یہ آپ کا تفسير کا حصہ جو ہے، سورۂ عنکبوت سے انتیسویں پارے کے اختتام تک ہے بھئی۔ یہ حصہ آپ کے نصاب میں شامل ہے، تو اس کی تفسیر ہم پڑھیں گے۔ چونکہ آپ ابتدائی درجے کے طلبہ ہیں، تیسرا سال ہے آپ کا، تو زیادہ گہری باتوں میں ہم نہیں جائیں گے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ آپ کو ترجمہ کرنا اچھی طرح آ جائے۔ زیادہ زور لفظی ترجمے پر ہم دیں گے بھئی اور زیادہ لمبی تفصیلات اور تحقیقات ذکر نہیں کریں گے۔ ہاں، جو ضروری باتیں ہوں گی، وہ ذکر ہوں گی، جو ضروری شان نزول ہوں گے، وہ ذکر ہوں گے۔ شان نزول جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ وہ واقعہ جس کے بارے میں کوئی آیت وغیرہ نازل ہوئی ہے، تو اس کے شان نزول کہلاتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو مختصر مختصر تفسیر ہوگی، زیادہ لمبی باتیں… آپ کا درجہ چونکہ چھوٹا ہے، تو پھر وہ آپ کے لیے مسئلہ، مشکل ہو جائے گا، تو ایسی باتیں جنہیں آپ آسانی سے سمجھ سکیں، یاد رکھ سکیں، انشاءاللہ ایسی باتیں ذکر ہوں گی بھئی۔ جی، اب دیکھیے قرآن پر بھئی، سورۂ عنکبوت ہے بھئی۔ عنکبوت کہتے ہیں مکڑی کو بھئی اور آگے سورت میں مکڑی کا ذکر ہے، اس کی بطور مثال کے اللہ نے ذکر فرمایا، تو چونکہ سورت کے اندر مکڑی کا ذکر آ رہا تھا، عنکبوت کا ذکر، اس لیے اس سورت کا نام کیا رکھ دیا گیا؟ عنکبوت بھئی۔ تو اس کو کہتے ہیں تسمیۃ الکل باسم الجزء بھئی، جز کی وجہ سے کل کا نام رکھ دینا۔ تو ایک جز اس کے اندر عنکبوت کا ذکر تھا، تو ساری ہی سورت کا نام کیا رکھ دیا گیا؟ عنکبوت رکھ دیا گیا بھئی اور سورتوں کے یہ نام توقیفی ہیں بھئی، جیسے اللہ اور اس کے رسول نے بتلائے، اسی طرح ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الم۔ احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا آمنا وهم لا يفتنون۔ ولقد فتنا الذين من قبلهم فليعلمن الله الذين صدقوا وليعلمن الكاذبين۔ ام حسب الذين يعملون السيئات ان يسبقونا ساء ما يحكمون۔ الم، یہ حروف مقطعات کہلاتے ہیں بھئی۔ یہ مختلف سورتوں کے ابتداء میں جو حروف چند آتے ہیں، یہ کیا کہلاتے ہیں؟ حروف مقطعات۔ قاف دو نقطوں والا ہے، ط اور ع۔ حروف مقطعات ان کو اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں سے ہر حرف کو دوسرے سے قطع کر کے، الگ کر کے پڑھا جاتا ہے بھئی۔ تو جیسے ا، ل، م، ان تینوں کو الگ الگ پڑھا گیا بھئی۔ حالانکہ آگے دیکھیے احسب الناس، یہاں ح، س، ب نہیں پڑھا گیا بلکہ وہ ملا کر پڑھا گیا سارا۔ تو یہ حروف مقطعات کہلاتے ہیں اور ان کا معنی صرف اللہ اور اس کے رسول جانتے ہیں بھئی۔ صرف اللہ اور اس کے رسول اس کا معنی جانتے ہیں۔ تو بعض علماء نے اس کے مفہوم وغیرہ کو بیان کیا ہے کہ الف سے مراد اللہ ہیں، لام سے جبریل علیہ السلام اور میم سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ لیکن یہ کوئی حتمی معنی نہیں ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ان کا صحیح اور حقیقی معنی صرف اللہ اور اس کا پیغمبر جانتے ہیں بھئی۔ احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا آمنا وهم لا يفتنون۔ ہمزہ الف آیا ہمزہ بھئی، یہ استفہام کے لیے سوال پوچھنے کے لیے، احسب، حسب کے معنی ہوتے ہیں گمان کرنا بھئی، گمان کرنا۔ احسب الناس، کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے؟ ان يتركوا، کہ انہیں چھوڑ دیا جائے گا؟ ان يقولوا آمنا، یہ کہنے کی وجہ سے کہ آمنا، ہم ایمان لے آئے۔ وهم لا يفتنون، اور انہیں جانچا نہیں جائے گا؟ ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی؟ انہیں پرکھا نہیں جائے گا؟ تو اللہ تعالی فرماتے ہیں احسب الناس، کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ انہیں چھوڑ دیا جائے گا یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی؟ یہ استفہام انکاری ہے بھئی، یعنی لوگوں کا یہ گمان کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی صرف آمنا کہنے کی وجہ سے انہیں چھوڑ دیا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ لوگوں کا گمان صحیح نہیں ہے بھئی، یہ استفہام انکاری کہلاتا ہے۔ ولقد فتنا الذين من قبلهم، اور تحقیق ہم نے آزمایا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے۔ اللہ تعالی فرما رہے ہیں بھئی کہ یہ ہمارا طریقہ ہے، ہماری سنت ہے، تم سے پہلے لوگوں کو بھی ہم نے کیا کیا تھا؟ آزمایا تھا، ان کی آزمائش کی تھی بھئی۔ تو جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ صرف آمنا کہنے کی وجہ سے کہ ہم بس ایمان لے آئے اور یہ ان کے لیے کافی ہے اور اس پر ان کی نجات ہو جائے گی، اگرچہ ایمان جو ہے بالاخر انسان جنت میں داخل ہو جاتا ہے لیکن بہرحال ایمان کے ساتھ ساتھ عمل بھی کرنا پڑے گا، تکالیف اور پریشانیاں آئیں ان کو برداشت بھی کرنا پڑے گا، انسان کو جانچا جاتا ہے، پرکھا جاتا ہے، اس کی آزمائش کی جاتی ہے کہ دیکھیں اس پر تکالیف آتی ہیں، مصیبتیں آتی ہیں تو وہ اس ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے یا ثابت قدم نہیں رہتا۔ امام رازی رحمہ اللہ تفسیر کبیر میں یہاں ایک نقطہ بیان فرماتے ہیں، یہ آیت جو ہے احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا آمنا وهم لا يفتنون، وہ فرماتے ہیں کہ انسان کی پیدائش کا مقصد اللہ تعالی کی عبادت ہے۔ انسان کی پیدائش کا سب سے بڑا مقصد اللہ تعالی کی عبادت ہے اور عبادت کا سب سے بڑا مقصد اللہ کی محبت کو حاصل کرنا ہے بھئی، اللہ کی محبت کا حصول ہے۔ اور اللہ کی محبت دل میں ہوتی ہے، دل اس کا مقام ہے اور جس دل کے اندر جتنی زیادہ اللہ کی محبت ہوگی، اسی قدر اللہ کے نزدیک اس کا درجہ اونچا ہوگا۔ اور جو محبت کا مقام دل ہے اور دل کی باتوں کا ہمیں علم نہیں ہوتا، اس کے لیے ترجمان چاہیے، کوئی بیان کرے، تو اللہ نے زبان کو دل کا ترجمان بنایا۔ زبان کیا کرتی ہے؟ زبان کہتی ہے آمنا، کہ ہم ایمان لے آئے، ہم اللہ پر ایمان لے آئے۔ تو زبان اس کا اظہار کرتی ہے، لیکن یہ تو صرف دعویٰ ہو گیا، دعوے کے لیے کوئی تصدیق کرنے والا چاہیے۔ پتہ چلے کہ یہ زبان سچ کہہ رہی ہے یا سچ نہیں، تو اس کے لیے یہ اعضاء اور یہ جسم جو ہے اس کو تصدیق کرنے والا بنایا گیا۔ چنانچہ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں ایمان لے آیا اور پھر اس کے بعد یہ جو گواہ ہیں وہ اس کی تصدیق کریں، اس طرح کہ وہ دین پر چلتا ہے، نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ ان کی ادائیگی کرتا ہے، تو معلوم ہوا گواہوں نے کیا کر دی اس کی؟ تصدیق کر دی کہ یہ واقعی اس کے دل میں اللہ کی، آمنا کہا تو اللہ کی محبت کا دعویٰ کر دیا، تو اعضاء گواہی دیتے ہیں کہ زبان جو کچھ دل کے بارے میں بتلا رہی ہے وہ سچ ہے اور یہ اللہ کے راستے پر چل رہا ہے۔ لیکن آپ نے پڑھا ہے بھئی کہ ہر گواہ کی گواہی جو ہے وہ قبول کرنا ضروری نہیں، گواہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ قابل اعتماد ہونا چاہیے۔ قابل اعتماد عادل گواہ ہوگا تو اس کی گواہی قبول کرنا پھر ضروری ہے۔ تو اس کے لیے اس گواہ کے بارے میں پتہ کروایا جاتا ہے کہ یہ گواہ کس قسم کا آدمی ہے۔ چنانچہ قاضی کے پاس جب کوئی شخص گواہی کے لیے آتا ہے تو قاضی اس کا تزکیہ کرواتا ہے، تزکیہ۔ تزکیہ یہ کہ قاضی ایک خط اس کے دوستوں کو روانہ کرتا ہے، اس کے قریبی جو دوست ہیں خفیہ طور پر اور ان سے پوچھتا ہے بھئی یہ شخص میرے پاس گواہی دینے آیا ہے، یہ عادل ہے یا عادل نہیں ہے؟ نیک آدمی ہے یا نہیں؟ کس قسم، ہم ظاہر کے اعتبار سے تو ہمیں پتہ نہیں لیکن تمہارا قریبی دوست ہے، اس کے اعمال کس قسم کے ہیں، نیک ہیں یا یہ گناہوں میں مبتلا ہے؟ تو اس کا وہ جو دوست ہے وہ اس پر لکھ دیتا ہے کہ عادل ہے یا عادل نہیں۔ پھر قاضی کے پاس خط آتا ہے، تو یہ جو عمل ہے یہ کیا کہلاتا ہے؟ تزکیہ کہلاتا ہے جس کے ذریعے گواہ کا پتہ چلتا ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ اعضاء جو ہیں یہ گواہ ہوئے ہیں زبان پر، تو ان کے لیے بھی تزکیہ چاہیے، جو تزکیہ کرنے والا ہے وہ جو ساتھی یا دوست اس کو مزکی کہا جاتا ہے، تزکیہ کرنے والا۔ تو یہاں پر بھی مزکی چاہیے ان گواہوں کے لیے اور وہ مزکی جو ہے وہ اس انسان کا گناہوں سے بچنا ہے۔ اسلام والے اعمال کیے یہ تو گواہ ہو گئے اور گناہوں سے بچنا اور اپنے مال اور نفس کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنا، جو تکالیف آئیں، پریشانیاں آئیں، مصیبتیں آئیں ان کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اور دین پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہنا، یہ ہے تزکیہ بھئی، یہ کیا ہے؟ تزکیہ ہے۔ تو جب اس کا تزکیہ کے ذریعے بھی گواہوں کا جب تزکیہ ہو جاتا ہے تو اب پتہ چلتا ہے کہ اس شخص کے دل میں واقعی اللہ تعالی کی محبت ہے، زبان نے اس کی ترجمانی کی، اعضاء نے اس کی گواہی دی اور تزکیہ کرنے والوں نے اس کا تزکیہ کر دیا کہ اس کے دل میں واقعی اللہ کی محبت ہے، چنانچہ اس کا نام اللہ کے محبین کے رجسٹر میں لکھ لیا جاتا ہے اور اللہ کے نزدیک اونچے درجوں میں وہ شمار ہونے لگتا ہے۔ اسی کے بارے میں اللہ فرما رہے ہیں احسب الناس ان يتركوا، کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ان کو چھوڑ دیا جائے گا؟ یعنی ان کے بارے میں گواہ نہیں طلب کیے جائیں گے اور گواہوں کا تزکیہ نہیں کروایا جاتا، نہیں کروایا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، ایسا نہیں، بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ یہ سب چیزیں ہوں گی تو پھر اس کے بعد ان کی محبت کے دعوے کو، محبت کا دعویٰ جو آمنا ہے، اسے قبول کیا جائے گا بھئی۔ ولقد فتنا الذين من قبلهم، اور تحقیق ہم نے آزمایا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے، یعنی اللہ بتلا رہے ہیں کہ یہ ہمارا طریقہ ہے، ہم ہمیشہ کیا کرتے ہیں؟ جو ایمان لے کر آتے ہیں ہم ان کا، ان کی آزمائش کرتے ہیں بھئی، آزمائش کرتے ہیں اور گزشتہ لوگوں کی بھی آزمائشیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے، حدیث میں آتا ہے بھئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ امتوں میں ایمان لانے والے کو پکڑ لیتے کفار اور پھر اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودتے اور آدھا اس کے اندر اس میں دبا دیتے، پھر آری منگوا کر اس کے سر پر رکھی جاتی، یہاں تک کہ اس آری کے ذریعے اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے تھے۔ اسی طرح لوہے کی، لوہے کی کنگھیاں منگواتے اور اس کے ساتھ اس کے جسم سے گوشت کو علیحدہ کر دیتے اور ہڈیاں علیحدہ رہ جاتیں، لیکن اس کے باوجود وہ ان تکالیف کو برداشت کرتے اور اللہ کے دین پر مضبوطی سے جمے رہتے تھے، تو تم لوگوں پر تو اس درجے کے امتحان نہیں، لیکن تمہیں کیا کرنا پڑے گا؟ ان تمام امتحانات سے گزرنا پڑے گا، یہ اللہ کی سنت ہے اور اللہ کا طریقہ ہے۔ فليعلمن الله الذين صدقوا وليعلمن الكاذبين، پس اللہ ضرور جان لے گا ان لوگوں کو جنہوں نے سچ کہا، جو اپنے اس دعوائے ایمان کے اندر سچے ہیں اللہ انہیں ضرور جان لے گا وليعلمن الكاذبين، اور اللہ ضرور جان لے گا جھوٹوں کو۔ کیا ترجمہ ہوا؟ اللہ ضرور جان لیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے سچ کہا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے۔ کہ بھئی، اللہ تعالی تو سب کچھ جاننے والے ہیں۔ یہ ماضی، یہ حال، یہ استقبال یہ ہماری نسبت سے ہیں۔ اللہ کے سامنے تمام زمانے یکساں ہیں۔ اللہ کو ہر چیز کا پہلے سے علم ہے۔ ہر ہر واقعہ کا۔ اور تو اللہ کا علم ہے، ان تمام چیزوں، ان تمام باتوں پر۔ فلیعلمن اللہ یہاں تو نونِ تاکید آیا تھا، نونِ ثقیلہ۔ اور یہ مضارع کو خاص کر دیتا ہے مستقبل کے ساتھ، تو معنی کیا ہوا؟ اللہ ضرور جان لیں گے۔ تو بظاہر یہ شبہ پڑتا ہے کہ کیا اللہ اس وقت نہیں جانتے؟ تو جواب یہ مولانا کہ یہاں ظہورِ علم مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ ظہورِ علم۔ انسان بھئی اللہ تو سب کچھ جانتے ہیں، لیکن انسان کے سامنے جب کوئی چیز آتی ہے اور کوئی واقعہ پیش آتا ہے، تب اسے پتہ چلتا ہے کہ اللہ اس کو بھی جانتے ہیں۔ جو ابھی پیش ہی نہیں آیا، ہمیں تو اس کا پتہ ہی نہیں۔ جب ہمارے سامنے کوئی واقعہ پیش آتا ہے، تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہاں یہ واقعہ بھی اللہ کے علم میں تھا۔ تو کیا مراد ہے؟ ظہورِ علم۔ اور تو اس کا ترجمہ پھر یوں کر لیں، لیعلمن کا، مفسرین لکھتے ہیں، لیظهرن، کہ اللہ ضرور ظاہر کر دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے سچ کہا، جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں اللہ ان کو ظاہر کر دے گا، ولعلمن الکاذبین اور اللہ ضرور ظاہر کر دے گا جھوٹوں کو بھی، یعنی سچوں اور جھوٹوں کو ممتاز کر دے گا، ظاہر کر دے گا سب کے سامنے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ اللہ ظاہر، فلیعلمن اللہ کا کیا ترجمہ کر لیں؟ اللہ ظاہر فرما دیں گے۔ تو جو ایمان لے کر آئے، اسے ان آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہاں جسے اللہ چاہیں بغیر آزمائش کے ہی، بغیر کسی عمل کے ہی جنت عطا فرما دیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے، ایک صحابی فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جنگل میں جا رہے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمراہ ہیں، اونٹنی پر سوار ہیں۔ ایک شخص دور سے اونٹنی پر سوار آتا ہوا دکھائی دیا۔ کہ ایک شخص دور سے اونٹنی پر سوار آتا ہوا دکھائی دیا، قریب آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے، ان کی اونٹنی کے قریب اپنے اونٹ کو لے گیا اور کہا کہ آپ لوگ کچھ میری رہنمائی کریں گے؟ میں نے سنا ہے مدینہ کے اندر ایک پیغمبر آیا ہے، میں اس پر ایمان لانے کے لیے جا رہا ہوں، کچھ میری رہنمائی کرو، مجھے راستہ بتا دو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ وہی محمد تم سے بول رہا ہے، وہی بات کر رہے ہیں۔ تو بڑا خوش ہوا، حضور سے ملا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے پیغمبر، میں آپ کے پاس آیا ہوں، بڑی دور سے آیا ہوں اور میرے لیے مجھے کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ملتا تھا، درختوں کے پتے میری غذا تھے۔ اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے پیغمبر، مجھے بھی آپ کو جو کچھ اللہ نے سکھایا ہے، جو دین آپ پر اتارا ہے، مجھے بھی وہ سکھا دیجیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دین کی ضروری باتیں سکھلا دیں، تو کہنے لگا کہ اب میں چلتا ہوں، اسی طرح اونٹ پر سوار ہے، وہیں پر اونٹ پر سوار ہونے کی حالت میں ہی سارا کچھ سیکھا اور واپس چل پڑا۔ صحابی فرماتے ہیں ابھی وہ چند قدم ہی واپس مڑ کر چلا تھا کہ ایک کوئی بل وغیرہ تھا زمین میں، اس کے اندر اونٹنی کا قدم پڑ گیا، اونٹنی گر پڑی۔ یہ جو ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، نو مسلم صحابی، یہ بھی گر پڑے اونٹنی سے اور ان کی گردن ٹوٹ گئی، صحابہ ان کو بچانے کے لیے تیزی سے دوڑے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تیزی سے آگے بڑھے، لیکن جب ان کے قریب پہنچے تو اپنے چہرے کو دوسری طرف پھیر لیا۔ چند لمحوں میں ان کا انتقال ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ جب میں اس کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ میرے پہنچنے سے پہلے پہلے دو حوریں اس کے پاس پہنچ چکی تھیں، ایک حور اس کو پانی پلا رہی تھی اور دوسری اس کو کچھ جنتی غذا کھلا رہی تھی۔ معلوم ہوا اس وقت بھی جب حضور سے وہ ملا تھا، وہ بھوکا بھی تھا، وہ پیاسا بھی تھا، لیکن دین کے لیے کتنا سفر طے کر کے آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر فرمانے لگے کہ جو چاہتا ہے کہ کسی ایسے جنتی کو دیکھ لے کہ جسے بغیر عمل کے ہی اللہ تعالی نے جنت نصیب فرما دی ہے، تو وہ اس شخص کو دیکھ لے، نہ تو اس نے ابھی کوئی نماز پڑھی تھی، نہ کوئی روزے رکھے تھے، ابھی نیا نیا مسلمان ہوا تھا، ابھی دین کی باتیں چند سیکھی ہی تھیں، لیکن فوراً ہی انتقال ہوا اور اللہ نے کہاں داخل فرما دیا؟ جنت کے اندر داخل فرما دیا بھئی۔ تو صحابہ عجیب لوگ تھے مولانا، انسان حیران ہوتا ہے کہ کتنے پاکیزہ انسان تھے، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے انسانی صورت میں فرشتے ہوں بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی، ام حسب الذین یعملون السیئات ان یسبقونا ساء ما يحكمون، کیا گمان کرتے ہیں وہ لوگ جو برائیاں کرتے ہیں؟ یعملون السیئات، برائیاں کرتے ہیں، برے برے اعمال کرتے ہیں، ان یسبقونا، کہ وہ ہم سے بچ جائیں گے؟ ساء ما يحكمون، بڑا ہی برا ہے وہ جو يحكمون، وہ فیصلہ کرتے ہیں، وہ تجویذ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ فیصلہ ہے، ان کی یہ تجویذ ہے کہ وہ ہم سے بچ جائیں گے، اللہ فرما رہے ہیں ان کی یہ تجویذ بڑی ہی بری ہے، جو عمل برے عمل کرتے ہیں وہ ہم سے بچ نہیں سکتے۔ تو گمان کرتے ہیں وہ لوگ جو برائیاں کرتے ہیں، چاہے یہ برائی شرک کی صورت اور کفر کی صورت میں ہو، چاہے یہ برائی گناہوں کی صورت میں ہو۔ شرک کرنے والے بھی اس میں داخل ہو گئے اور گناہ کرنے والے یعنی مومنین بھی اس میں داخل ہو گئے، وہ بھی مراد ہیں بھئی۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ مومنین گناہ تو کرتے ہیں لیکن ان کا یہ خیال تو نہیں ہوتا کہ وہ اللہ سے بچ جائیں گے، انہیں تو یقین ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور اللہ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ تو جواب یہ کہ ہاں مومنین کا ایسا گمان تو نہیں ہے، لیکن پھر بھی گناہ پر ان کی جرأت کرنا، یہ گویا یوں ان کا یہ عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کا شاید یہ خیال ہے کہ یہ ہم سے بچ جائیں گے بھئی۔ بار بار گناہ کرنے کو ہی کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ گویا ان کا یہ گمان ہے، اگرچہ ان کا یہ گمان نہیں، لیکن گناہ کرنے کو ہی کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ گویا ان کا یہ گمان ہے کہ یہ بچ جائیں گے۔ ساء ما يحكمون، بڑا ہی برا ہے وہ جو تجویذ کرتے ہیں۔ من كان يرجو لقاء الله، جو کوئی امید کرتا ہے اللہ کی ملاقات کی یعنی قیامت کے دن کی، فان اجل الله لآت، تو یقیناً اللہ کا وہ مقررہ وقت، اجل مقررہ وقت کو کہتے ہیں، فان اجل الله، یقیناً اللہ کا وہ مقررہ وقت، لآت، البتہ وہ آنے والا ہے، وہ آئے گا۔ وہو السمیع العلیم، اور اللہ سننے والے اور جاننے والے ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے اچھی طرح؟ ومن جاہد فانما يجاہد لنفسہ، اور جو کوئی جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے ہی، اپنی ذات کے لیے ہی جہاد کرتا ہے، یعنی اس کا، اس کے جہاد کا نفع اسی کو پہنچے گا۔ تو چاہے یہ جہاد جنگوں کی صورت میں ہو، چاہے یہ جہاد اپنے نفس کے ساتھ ہو کہ اسے خواہشات سے روکے۔ نفس جو ہے ہمیشہ برائی کی ترغیب دیتا ہے، برائی کی طرف انسان کو مائل کرتا ہے اور انسان کے ذمے یہ ہے کہ اپنے آپ کو شہوات سے روکے اور نفس کی غلط خواہش کو پورا نہ کرے، تو نفس کو ان شہوات سے روکنا، یہ بھی کیا ہے؟ جہاد ہے، اس میں جہاد اصل میں کہتے ہیں مشقت اور تکلیف پر صبر کرنا، تو اس میں بھی مشقت اور تکلیف ہے نفس کے لیے کہ اسے روکا جائے اس کی خواہش سے۔ تو کہتے ہیں ومن جاہد فانما يجاہد لنفسہ، اور جو کوئی جہاد کرتا ہے، فانما يجاہد لنفسہ، تو وہ اپنے ہی نفس کے لیے، اپنی ہی ذات کے لیے جہاد کرتا ہے، یعنی اس کا نفع اسی کو پہنچے گا۔ ان اللہ لغنی عن العالمین، یقیناً اللہ جو ہیں وہ بے پروا ہیں تمام جہانوں سے۔ والذین آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ، اور وہ لوگ جو ایمان لائے وعملوا الصالحات، اور نیک اعمال کرتے رہے، لنکفرن عنہم سیئاتہم، البتہ ہم ضرور دور کر دیں گے ان سے، سیئاتہم، ان کے گناہوں کو، ان کی برائیوں کو۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں ہم ان سے ان کے گناہوں کو دور کر دیں گے، گناہوں کو مٹا دیں گے اور اس کے بدلے انہیں نیکیاں دے دی جائیں گی۔ لیکن عمل، عملوا آیا مولانا جو استمرار کے ساتھ نیک عمل کرتا رہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ استمرار کے ساتھ۔ تو اللہ فرماتے ہیں اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے، لنکفرن عنہم، البتہ ہم ضرور دور کر دیں گے ان سے، سیئاتہم، ان کی برائیاں، ان کے گناہ۔ تو بعض گناہ تو ایمان کی وجہ سے ہی زائل ہو جاتے ہیں جیسے کفر و شرک، ایمان لے کر آئے تو کفر و شرک کا جو گناہ تھا وہ ختم ہوا اور بعض گناہ جو ہیں وہ نیکیوں کی وجہ سے ختم ہو جاتے ہیں، جیسے ایک نماز اب اس سے پچھلی نماز تک کے بیچ جو گناہ صغیرہ وغیرہ ہوئے ہیں ان کی معافی کا سبب ہے، مٹا دیتی ہے، ہر نماز اپنے سے پچھلی نماز تک کے بیچ میں جو گناہ ہوتے ہیں ان کو مٹا، تو نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور کچھ گناہ جو ہے وہ توبہ کی وجہ سے اللہ معاف فرما دیتے ہیں اور ان کو نیکیوں سے بدل دیتے ہیں اور کچھ گناہ اللہ محض اپنے فضل سے معاف فرما دیتے ہیں، تو سب اس کے اندر آ گئے بھئی۔ ولنجزینہم احسن الذی كانوا یعملون، اور البتہ ہم انہیں بدلا دیں گے، احسن، احسن زیادہ اچھا، الذی كانوا یعملون، وہ جو عمل کرتے تھے۔ ولنجزینہم احسن الذی كانوا یعملون، اور ہم انہیں بدلا دیں گے بہتر وہ جو عمل کیا کرتے تھے، وہ جو عمل کیا کرتے تھے ہم انہیں اس کا بہتر بدلا دیں گے۔ بھئی کوئی جو انسان جب نیکی کرتا ہے تو نیکی کا اجر اللہ تعالی کم سے کم دس گنا عطا فرماتے ہیں اور اخلاص زیادہ ہو تو سات سو گنا تک وہ ثواب بڑھ جاتا ہے یا بلکہ اس سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ البتہ کوئی گناہ کرتا ہے تو گناہ پر گناہ ہی کے ایک گناہ کرتا ہے تو ایک ہی گناہ کے بقدر اس گناہ لکھا جاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ نیکی کا صرف انسان ارادہ کر لے تو ایک نیکی کا ثواب اسے اسی وقت مل جاتا ہے، ابھی عمل نہیں کیا صرف ارادہ بنا اسی پر ایک نیکی کا ثواب مل گیا اور جب عمل کر لیتا ہے تو پھر کم سے کم کتنا ملتا ہے؟ دس گنا، ثواب اور اخلاص زیادہ ہو تو سات سو گنا تک بھئی وہ بڑھا دیا جاتا ہے اجر۔ اور برائی، برائی کا اگر ارادہ کرتا ہے تو صرف ارادے پر گناہ نہیں ہوگا اسے، ہاں جب وہ اس پر عمل کر لے گا تو پھر اسے ایک ہی اس کے بقدر گناہ ہوگا اس کی برائی کے بقدر گناہ بھئی۔ اور ہم البتہ انہیں ضرور زیادہ اچھا بدلا دیں گے وہ جو عمل کیا کرتے تھے، بھئی زیادہ اچھا دیکھتے نہیں بھئی ایک نیکی کا اجر دس گنا دیا جا رہا ہے بھئی اور اخلاص زیادہ ہو تو یہ سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ جاتا ہے، تو یہ زیادہ اچھا بس، زیادہ اچھا بدلا ہے بھئی، اچھا بدلا تو یہ کہ ایک نیکی کا ایک ہی اجر ہونا چاہیے بھئی اسی کے بقدر، لیکن یہ زیادہ اچھا، اللہ کیا فرما رہے ہیں ہم ضرور بدلا دیں گے انہیں زیادہ اچھا اس کا کہ وہ جو عمل کیا کرتے تھے۔ چلیے بس بھئی، چلیے بھئی، صدق اللہ العظیم، هذا هو المرام والله أعلم بصحة الكلام۔ جی؟ بے پروا ہے، بے نیاز ہے، عن العالمین، تمام جہانوں سے، اللہ کو کسی کی کوئی حاجت نہیں، کوئی ضرورت نہیں، یہ نیکیاں کرتے ہو اس کا فائدہ تمہی کو ہے، اللہ کی ذات کو اس سے کوئی نفع نہیں بھئی۔