسم ظاہر ہے معلوم ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، تو یہ ضمیر نہیں تو اسم ظاہر ہے اور ضابطہ ہے جب فعل کا فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل کو ہمیشہ مفرد رکھتے ہیں۔ تو أمم اگرچہ لفظوں کے اعتبار سے جمع ہے لیکن اسم ظاہر ہے اور اسم ظاہر کے لیے فعل کو ہمیشہ کیا رکھتے ہیں؟ مفرد۔ اسی لیے كذب مفرد کا فعل آیا، صیغہ آیا بھئی۔ وما على الرسول إلا البلاغ المبين، اور نہیں ہے پیغمبر پر مگر واضح پہنچا دینا۔ پیغمبر کے ذمے واضح طور پر اللہ کی دعوت پہنچا دینا ہے۔ باقی ان اس پر عمل کروانا یہ پیغمبر کا کام نہیں ہے۔ یہ اللہ جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت نہیں دیتے۔ اور ہدایت اسی کو دیتے ہیں جو ہدایت کو چاہتا ہے بھئی اور ہدایت اسی کو نہیں دیتے جو ہدایت کو نہیں چاہتا۔ تو پیغمبر کے ذمے صرف دعوت و تبلیغ کرنا اور بات کو اللہ کے پیغام کو واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ تو کہتے ہیں: وما على الرسول إلا البلاغ المبين، اور نہیں ہے پیغمبر پر مگر واضح طور پر پہنچا دینا۔ أولم يروا كيف يبدئ الله الخلق ثم يعيده، أولم يروا، کیا انہوں نے دیکھا نہیں كيف يبدئ الله الخلق، کیسے اللہ شروع فرماتے ہیں پیدائش کی ثم يعيده، پھر اس کو دہرائیں گے، پھر اس کو لوٹائیں گے۔ یہ کفار کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بھئی یہ کس طرح دوبارہ زندہ فرمائیں گے؟ جب ایک انسان مٹی میں مل گیا، ختم ہو گیا اور موت آ گئی اس پر، اس کا بدن مٹی میں مل گیا تو اب دوبارہ کس طرح اس کو پیدا کیا جائے گا؟ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ یہ دوبارہ پیدا اسے کیا جا سکے۔ اللہ فرما رہے ہیں: أولم يروا، کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں كيف يبدئ الله الخلق، کیسے اللہ شروع فرماتے ہیں پیدائش کو؟ پہلی مرتبہ کیسے اللہ پیدا فرماتے ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ ثم يعيده، پھر اس کو اللہ دہرائیں گے، یعنی پھر پیدا فرما دیں گے۔ إن ذلك على الله يسير، یقیناً یہ اللہ پر آسان ہے۔ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مشکل تو پہلی مرتبہ کا پیدا کرنا ہوتا ہے کسی چیز کا۔ تو جو اللہ پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے یقیناً دوسری مرتبہ پیدا کرنے پر بطریق اولیٰ قادر ہے اور وہ آسان ہے پہلی کی نسبت۔ تو تم اسی میں غور کر لو، جو اللہ پہلی مرتبہ پیدا کر سکتا ہے، اسی سے اس بات کو سمجھ لو کہ وہ دوسری مرتبہ بھی پیدا کر سکتا ہے اور یہ اس کے لیے نہایت آسان ہے۔ قل سيروا في الأرض فانظروا كيف بدأ الخلق ثم الله ينشئ النشأة الآخرة، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے: سيروا في الأرض، کہ تم لوگ چلو پھرو زمین کے اندر فانظروا، پس تم دیکھو كيف بدأ الخلق، کیسے اللہ نے شروع کیا پیدا پیدائش کو ثم الله ينشئ النشأة الآخرة، پھر اللہ پیدا فرمائیں گے آخرت کا پیدا کرنا، یعنی پھر آخرت میں بھی اللہ پیدا فرمائیں گے۔ تو انشائ ينشئ کے معنی پیدا کرنا۔ ثم الله ينشئ النشأة الآخرة، پھر اللہ پیدا فرمائیں گے آخرت کا پیدا کرنا، یہ لفظی ترجمہ ہوا۔ با محاورہ کیسے کر لیں؟ پھر اللہ آخرت میں بھی آخرت میں پیدا فرمائیں گے۔ إن الله على كل شيء قدير، یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ يعذب من يشاء ويرحم من يشاء، عذاب دیں گے جس کو چاہیں گے۔ جب دوسری مرتبہ اللہ پیدا فرما دیں گے تو قیامت قائم ہوگی۔ يعذب من يشاء، عذاب دیں گے اللہ جس کو چاہیں گے ويرحم من يشاء، اور رحم فرمائیں گے من يشاء، جس کو وہ چاہیں گے وإليه تقلبون، اور اللہ ہی کی طرف تقلبون، تم لوٹائے جاؤ گے۔ وما أنتم بمعجزين في الأرض، اور نہیں ہو تم عاجز کر دینے والے في الأرض، زمین میں ولا في السماء، اور نہ آسمان میں۔ یعنی اللہ کے احکامات کو نافذ کرنے سے روکنے والے اور اللہ کو اس سے عاجز تم نہیں کر سکتے، نہ اس زمین کے اندر اور نہ آسمانوں میں۔ وما لكم من دون الله من ولي ولا نصير، اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے علاوہ کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار۔ تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی ولی، دوست، نصير، مددگار، نہیں ہے تمہارے لیے کوئی دوست اور نہ مددگار۔ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔