الاصل في تصحيح مسائل الحمل أن تصحح المسألة على تقديرين، أعني: على تقدير أن الحمل ذكر، وعلى تقدير أنه أنثى. ثم ينظر بين تصحيحي المسألتين فإن توافقا بجزء فاضرب وفق أحدهما في جميع الآخر، وإن تبااينا فاضرب كل واحد منهما في جميع الآخر، فالحاصل تصحيح المسألة. الأصل في تصحيح مسائل الحمل. بَيْت حمل کی میراث سے متعلق احکام ذکر ہو رہے ہیں کہ حمل کے لیے اس کا حصہ روک لیا جائے گا بھئی! روک لیا جائے گا۔ اور آپ نے پڑھا کہ امام صاحب کا قول یہ ہے کہ جو حصہ زیادہ بنتا ہو بیٹے یا بیٹی میں سے، مذکر یا مؤنث میں سے، جس صورت میں زیادہ حصہ بنتا ہو اور پھر ایک فرد کا نہیں، چار افراد کا حصہ چھوڑا جائے گا، چار افراد کا۔ جب کہ فتوی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے کہ اس کے لیے ایک بیٹے یا ایک بیٹی کا حصہ چھوڑا جائے گا۔ اب آپ کو بتلانے لگے ہیں کہ کس طرح مسئلہ نکالا جائے گا حمل کی صورت میں۔ تو ذکر کر رہے ہیں "الأصل في تصحيح مسائل الحمل" اور ضابطہ مسائل حمل کی تصحیح کے اندر یہ ہے کہ "أن تصحح المسألة على تقديرين، أعني: على تقدير أن الحمل ذكر، وعلى تقدير أنه أنثى" یعنی اس تقدیر پر کہ حمل مذکر ہو اور اس تقدیر پر کہ وہ مؤنث۔ دونوں صورتیں بنا لی جائیں دونوں صورتیں جی آگے آپ صورت مسئلہ آپ پہلے بنا لیجیے بھئی! جلدی جلدی لکھیے بھئی! مثال کون سی ہے یہ؟ 126۔ مثال نمبر 126۔ مثال نمبر 126۔ اوپر اس پر لکھ لیجیے پہلی صورت جب حمل کو مذکر فرض کیا گیا۔ پہلی صورت جب حمل کو مذکر فرض کیا گیا۔ نیچے اسی طرح میت بنائیے میت بنائیے۔ میت کے نیچے پانچ قسم کے ورثاء آئیں گے بھئی! پہلے نمبر پر لکھیے زوجہ۔ دوسرے نمبر پر لکھیے ماں، ماں۔ تیسرے نمبر پر لکھیے باپ، باپ۔ چوتھے نمبر پر لکھیے بیٹی، بیٹی۔ اور پانچویں نمبر پر لکھیے بیٹا، بیٹا۔ یہ جو بیٹا ہے یہ وہی حمل ہے اس کو ہم نے مذکر فرض کیا بھئی! تو بین القوسین اس کے ساتھ لکھ دیجیے حمل بھئی! حمل تاکہ یاد رہے آپ کو۔ اب دیکھیے صورت کس سے، مسئلہ کس سے بنے گا؟ اولاد ہو تو بیوی کو کتنا ملتا ہے؟ ثمن یعنی آٹھواں حصہ اور اولاد ہو تو ماں کو کتنا حصہ ملتا ہے؟ سدس یعنی چھٹا حصہ بھئی! اور باپ کو جب بیٹا بیٹی ہوں تو کتنا ملتا ہے؟ سدس ہی ملتا ہے بھئی! عصبہ نہیں بنے گا کیونکہ عصبہ بیٹا بنے گا اب جب بیٹا ہو۔ اور باقی جو مال ہوتا ہے وہ بیٹے اور بیٹی کے درمیان تقسیم ہوتا ہے تو یہاں پر ایک تو ثمن آیا اور ایک سدس۔ ثمن ہے نوع اول میں سے اور سدس ہے نوع ثانی میں سے تو جب ثمن نوع ثانی کے ساتھ آئے تو مسئلہ کس سے بنتا ہے؟ 24 سے جی۔ 24 سے مسئلہ بنائیے اوپر 24 لکھیں۔ 24 کے آٹھ حصے کریں، آٹھ سے ذرا تقسیم کریں کیا آیا بھئی؟ تین۔ یہ تین ہے زوجہ کا حصہ۔ زوجہ کے نیچے تین لکھیے۔ یرحمک اللہ۔ अच्छा اور 24 کو چھ سے تقسیم کریں کیا جواب آیا؟ چار۔ یہ سدس ہے، یہ ہے ماں کا حصہ، ماں کے نیچے چار لکھیے۔ باپ کو بھی سدس ہی ملے گا، اس کے نیچے بھی چار لکھ دیجیے۔ چار۔ اب دیکھیے بیوی کو تین حصے دیے، ماں کو چار، تین اور چار سات، اور باپ کو بھی چار، سات اور چار 11۔ 24 میں سے 11 یہاں تقسیم ہو گئے، باقی کتنے رہ گئے 24 میں سے؟ 13۔ یہ بیٹے اور بیٹی (یعنی حمل) ان دونوں کا حصہ ہے۔ دونوں کے نیچے لکیر کھینچ کر 13 لکھیں بھئی! یہ ان دونوں کا حصہ بھئی 13۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب بھئی دو سطریں نیچے خالی چھوڑ کر اب لکھیں وہ صورت جب حمل کو مؤنث فرض کیا گیا۔ وہ صورت جب حمل کو مؤنث فرض کیا گیا۔ اسی طرح یہی صورت دوبارہ بنائیے اب صرف وہ جو آخر میں ایک بیٹا تھا اس کی جگہ بیٹی لکھ لیں۔ وارث کون کون ہیں؟ زوجہ، ماں، باپ، بیٹی اور پھر بیٹی جو کہ حمل ہے، بین القوسین اس کے ساتھ حمل لکھیں بھئی! جی لکھ لیا بھئی؟ یہاں پر بھی زوجہ کو اسی طرح آٹھواں حصہ ملے گا، ماں اور باپ دونوں کو اسی طرح سدس ہی ملے گا اور جبکہ دونوں بیٹیاں جو ہیں ان کو سلتان کتنا ملتا ہے؟ سلتان ملتا ہے بھئی! ایک ہو بیٹی تو نصف ملتا ہے، دو یا زیادہ ہوں تو سلتان۔ جی تو زوجہ کے نیچے اچھا تو مسئلہ اسی طرح 24 ہی سے بنے گا بھئی 24 سے کیونکہ ثمن آیا نوع ثانی کے ساتھ۔ 24 اوپر لکھ لیجیے۔ زوجہ کے نیچے تین لکھیے بھئی! آٹھواں حصہ زوجہ کا، ماں اور باپ دونوں کا حصہ اسی طرح سدس ہے بھئی! چار چار ان کے نیچے لکھ دیجیے بھئی! چار چار اور دونوں بیٹیاں ان کے نیچے لکیر کھینچ لیں ان کو دو ثلث دینا ہے، 24 کے ذرا تین حصے کریں ایک حصے میں کتنا آیا؟ آٹھ بھئی! تین سے تقسیم کیا تو آٹھ آیا اور یہ ایک ثلث ہے تو دو ثلث دینا ہے بیٹیوں کو کتنا ہوا؟ 16 تو بیٹیوں کے نیچے 16 لکھ لیں بھئی! صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اچھا اب دیکھیے بیوی کو ملا تین اور ماں کو ملا چار، تین اور چار سات۔ باپ کو بھی چار حصے ملے، سات اور چار 11۔ بیٹیوں کو 16 ملے، 11 اور 16 27۔ مسئلہ بنایا تھا 24 سے اور سہام بڑھ کر 27 ہو گئے تو کیا کریں گے؟ عول کریں گے شاباش! تو 24 کے ساتھ عول کی علامت لکھیے اور اس پر 27 ڈال دیجیے بھئی! لکھ دیجیے 27۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ مسئلہ کی تصحیح ہو گئی۔ اب یاد رکھیے وہ عمل کرنا ہے جو خنثی کے مسئلے میں پڑھا تھا کہ ایک مسئلے کو پہلے مسئلے کو دوسرے سے ضرب دے دیں گے اور دوسرے کو پہلے سے اگر ان میں تباین ہو کیا ہو؟ اگر تباین ہو تو پورے مسئلے کو پورے مسئلے سے ضرب دے دیں گے اور اگر ان میں توافق ہو تو پھر وفق کے ساتھ ضرب دیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو پہلا مسئلہ کس سے بنا؟ 24 سے۔ دوسرا کس سے بنا؟ 27 سے۔ 24 اور 27 میں تباین ہے کہ توافق ہے؟ جی؟ تباین ہے؟ توافق ہے کس طرح؟ شاباش! تین سے دونوں تقسیم ہو رہے ہیں، توافق ہے۔ اگر تباین ہوتا تو پورے پورے عدد کے ساتھ 24 کو 27 سے ہم ضرب دیتے لیکن اب ان میں توافق ہے تو وفق سے ضرب دیں گے تو 27 کو تین سے جی دوسرا مسئلہ ہے اس کا وفق نکالیں 27 کو تین سے تقسیم کیا کیا جواب آیا؟ نو۔ یہ وفق آیا۔ اس وفَق کو پہلے مسئلے میں ضرب دیں۔ نو کو 24 سے ضرب دیجیے۔ پہلا مسئلہ ہے 24 سے اس کو دوسرے کے وفَق یعنی نو سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ 216۔ 24 کے آگے بھئی تسھی کی طاق لکھی اور اس پر 216 لکھ لیجیے۔ 216 یہ کس سے ضرب دی آپ نے؟ نچلے مسئلے کے وفَق سے۔ نیچے ہر ایک حصے کو بھی ضرب دینی ہے نو سے، انہی میں، انہی میں۔ زوجہ کو تین ملا تھا اس کو بھی نو سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ 27۔ تین کے نیچے 27 لکھیے۔ ماں کو چار حصے ملے تھے اس کو بھی نو سے ضرب دی، چار نم 36۔ چار کے نیچے 36۔ اگلے چار کے نیچے بھی 36۔ بیٹی اور بیٹے کا کتنا حصہ تھا؟ 13 اس کو بھی نو سے ضرب دی کیا جواب آیا؟ 117۔ 13 کے نیچے 117 لکھ لیجیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی یہاں تک؟ یہ تھا اوپر والے میں عمل۔ نیچے والے میں اب کیا کریں گے؟ اوپر والے کے وفَق سے، اوپر والے کو نیچے والے کے وفَق سے ضرب دی تھی اور نیچے والے کو اوپر والے کے وفَق سے ضرب دیں گے۔ 24 کا وفَق نکالیں بھئی! آٹھ آئے گا، تین سے دونوں تقسیم ہو رہے تھے، 24 کو بھی تین سے تقسیم کیا آٹھ آیا۔ اب آٹھ سے نچلے مسئلے یعنی 27 کو ضرب دیجیے۔ 216 یہاں بھی آیا تو 27 کے آگے تصحیح کی طاق لکھیں اور اوپر 216 لکھ لیجیے بھئی! نیچے کس سے ضرب دی ہم نے اوپر یہاں؟ آٹھ سے تو نیچے ہر ایک کے حصے کو بھی آٹھ سے ضرب دیں گے۔ زوجہ کا حصہ ہے تین، اس کو آٹھ سے ضرب دی آٹھ تیا 24۔ تین کے نیچے 24 لکھ لیجیے۔ ماں کا حصہ ہے چار، چار کو آٹھ سے ضرب دی آٹھ چوکے 32۔ چار کے نیچے 32 لکھ لیجیے۔ باپ کا حصہ تھا چار، اس کو بھی آٹھ سے ضرب دی 32 آیا، چار کے نیچے 32 لکھیں۔ بیٹے اور بیٹی کا کتنا، دونوں بیٹیوں کا کتنا حصہ تھا؟ 16، اس کو بھی آٹھ سے ضرب دیجیے۔ 128۔ 16 کے نیچے 128 لکھ لیجیے۔ یہاں تک حل کر لیا بھئی؟ اچھا اب ذرا اوپر والے مسئلے میں آئیے بھئی! بھئی! بیٹے اور بیٹی کا ملا کر کتنا حصہ ہے؟ 117۔ اب ذرا ان دونوں کا حصہ نچلی اس سے اگلی سطر میں الگ الگ کریں، بیٹی کا حصہ بیٹی کے نیچے لکھیں، بیٹے کا حصہ بیٹے کے نیچے، ایک، کس طرح تقسیم کرتے ہیں؟ بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملتا ہے تو گویا کل تین حصے کر لیں گے، ایک حصہ بیٹی کو اور دو حصے بیٹے کو، تین سے تقسیم کریں 117 کو۔ جی؟ 39۔ یہ تین سے تقسیم کیا تو 39 ہوا بیٹی کا، بیٹی کے نیچے اب 39 لکھ لیجیے بھئی! 117 سے نچلی لکیر میں۔ اور بیٹے کا کتنا حصہ رہ گیا؟ 117 میں سے 39 نکالے 78۔ بیٹے کے نیچے 78 لکھ لیجیے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اچھا! نچلے مسئلے میں آئیے! دونوں بیٹیوں کا کتنا حصہ تھا؟ 128۔ ان کا حصہ الگ الگ کر دیں دونوں کا۔ ایک بیٹی کا کتنا آدھا آدھا ہو جائے گا، ایک بیٹی کا بھی 64، دوسری کا بھی 64۔ تو ایک کے نیچے بھی 64 لکھیں، دوسری کے نیچے بھی 64 لکھیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے، یاد رکھیے! بھئی زوجہ، ماں اور باپ ان کو اوپر دیکھیے! مسئلہ دونوں مسئلے دونوں 216 سے بن رہے ہیں۔ اوپر والے میں زوجہ، ماں، باپ کو زیادہ حصہ مل رہا ہے یا نیچے والے میں؟ اوپر والے میں زیادہ ہے اور نیچے والے میں کم ہے، تو ان کو کم حصہ دیں گے، کیا دیں گے؟ کم۔ یعنی زوجہ کو 24، ماں کو 32 اور باپ کو بھی 32۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی یاد رکھیے، صورت ہم اختیار کر رہے ہیں۔ دیکھیے۔ بھئی حمل کو زیادہ حصہ کس صورت میں مل رہا ہے؟ بیٹا فرض کیا تو 78۔ مل رہا ہے بیٹے فرض کیا تو 64 کونسی صورت میں زیادہ مل رہا ہے؟ بیٹے والی اوپر والی صورت ہم کی اختیار اوپر والی ہی صورت کو کر رہے ہیں۔ کونسی صورت اختیار کر رہے ہیں؟ اوپر والی۔ لیکن زوجہ، ماں، باپ ان کو کم تر حصہ دیں گے دو صورتوں میں سے۔ اور کم تر کونسی صورت میں تھا؟ مونث والے تو لہذا زوجہ کو اوپر والے مسئلے میں ہے 27، نیچے والے میں کیا ہے 24۔ کون سا کم ہے؟ 24 تو بیوی کو دیں گے، 24 دیں گے اور تین حصے اس کے روک لیں گے۔ کیا کریں گے؟ اچھا ماں کو اوپر ہے 36 حصے، نیچے کتنے ہیں 32، کم کون سا؟ 32 تو 32 ماں کو دیں گے اور چار حصے اس کے روک لیں گے۔ اسی طرح وارث کو بھی 32 حصے دیں گے اور چار حصے روک لیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھا اس کے بعد اگر ایک بیٹے اور بیٹی والی حمل کو ایک ہی بیٹا مانا جائے وہ قول جس کے مطابق ایک بیٹے کا حصہ روکا جائے گا، ایک حصے کا بیٹا ایک حصے کا ایک بیٹے کا حصہ۔ ایک بیٹے کا حصہ روکا جائے گا تو کیا کیا جائے گا یہاں؟ بیٹی کو دے دیں گے 39 ٹھیک ہے، زوجہ کو کتنے دیے؟ 24، ماں کو کتنے دیے؟ 32، باپ کو بھی 32، بیٹے کو 39 اور حمل کے لیے ہم نے کتنا روکا؟ جی؟ بھئی وہ بیوی کے تین حصے روکے، ماں سے اس کے چار حصے تین اور چار سات اور وارث کے بھی چار حصے روکے۔ سات اور چار 11 اور بیٹے کا حصہ کتنا حمل کا؟ 78۔ 78 اور 11؟ جی؟ 78 اور 11 89 یعنی 89 ایک کم 90 یہ روک لیں گے ہم بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی یہاں تک؟ یہ اس کے لیے ہم روک لیں گے۔ یعنی ایک کم 90۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ یہ تو آسان مسئلہ تھا۔ ایک بیٹے کا حصہ ہم نے روک لیا۔ بیٹا ہونے کی صورت میں زیادہ مل رہا تھا، ایک حصہ بیٹے کا بھی روک لیا اور باقی وارثوں کو بھی کون سے دیے حصے؟ کم تر حصے دے دیے۔ باقی ان کے بھی روک لیے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اس کے بعد جب پیدائش ہو جائے گی پتہ لگ جائے گا بیٹا ہے یا بیٹی۔ اگر بیٹی پیدا ہوئی، کون پیدا ہوئی؟ بیٹی، پھر تو وارثوں کو ہم نے کم حصے دیے ان کے بنتے ہی کتنے تھے؟ کم بنتے تھے۔ بیوی کو دیے تھے 24 بنتے بھی 24 ہیں، ماں کو 32 باپ کو بھی 32 ان کے بنتے اتنے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی اور باقی کا مال پھر وہ آپس میں کیا کر لیں گے دونوں دونوں بیٹیاں تقسیم کر لیں گے اس طرح مسئلہ۔ اور اگر بیٹا پیدا ہوا، پھر جن کے حصے روکے پھر اوپر والا مسئلہ بن جائے گا نا، پھر اس پر عمل کر لینا جس جس کے حصے روکے ہوئے تھے وہ اس کو دے دینا اور بیٹی اور بیٹے میں 39 اور 78 کے بیٹی کو تو ہم نے پہلے 39 حصہ دیا ہوا تھا اور 78 بیٹے کا ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لیکن امام صاحب کا قول ہے کہ حمل کے لیے چار بیٹوں جتنا روکیں گے یا چار بیٹیوں جتنا روکیں گے۔ چار بیٹیوں جتنا اور یہاں کون سی صورت میں زیادہ مل رہا ہے حمل کو؟ اوپر والی بیٹا ہونے کی صورت میں۔ تو یہاں چار بیٹوں جتنا حصہ روکیں گے امام صاحب فرماتے ہیں۔ کتنا روکیں گے؟ چار بیٹوں جتنا۔ اب کیا کریں گے؟ کس طرح؟ بھئی زوجہ کو تو دیے اسی طرح 24، تین حصے روک لیے۔ ماں کا اور باپ کا حصہ 36، 36 ہے لیکن کم تر دیں گے 32 دے دیں گے، چار چار حصے ان کے بھی روک لیے ٹھیک ہے اور باقی، باقی کتنا ہے بیٹے اور بیٹی کا؟ 117 کل ہے؟ اچھا 117 کل ہے۔ تو بیٹے کو کتنے بیٹے فرض کرنا ہے؟ چار بیٹے، اور ہر بیٹا کتنی بیٹیوں کے برابر؟ دو تو چار بیٹے کتنی بیٹیوں کے برابر؟ آٹھ اور ایک بیٹی خود ہے نو، یعنی نو حصے کریں گے مال کے، کس کے؟ مال کے نو حصے کر لیں گے، ایک حصہ بیٹی کو دے دیں گے اور چار حصے یہ والے، آٹھ حصے، آٹھ حصے یہ والے اور وہ جو زوجہ ماں باپ کے حصے میں سے روکا تھا کچھ کچھ، وہ سارا وہ روک لیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھا، پہلے ذرا کتاب پر دیکھ لیں اس کے بعد آگے تفصیل بیان کرتا ہوں بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آگیا؟ کہ پہلے مذکر کی صورت میں بھی مسئلہ بنا لیں گے، مونث کی صورت میں بھی مسئلہ بنا لیں گے پھر دونوں مسئلوں کے اندر اگر تباین ہو تو پورے پورے مسئلے کو ایک دوسرے کے ساتھ ضرب دیں گے اور اگر دونوں میں توافق ہو تو ایک کے وفق کو کیا کریں گے دوسرے کے پورے میں ضرب دے دیں گے۔ یہی بیان کریں گے۔ کہتے ہیں ثم ینظر بین تصحیح المسالتین پھر دیکھا جائے گا دونوں مسئلوں کی تصحیح کے اندر فان توافق بجزء اگر ان میں توافق بجزء ان ہو یعنی کسی جز کے ساتھ توافق ہو فضرب وفقی احدھما فی جمیع الاخر تو آپ ضرب دیجیے ان دونوں میں سے ایک کے وفق کو دوسرے کے سارے میں وان تباین اور اگر دونوں میں تباین ہو دونوں مسئلوں میں فضرب کل واحد منھما فی جمیع الاخر تو آپ ضرب دیجیے ان میں سے ہر ایک مسئلے کو دوسرے کے پورے میں۔ پھر پورے پورے مسئلے کو ضرب دیں گے۔ فالحاصل تصحیح المسالۃ تو حاصل کیا ہے تصحیح ہے مسئلہ۔ ثم ضرب نصیب من کان لہ شیء من مسئلۃ ذکورتیہ بھئی وہی بات بیان کر رہے ہیں۔ دونوں مسئلوں میں اگر تباین ہے تو پورے پورے مسئلے کو ضرب دیں گے اور توافق ہے تو ایک کو دوسرے کے وفق کے ساتھ اور صرف اوپر والے مسئلوں کو ضرب دیں گے یا نیچے ان کے حصوں کو بھی ضرب دینی ہے؟ اس کو وہ اب بیان کرنے لگے ہیں وہی بات۔ کہتے ہیں ثم اضرب پھر آپ ضرب دیجیے نصیب من کان لہ شیء من مسئلۃ ذکورتیہ بمثلث انوثتہ پھر آپ ضرب دیجیے حصہ اس کا، اس شخص کا حصہ جس کے لیے کچھ ما، کوئی چیز ہے یعنی جس کو کچھ مل رہا ہے من مسئلۃ ذکورتیہ کس میں سے؟ مسئلہ ذکورت میں سے مذکر ہونے کے مسئلے کے اندر جس کو جو کچھ مل رہا ہے اس کو ضرب دیں گے فی مسئلۃ انوثتہ او فی وقتھا مونث ہونے کے، مونث انوثت کے مونث کے مسئلے سے یا اس کے وقت سے، جس سے یعنی اصل مسئلے کو ضرب دی تھی اسی سے ان کے حصوں کو بھی ضرب دے دیں گے۔ ومَنْ کَانَ لَہُ شَيْءٌ مِنْ مسئلۃ انوثتہ فی مسئلۃ ذکورتیہ او فی وقتھا اور جس کے لیے کوئی چیز ہو مسئلہ انوثت میں سے، اس کے حصے کو ضرب دیں گے فی مسئلۃ ذکورتیہ کس کے اندر؟ مسئلہ ذکورت کے اندر او فی وقتھا یا اس کے وقت میں۔ بات سمجھ بھی آرہی ہے کہ نہیں بھئی؟ وہی ضرب بس صرف بیان کر رہے ہیں۔ کما فی الخنثی جیسے خنثی میں تھا۔ ثم انظر فی الحاصلین پھر آپ دیکھیے دونوں کے حاصل میں، فی الحاصلین من الضرب ایھما اقل کہ پھر آپ دیکھیے دونوں حاصلوں میں سے ضرب، کہ دونوں حاصلوں میں سے دیکھیے ایھما اقل، جو ان میں سے کمتر ہو یعطی لذالک الوارثی وہ اس وارث کو دے دیا جائے گا۔ ہر ہر وارث کا حصہ نکل آیا نا زوجہ کا اوپر نکلا تھا 27، اور نیچے نکلا تھا 24 تو ان میں سے آپ دیکھیں جو کم تر ہو، وہ اس وارث کو دے دیا جائے۔ والفضل الذی بینھما موقوف اور وہ زیادتی جو ان دونوں کے درمیان ہے یعنی کم تر اور زیادہ تر، کم تر کتنا مل رہا تھا بیوی کو؟ 24، زیادہ سے زیادہ کتنا مل رہا تھا؟ 27، ان دونوں میں فرق کتنا ہے؟ باقی کتنا بچا؟ تین، اس کو روک کر رکھیں گے۔ تو وہ والفضل الذی بینھما اور وہ زیادتی جو ان دونوں کے درمیان ہو، کن دونوں کے درمیان؟ کم تر اور زیادہ تر حصے کے درمیان موقوف وہ موقوف ہوگی روکی جائے گی من نصیب ذالک الوارثی اس وارث کے حصے میں سے۔ فاذا ظہر الحمل پس جس وقت حمل ظاہر ہو جائے یعنی اس کی پیدائش ہو جائے فان کان مستحقا لجمیع الموقوف فبھایا، پس اگر وہ مستحق ہوا سارے روکے ہوئے مال کا فبھایا تو اچھی بات ہے وان کان مستحقا للبعض اور اگر وہ مستحق تھا بعض حصے کا فیاخذ ذالک تو اس حصے کو لے لے گا والباقی مقسوم بین الورثۃ اور باقی تقسیم کردیا جائے گا وارثوں کے درمیان فیعطی لکل واحد من الورثۃ ما کان موقوفا من نصیبہ پس عطا کر دیا جائے گا ہر ایک کو وارثوں میں سے وہ جو اس کا روکا گیا تھا اس کے حصے میں سے کما اذا ترک بنتا و ابوین وامرأۃ حاملہ جیسے کسی شخص نے چھوڑا ایک بیٹے کو اور ماں باپ کو اور ایک حاملہ بیوی کو یہ وہی صورت ہے ابھی جو آپ نے حل کی بیٹی، ماں باپ، امرأۃ حاملہ اور حاملہ بیوی تو بیوی بھی آگئی اور حمل بھی۔ فالمسئلۃ من اربعۃ وعشرین پس مسئلہ جو ہے وہ 24 سے ہوگا علی تقدیر ان الحمل ذکروج اس تقدیر پر کہ حمل کیا ہو؟ مذکر ہو۔ ومن سبعۃ وعشرين علی تقدیر انہ انثی اور مسئلہ 27 سے ہوگا اس تقدیر پر کہ حمل مونث ہو۔ فاذا ضرب وقت احدھما فی جمیع الاخر پس جب ضرب دی گئی ان دونوں میں سے ایک کے وقت کو دوسرے کے سارے میں صار الحاصل ماتین وستۃ عشر تو حاصل کتنا ہوا 216۔ اذا علی تقدیر ذکورتہ للمرأۃ سبعون وشرونا مذکر ہونے کی تقدیر پر بیوی کے لیے کتنا ہے؟ 27۔ وللابوین اور والدیں جو ہیں لکل واحد ہر ایک کے لیے ستۃ وشرونا، شرون ہے آپ کی کتابوں میں؟ ہاں جب بعض کتاب میرے، میری کتاب میں شرونا ہے ثلاثون ہونا چاہیے اور ماں باپ جو دونوں ہیں ان میں سے ہر ایک کے لیے ستۃ وثلثون 36 ہے، 36 بھئی۔ وعلی تقدیر انوثتہ اور مونث ہونے کی تقدیر پر للمرأۃ اربعۃ وشرونا بیوی کے لیے نچلے مسئلے میں بیوی کو کتنا مل رہا تھا؟ 24، اربعۃ وشرونا 24 تھے ولکل واحد من الابوین اثنان وثلثون اور والدیں، دونوں والدین میں سے ہر ایک کے لیے اثنان وثلثون کتنے تھے؟ 32 تھے۔ فتعطی للمرأۃ اربعۃ وشرونا پس دے دیا جائے گا بیوی کو 24 و توقف من نصیبھا ثلاثۃ اسھمین اور روکا جائے گا اس کے حصے میں سے، کتنے حصے بیوی کے روک لیں گے؟ تین حصے ومن نصیب کل واحد من الابوین اربعۃ اسھمین اور روکے جائیں گے والدین دونوں، والدین جو ہیں ان میں سے ہر ایک کے حصے میں سے اربعۃ اسھمین کتنے حصے بھئی؟ چار حصے ان میں سے روک لیے جائیں گے۔ وﺗُﻌْطَٰی لِلْبِنْتِ ثلاثۃ عشرہ سھما اور بیٹی کو کتنے دے دیں گے؟ ثلاثۃ عشرہ سھما 13 حصے اچھا بھئی اب دیکھیے ہم نے کتنے حصے دیے تھے بیٹی کو اوپر والے مسئلے میں؟ 39 اس لیے کیونکہ میں نے بتلایا تھا یہ جب ہم نے ایک حمل ایک بیٹا بنایا یہ صورت بیان کریں گے چار بیٹوں کا حصہ روکا جائے گا وہ صورت بیان کر رہے ہیں بھئی۔ ایک کی صورت تو اب آپ کو سمجھ میں آگئی۔ اب ذرا پھر اس مثال پر آئیے بھئی۔ چار حصے کس طرح روکیں گے چار بیٹوں کا حصہ بھئی؟ دیکھیے بھئی بیٹی اور بیٹا ان کو کل کتنا ملا؟ یہ تو ضربیں دینے کے بعد ہے، اولاً پہلے کتنا ملا؟ 13 ملا ہے بیٹی اور بیٹا جو حمل فرض کیا بیٹا۔ تو ان کو کتنا ملا؟ 13 ملا ہے۔ اچھا اس 13 کے کو اگر ہم تقسیم کریں اس طریقے پر کہ بیٹے چار مانے اور بیٹی ایک تو بیٹی کو کتنا ملے گا؟ کسر کے ساتھ ہی پوچھ رہا ہوں، کسر کے ساتھ بتائیے۔ جی؟ 13/9 شاباش! بھئی دیکھیے، بیٹے ہر بیٹا کتنی بیٹیوں کے برابر؟ دو تو چار بیٹے کتنے کے برابر ہوئے؟ آٹھ اور ایک بیٹی خود ہے نو، معلوم ہوا اس 13 کے نو حصے کرکے ایک حصہ بیٹی کو دیں گے اور آٹھ حصے کس کے لیے روک لیں گے؟ حمل کے لیے۔ 13 کے کتنے حصے کریں گے؟ نو، 13 کے نو حصے کیسے ہوں گے؟ 13 کو نو سے تقسیم کردیں ایک حصہ نکل آئے گا۔ تو کیسے بنے گا؟ 13/9۔ نیچے والا عدد اوپر والے کو تقسیم کرتا ہے نا؟ তো 13/9، اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے 13 کو کہ نو حصے کرنے ہیں، نو سے اس کو تقسیم کر دیا۔ یہ آگے جو جواب آئے گا چاہے اس کو اسی طرح رکھیں 13/9۔ 13/9، یا اس کو صحیح کی صورت میں لے جائیں کیونکہ اوپر والا عدد بڑا ہے صحیح کی صورت میں اِسے لے کے جائیں گے۔ تیرہ کو نو سے تقسیم کریں۔ نو ایکم نو۔ تیرہ میں سے نو نکال دیے کتنے بچے؟ چار۔ تو جو باقی بچتا ہے اس کو کہاں لکھتے ہیں؟ اوپر لکھتے ہیں اور جس سے تقسیم کیا تھا اُس کو نیچے ہی لکھتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تفصیل پیچھے بیان ہو چکی ہے۔ کیا آئے گا جواب؟ ایک صحیح چار بٹا نو۔ ایک صحیح چار بٹا نو۔ ایک صحیح چار بٹا نو کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ ایک حصّہ پورا دے دو۔ اور ایک حصّے کے نیچے کیا ہے چار بٹا نو میں سے؟ نو۔ نو سے تقسیم کو نو حصّے اُس کے کر دو اور اُن نو حصّوں میں سے اوپر کیا ہے؟ چار دے دو اُس کو۔ ایک حصّہ پورا اور اگلے حصّے کے کتنے کر لو؟ جی۔ نو حصّے کر کے اُن میں سے کتنے لینے ہیں؟ چار۔ چار۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یعنی ڈیڑھ سے کچھ کم۔ ساڑھے چار ہوتا تو ڈیڑھ تھا پورا۔ اچھا۔ ایک صحیح چار بٹا نو کس کو ملے؟ کس کو دیں گے؟ بیٹی کو دے دیں گے۔ بیٹیوں کے لیے کتنے روکے اِس میں سے؟ تیرہ میں سے ایک صحیح چار بٹا نو کو نکالیں۔ ضربوں کی طرف جانے کی ضرورت نہیں یہیں پر آپ نکال لیں گے۔ بھئی بیٹی کو ایک حصّہ تو پورا کل کتنے ہیں؟ تیرہ۔ تیرہ حصّے ہیں نا۔ تیرہ میں سے ایک پورا دے دیا بیٹی کو اور ایک کے نو حصّے کر کے کتنے دے دیے؟ چار۔ ٹھیک ہے۔ اِس میں سے پانچ حصّے بچ گئے یہ دوسرے والے میں سے۔ اور باقی کتنے بچے ہیں؟ کل کتنے تھے؟ تیرہ نا۔ تیرہ میں سے ایک پورا دے دیا اور ایک کے ٹکڑے ہو گئے دو گویا نکل گئے کتنے رہ گئے؟ گیارہ۔ گیارہ اور اُس نو میں سے چار کس کو دیے تھے؟ بیٹی۔ بیٹی کو۔ تو نو میں سے کتنے باقی بچ گئے؟ پانچ۔ تو پانچ بٹا نو اور کل پورے پورے کتنے بچے؟ گیارہ۔ گیارہ صحیح پانچ بٹا نو۔ یہ کس کا حصّہ آ جائے گا؟ بیٹوں کا حصّہ بھئی۔ گیارہ صحیح پانچ بٹا نو۔ یہاں تک لکھ لیا بھئی۔ بیٹی کے نیچے کیا لکھا؟ تیرہ بٹا چھوٹا کرکے کے اشارے وغیرہ لکھ لیں تاکہ آپ کو یاد رہے بھئی یہ کتاب میں بیان کر رہے ہیں ضربیں تاکہ آپ کے ذہن میں رہیں۔ بیٹی کے نیچے لکھ لیں گے تیرہ بٹا نو اور صحیح کی صورت دے دیں اُس کو ایک صحیح چار بٹا نو۔ ایک صحیح چار بٹا نو۔ اِس لیے میں نے تین چار سطریں خالی رکھوائی تھیں تاکہ آپ دو، تین سطریں کہ تاکہ آپ آسانی سے لکھ سکیں بھئی۔ کیا لکھا؟ ایک صحیح چار بٹا نو۔ اچھا بیٹوں کے نیچے کیا لکھیں گے؟ گیارہ صحیح پانچ بٹا نو۔ اُس کے بعد پھر ہم نے یہ تو تھا ابتداءً اِن کو تیرہ ملا تھا پھر ہم نے کیا کیا تھا؟ کتنے سے ضربیں دی تھیں؟ اوپر والے مسئلے کو ساروں کو کس سے ضرب دی تھی؟ نو سے دی تھی تو اِس کو بھی جب نو سے ضرب دیں گے تو تیرہ بن جائے گا بیٹی کا حصّہ۔ بیٹی کا حصّہ کتنا بن جائے گا؟ بیٹی کا کتنا حصّہ ہے یہاں پر؟ ایک صحیح چار بٹا نو۔ یہ تو صحیح کی صورت ہے بٹا کی صورت میں کیا ہے؟ تیرہ بٹا نو وہی چیز ہے نا تیرہ بٹا نو۔ اِس تیرہ بٹا نو کو نو سے ضرب دی۔ نو نیچے والا اوپر والے نو سے کٹ گیا کیا بچا؟ تیرہ بچ گیا تو بیٹی کا حصّہ کتنا نکل آیا؟ تیرہ حصّہ نکل آیا۔ تیرہ۔ اور باقی بیٹے کا ایک سو سترہ میں سے تیرہ نکالیں بھئی۔ ایک سو سترہ کل بننا تھا اِن کا۔ جی۔ ایک سو چار بیٹے کا حصّہ روک لیا ہم نے۔ یہ ایک سو چار کیسے آیا؟ یہ وہی گیارہ صحیح پانچ بٹا نو اِس کو ہم نے نو سے اِس کو بھی ضرب دے دی۔ تو کیا آگیا؟ ایک سو چار۔ یہاں تک صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ اب ذرا آئیے کتاب پر۔ اُس کو کہتے ہیں وتوطأ البنت ثلاثۃ عشر سہماً۔ اور دیا جائے گا بیٹی کو تیرہ حصّے بھئی اِس کو دیے جائیں گے۔ لان الموقوف فی حقھا اِس لیے کیونکہ روکا گیا ہے اُس کے حق میں نصیب اربعۃ بنینا۔ کتنے بیٹوں کا حصّہ؟ چار بیٹوں کا حصّہ عند ابی حنیفۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کے نزدیک۔ واذا کان البنونا اربعۃً۔ اور جس وقت بیٹے کیا ہوں؟ جی۔ چار ہوں فنصیبہا سہم واربعۃ اتساع سہم من اربع وعشرین۔ جب بیٹے چار ہوں تو بیٹی کا حصّہ۔ بیٹی کا حصّہ کتنا نکالا ضربوں سے پہلے؟ ایک صحیح چار بٹا نو۔ وہی بیان کر رہے ہیں صاحب کتاب فنصیبہا سہم۔ ایک حصّہ واربعۃ اتساع۔ اتساع کس کی جمع؟ تسعاً کی جمع ہے۔ کس کی؟ تسعون نواں حصّہ نواں حصّہ۔ اربعۃ اتساع۔ کیا معنی؟ چار بٹا نو۔ چار بٹا نو۔ نو سے تقسیم کریں کسی چیز کو تو ایک ایک حصّہ یہ نواں حصّہ ہے تسعاً ہے۔ کیا ہے؟ نواں حصّہ۔ اور اِن میں سے کتنے دینے تھے اوپر کتنے تھے؟ چار۔ چار تسعون بھئی۔ چار اربعۃ اتساع۔ اربعۃ اتساع۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں فنصیبہا سہم واربعۃ اتساع سہم تو اُس بیٹی کا حصّہ جو ہے ایک حصّہ اور چار۔ چار نویں حصّے چار اربعۃ اتساع یعنی چار بٹا نو بھئی حصّے ہیں من اربع وعشرین۔ یہ کس میں سے تھے؟ چوبیس میں سے۔ مضروب فی تسعۃ۔ پھر اِس کو ضرب دی گئی کس میں؟ نو میں فصار ثلاثۃ عشر سہماً۔ تو یہ کتنے ہو گئے؟ تیرہ حصّے ہو گئے چار بٹا نو کو نو میں ضرب دی تو کیا آیا؟ تیرہ۔ وھی لھا۔ یہ جو اس کا ہے اُس کے لیے ہے والباقی موقوف۔ اور باقی کیا ہیں؟ موقوف ہیں۔ وھو مائۃ وخمسۃ عشر سہماً۔ کتنے موقوف ہیں؟ ایک سو پندرہ۔ بیٹے کے لیے کتنے روکے تھے ابھی بھئی ضرب دینے کے بعد؟ ایک سو چار۔ ایک سو چار۔ اور ماں باپ اور بیوی کے حصّے میں سے بھی تو کچھ حصّہ روکا تھا وہ کتنے ہو گئے تھے؟ گیارہ۔ گیارہ وہ تھے اور ایک سو چار یہ کتنے ہو گئے؟ ایک سو پندرہ۔ یہ روکے گئے ہیں۔ تو کہتے ہیں باقی موقوف ہے وھو مائۃ وخمسۃ عشر سہماً۔ اور وہ ایک سو پندرہ حصّے ہیں۔ فان ولدت بینتاً واحدۃً او اکثر۔ بس اگر اُس بیوی نے جنم دیا ایک بیٹی کو یا زیادہ کو فجمیع الموقوف للبنات۔ تو سارا جو روکا گیا ہے وہ بیٹیوں کے لیے ہے۔ کس کو جنم دیا بھئی؟ توجہ رکھنا سبق پہ بھئی۔ جی۔ اگر بیٹی ایک پیدا ہوئی چاہے زیادہ ہوئیں تو سارا اِنہی کو مل جائے گا بلکہ سارا کیوں ملے گا؟ کہتے ہیں اِس لیے کہ بیٹی کے حصّے میں وارثوں کو کتنا مل رہا تھا؟ کم تر اور وہ کم تر تو ہم اُن کو دے چکے۔ باقی سارا کس کا؟ بیٹیوں کا حصّہ تھا نا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے۔ تو کہتے ہیں فجمیع الموقوف للبنات۔ تو سارا روکا گیا بیٹیوں کے لیے ہوگا۔ وان ولدت ابنًا واحداً او اکثر۔ اور اگر اُس نے جنم دیا ایک بیٹے کو یا زیادہ کو فیعطی للمرأۃ والابوین۔ بھئی بیٹا اگر ہو تو پھر کیا صورت تھی؟ بیوی کے ستائیس بنتے تھے ہم نے کتنے دیے ہوئے تھے ابھی؟ چوبیس۔ ماں باپ کا چھتیس چھتیس بنتا تھا ابھی تک ہم نے کتنے دیے تھے؟ بتیس۔ تو کہتے ہیں وہ مبقیہ اب ان کو دے دو۔ وہی بیان کرنے لگے ہیں کہتے ہیں اگر بیوی اُس نے جنم دیا ایک بیٹے کو یا زیادہ کو فیعطی للمرأۃ والابوین لما کان موقوفاً من نصیبہم تو دے دیا جائے گا بیوی اور والدین کو وہ جو اُن کے روکا گیا تھا اُن کے حصّے میں سے فما بقی۔ پس جو باقی بچے توضم الیہ ثلاثۃ عشر۔ اچھا بھئی۔ کون پیدا ہوا؟ بیٹا۔ بیٹی کو ہم نے کتنا دیا تھا؟ کتنا دیا تھا؟ تیرہ۔ کتنا حصّہ؟ تیرہ۔ تو وہ ماں باپ اور بیوی کو اُن کے حصّہ دے دیا جائے گا پورا کر دیں گے اور بیٹی کو جو تیرہ دیا تھا اور یہ جو اب باقی بچ گیا ہے۔ اِس کو پھر ملا دیا جائے گا اور اب تقسیم کر دیں گے۔ ایک بیٹا ہے تو ایک بیٹے اور بیٹی میں یہ سارا تقسیم ہو جائے گا۔ دو بیٹے پیدا ہوئے تو دو بیٹے اور ایک بیٹی کے اندر وہ سارا تقسیم ہو جائے گا۔ تین بیٹے پیدا ہوئے تو تین بیٹے اور ایک بیٹی کے درمیان یہ سارا مال کیا ہو جائے گا؟ تقسیم ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے۔ تو توضم الیہ ثلاثۃ عشر ملایا جائے گا اِس کے ساتھ وہ تیرہ بھی جو بیٹی کا حصّہ تھا ویقسم بین الاولاد اور تقسیم کر دیا جائے گا اولاد کے درمیان وان ولدت ولداً میتاً۔ اور اگر اُس نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا۔ حمل مردہ پیدا ہوا۔ معلوم ہوا حمل گویا بیٹا یا بیٹی فرض کیا تھا وہ ہے ہی نہیں۔ گویا اولاد صرف ایک بیٹی ہے۔ کیا ہے؟ اور ایک بیٹی ہو تو اُس کو کتنا ملتا ہے؟ نصف۔ اور والد کیا بنتا ہے؟ عصبہ۔ تو اُس کو مبقیہ پھر مل جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی۔ تو اِس صورت میں یاد رکھیے! دو سو سولہ سے مسئلہ بنا تھا۔ نصف کتنا ہے؟ ایک سو آٹھ۔ یہ کس کو ملے گا؟ بیٹی کو۔ کس کو ملے گا؟ اور چھتیس ہے والد کا حصّہ۔ کتنا؟ جی۔ چھتیس ہے کہ بتیس ہے۔ دوبارہ بنائیے! نئی صورت بنائیے! یہ پھر آپ کو ورنہ سمجھ نہیں آئے گا۔ صرف ایک بیٹی والا مسئلہ الگ بنا لیجیے نیچے حمل نیچے لکھیں حمل اگر مردہ پیدا ہوا۔ حمل اگر مردہ پیدا ہوا۔ جلدی جلدی کیجیے بھئی۔ اب صرف چار وارث نیچے بنائیے میت کے زوجہ، ماں، باپ، بیٹی۔ زوجہ، ماں، باپ، بیٹی۔ زوجہ، ماں، باپ، بیٹی۔ اچھا بھئی مسئلہ اُسی طرح چوبیس سے بنائیے۔ چوبیس سے۔ چوبیس میں سے تین کس کو ملے گا؟ بیوی کو۔ چار کس کو؟ ماں کو۔ اچھا اور باپ کا بھی حصّہ چھوڑیں۔ وہ وہ عصبہ ہے مبقیہ بھی اُس کو ہم نے دینا ہے۔ اچھا بیٹی کو نصف دینا ہے چوبیس کا نصف کتنا؟ بارہ۔ اچھا بیوی کو ملے تین، ماں کو ملا چار، بیٹی کو ملا بارہ۔ تین، چار اور بارہ کتنے ہو گئے؟ انیس۔ چوبیس میں سے انیس نکل گئے باقی کتنے رہ گئے؟ پانچ۔ یہ باپ کا حصّہ ہے اُس کے نیچے پانچ لکھ لیجیے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اِس پانچ میں سے چار تو باپ کو کس وجہ سے ملا؟ سدس سدس۔ اور ایک کیوں ملا اِس کو؟ عصبہ ہونے کی وجہ سے مبقیہ۔ اچھا اِس کے بعد بھئی۔ چوبیس مسئلہ بنا تھا۔ تصحیح کس سے کی تھی؟ دو سو سولہ سے نا وہی اوپر والی صورت حل کر رہے ہیں۔ تو چوبیس کے ساتھ دو سو سولہ بھی لکھیں تصحیح والا۔ یہ چوبیس کو کس سے ضرب دی تھی؟ نو سے۔ نیچے سب کو نو سے ضرب دیں۔ زوجہ کا حصّہ ہے تین۔ نو تیہ 27۔ تین کے نیچے 27 لکھیں۔ ماں کا حصّہ ہے چار اُس کو بھی نو سے ضرب دی 36 آیا۔ چار کے نیچے 36۔ باپ کا حصّہ پانچ ہے اُس کو بھی نو سے ضرب دی 45 آیا۔ پانچ کے نیچے 45 لکھیں۔ بیٹی کا حصّہ ہے بارہ اُس کو بھی نو سے ضرب دی۔ جی۔ ہاں بارہ آیا۔ اِس کے نیچے 108 لکھ دیجیے بھئی۔ بارہ کو نو سے ضرب دی 108 آیا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب یہ بیان کریں گے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں وان ولدت ولداً میتاً۔ اگر اُس نے مردہ بچے کو جنم دیا فتعطی للمرأۃ والابوین ما کان موقوفاً من نصیبہم تو دے دیا جائے گا بیوی اور والدین کو وہ جو موقوف روکا گیا تھا اُن کے حصّے میں سے۔ بھئی یہاں دیکھیے! یہ ابھی آخری صورت حمل اگر مردہ ہو۔ بیوی کو کتنا مل رہا ہے؟ ستائیس۔ ہم نے کتنا دیا ہوا تھا پہلے؟ چوبیس تو اُس کو اس کا حصّہ دے دیں گے وہ جو تین روکے ہوئے تھے۔ ماں کو یہاں چھتیس مل رہا ہے ہم نے کتنا دیا تھا؟ بتیس۔ وہ حصّہ ماں کا بھی دے دیں گے۔ باپ کو ہم نے کتنا دیا تھا ابھی تک؟ بتیس ہی دیا تھا۔ اُس کو بھی روکا ہوا حصّہ چار دے دیں گے۔ ابھی چار ہم نے دیا ہے چھتیس دے دیے باپ کو۔ وللبیٹ الی تمام النصف۔ اور بیٹی کو نصف کے تمام پورا ہونے تک سارا دے دیں گے۔ وہ کتنا ہے؟ کہتے ہیں وہ خمسۃ و تسعون سہماً۔ کتنے؟ پچانوے حصّے دے دیں گے۔ بھئی پچانوے کیوں؟ یہاں کتنا آیا؟ ایک سو آٹھ۔ تیرہ پہلے دیکھ چکے ہیں ہم بھئی۔ کتنے حصّے؟ تیرہ حصّے پہلے دیے تھے اور باقی کتنے تھے؟ پچانوے تو دے دیے 108 ہو گئے۔ والباقی للابی۔ اور باقی کتنا بچہ وہ سارا باپ کا ہوگا وھو تسعۃ احسمن وہ کتنے ہیں؟ نو۔ باپ کا حصّہ کتنا تھا؟ دیا ہم نے بتیس تھا۔ بنتا پہلے کتنا تھا اوپر والی صورتوں میں؟ چھتیس بنتا تھا۔ چھتیس میں سے تو چار ہم نے کیا کیے تھے؟ بیوی کا جو حصّہ روکا تھا وہ بھی دے دیا، ماں کا جو حصّہ روکا تھا وہ بھی دے دیا، باپ کا حصّہ بھی کتنا روکا تھا چار، وہ بھی دے دیے، کتنے ہو گئے باپ کے؟ چھتیس۔ اب یہ سارا مسئلہ جب بنا لیا نو حصّے بچ گئے۔ اب وہ باپ لے لے گا عصبہ ہونے کی وجہ سے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں والباقی للابی۔ باقی باپ کے لیے ہوگا وھو تسعۃ احسمن اور وہ نو حصّے ہیں لانّہ عصبۃ کیونکہ وہ عصبہ ہے۔ مسئله اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی؟ چلیے بس! ہذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔