بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سب سے پہلے تو میں حضرات کو اس بات پر بہت زیادہ مبارکباد پیش کرتا ہوں آپ کو اور آپ کے استاد محترم کو کہ الحمدللہ یہ کتاب آج آپ کے سامنے مکمل ہو رہی ہے۔ یہ واحد وہ کتاب ہے جو علم و میراث کی کتاب کہلاتی ہے، اتنے تفصیلی مسائل کسی اور فقہ کی کتاب میں موجود نہیں ہیں جتنے کہ اس میں موجود ہیں۔ اور یہ بھی ایک بہت بڑی کرامت آپ سمجھیں کہ یہ کتاب مکمل ہو رہی ہے۔ ورنہ مدارسِ دینیہ میں زیادہ سے زیادہ صحیح ترسی یا مناسبہ تک پڑھایا جاتا ہے، کتاب کی تکمیل میرے خیال میں نادر ہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے استادِ محترم کو دلائے خیر عطا فرمائے۔ امین۔ جتنا اس محنت سے انہوں نے پڑھایا، باقاعدہ اگر یہ جذبہ مدارسِ دینیہ کے اساتذہ میں بیدار اور مشروط ہو جائے، تو ہمارے جو طلبہ ہیں بڑے ذہین، بڑے سمجھدار طلبہ ہوتے ہیں، جس طرح یہ طلبہ فصاحت کرتے ہیں، میں سمجھتا ہوں استادوں کی ترسی جو اس وقت ہے ٹھیک ہے، اس لیے آپ لوگوں کو اس کا فائدہ اس وقت ہوگا کہ جب آپ آگے چل کر اس کو پڑھائیں۔ میرے لیے سعادت مندی کی بات یہ ہے، لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ میں سنا استاد کا شاگرد ہوں، میرے لیے یہ کمال ہے، میرے لیے سعادت مندی ہے کہ میں فلاں شاگرد کا استاد ہوں۔ مولانا زاہد صاحب جیسے، اللہ ان کو درجۂ خیر عطا فرمائے، مولانا احمد عمر صاحب جیسے، مولانا شاہد عبید جیسے، مولانا حسن صاحب جیسے، اللہ تعالیٰ نے مجھے سب کے ساتھ یہ نسبت جوڑ کر رکھی ہے میری، اور میں سمجھتا ہوں میرے لیے بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ بہرحال، مجھے آپ کو پتہ ہے میں آج سے تقریباً آٹھ دس سال، جس سال مولوی ظفر صاحب وہ میرے جو مدرس تھے، ان کا سال تھا، میں نے بڑی بہادری یہ کی تھی کہ میں نے مناظرے تک پڑھایا۔ اور مناظرے کے بعد جو ذوی الارحام کے مسائل ہیں، واقعی تا وہ بڑے، ایک عجیب، ٹیڑھی کھیر جسے کہہ لیں، وہ بنتے ہیں۔ اس لیے یہ آپ نے الحمدللہ سارے بڑے، شروع سے آپ نے جیسے کہ شروع کیا، مصنف علیہ الرحمہ نے کتاب کے آغاز ہی میں آپ کو بتا دیا گیا تھا کہ یہ فن بڑا محکم، ذیشان اور بڑا عجیب فن ہے۔ [unclear] اس پورے فن کو نصف علم کہا گیا ہے۔ اور آپ کے استادِ محترم نے وہاں پر مختلف تواریخ کی ہوں گی، اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ جو حقوقِ اربعہ متعلق ہوتے ہیں اس کا تذکرہ ہوا، اس کے بعد آپ کے سامنے اجمالی طور پر فصل کے شروع میں تین قسم کے ورثا کا تذکرہ کیا گیا تھا، ایک ذوی الفروض، ایک عصبات اور تیسرا ذوی الارحام۔ ذوی الفروض کہ جن کا حصہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مقرر ہو، وہ ذوی الفروض، اور جن کا حصہ مقرر نہ ہو وہ عصبات، اور جو نہ ذوی الفروض میں سے ہوں، نہ عصبات میں سے ہوں، وہ ذوی الارحام۔ اس کے بعد آگے چل کر مصنف علیہ الرحمہ نے پھر موانعِ عرس بیان فرمائے تھے، جس میں سے غلامی تھا، قتل تھا، اختلافِ دینین تھا، اختلافِ دارین تھا۔ اس کے بعد آگے مسئلے کو بڑھاتے ہوئے پھر تفصیل سے بیان فرمایا کہ جو حصے مقرر ہیں کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہ میں، وہ چھ قسم کے ہیں، النصف، الربع، الثمن، الثلث، السدسان، الثلث۔ پھر اس کے بعد اس مسئلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید یہ فرمایا کہ ذوی الفروض کی تعداد کل بارہ میں، چار مردوں میں سے اور آٹھ عورتوں میں سے۔ چار مرد کون سے تھے، وہ آپ کے سامنے ان کی تفصیل آ گئی، الاب ہے، جد ہے، اولادِ ام ہے، اور زوج ہے۔ اس کے بعد آٹھ عورتیں، نساء میں سے، خواتین میں سے آٹھ کا تذکرہ ہوا۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد مصنف علیہ الرحمہ نے آگے چل کر پھر حجب کا بیان کیا کہ کون کون سے ورثا حاجب بن سکتے ہیں اور کون کون سے نہیں بن سکتے۔ اس کے بعد اگر مخرج تن ہو جائے مسئلے کو بڑھایا جائے، اس کو عول بولتے ہیں، اس کا تذکرہ کیا۔ پھر اس کے بعد درمیان میں تصحیح کے مسائل کو ذکر فرمایا اور مسئلے کا استخراج کیسے کیا جاتا ہے کہ مسئلہ کب چھ سے ہوگا، کب بارہ سے ہوگا، کب چوبیس سے ہوگا، کب ایک سو چوالیس سے ہوگا، کب دو ہزار بتیس سے ہوگا، وہ سارے کے سارے الحمدللہ تفصیل کے ساتھ آپ نے تفصیل کے اصول و ضوابط کے ساتھ سارا سیکھ لیا۔ اس کے بعد مناسبہ کا، مخاصمت الجد کا تذکرہ آیا، اخارج کا بیان آیا، پھر آپ کو عددیں کی جو نسبتیں تھیں، تماسُل ہے، توافق ہے، تباین ہے، تداخل ہے، ان کا تذکرہ آیا۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد مصنف علیہ الرحمہ نے آپ کے سامنے ذوی الارحام کا تذکرہ کیا۔ اس کی چار اقسام کا تذکرہ آیا، اس کے بعد پھر حمل کا بیان کیا، پھر خنثیٰ کے مسائل کا بیان فرمایا، پھر مفقود کے مسائل اور اسیر کے مسائل، آخر میں جا کر مصنف علیہ الرحمہ اس فصل پر رک رہے ہیں فصل فی الغرقی والحرقی والھدما۔ غرقی یہ غریق کی جمع ہے، حرقی حریق کی جمع ہے، اور ہدما ھدیم کی جمع ہے۔ غریق معنی جو غرق ہونے والا، پانی میں غرق ہو جائے، حرقی جو جل جائے، ہدما کوئی چھت اوپر سے گر جائے، زلزلہ آ جائے، بیٹھے ہوئے تھے، سارے کے سارے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اب اگر ورثا جو ایک دوسرے کے وارث بنتے تھے، وہ سب اکٹھے ہی دنیا سے چلے جائیں، تو اس کی تقسیم کیسے کی جائے گی؟ اس کے بارے میں مصنف علیہ الرحمہ نے دو اقوال ذکر کیے۔ مصنف یہ قول پہلا ذکر فرما رہے ہیں کہ جو مر چکے ہیں، جو آپس میں وارث بن سکتے تھے، جیسے باپ ہے، بیٹا ہے، بھئی ہے، اس طرح جن میں وہ وراثت کا احتمال بن سکتا تھا، اگر وہ اکٹھے مر جاتے ہیں، تو کیا ایک کو دوسرے کا وارث بنایا جائے گا یا نہیں بنایا جائے گا؟ اس میں مصنف علیہ الرحمہ نے دو اقوال ذکر کیے۔ مصنف کا یہ قول اور مختار قول یہ ذکر کر رہے ہیں کہ جو مر چکے ہیں، ان کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا جائے گا، بلکہ مسئلے کو سیدھا سیدھا تقسیم کر دیں گے، جو زندہ ہیں ان کو ان کے ورثا قرار دیا جائے گا۔ آپ کو چونکہ آپ مسائل پڑھ پڑھ کے تھک گئے ہیں، تو صندی نے آپ کو تسلی کا بھی خیال کیا، کہ آپ کو نئے سرے سے اوپر سے مسئلے کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے یوں سمجھنا ہے کہ یہ سارے کے سارے اکٹھے مارے گئے۔ کہ ان کو ماتوا جمیعاً، اکٹھے ہی سارے کے سارے مر گئے۔ تو اس صورت کے اندر آپ نے ایک دوسرے کے ساتھ وراثت میں حصہ نہیں لینا۔ برخلاف مناصفہ کے، مناصفہ میں آپ کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ وارث پہلے فوت ہوا ہے، اس کے بعد یہ وارث نمبر دو پہ فوت ہوا ہے، اس کے بعد یہ تیسرے، اس میں تو آپ کو یہ سارا کا سارا کھیل کھیلنا پڑے گا اور یہ تقسیم کرنی پڑے گی کہ پہلے وارث کی تقسیم یوں ہے، اس کی تقسیم یوں ہے، اس اگلے کی تقسیم یوں ہے، پھر ماں سے یہ اور مسئلے میں کیا نسبت ہے، اس کو پھر اس اسلوب کے مطابق لے کر چلنا پڑے گا جو آپ کو استاد صاحب نے پڑھا دیے۔ تو آسان حل انہوں نے یہ بتایا کہ مختار قول یہ ہے کہ جو فوت ہوئے ہیں، اب یہ پتہ نہیں ہے کہ اکٹھے فوت ہوئے ہیں یا یکے بعد دیگرے فوت ہوئے ہیں۔ اب واقع اگر یکے بعد دیگرے فوت ہوئے ہیں، پھر تو وارث ایک دوسرے کے بنیں گے۔ اگر اکٹھے فوت ہوئے ہیں، تو وارث نہیں بنیں گے۔ تو وراثت کے ثبوت میں شک ہے۔ شک سے حکم ثابت نہیں ہوتا، اس لیے ایک وارث دوسرے وارث کا جو فوت ہو گئے ہیں اکٹھے، تو وارث نہیں بنیں گے کیونکہ شک سے وراثت ثابت نہیں ہوتی۔ جبکہ دوسری جماعت کی رائے یہ ہے، دوسری جماعت کی رائے یہ ہے کہ اس کی تقسیم کی جائے کہ جو وارث اکٹھے فوت ہوئے اس میں یہ کیا جائے گا پہلے جو وارث سمجھیں گے ایک وارث فوت ہو گیا اس کا یہ دوسرا وارث تھا اس کا حصہ اس کو دیجیے پھر اس سے آگے اس کے ورثاء میں تقسیم کیجیے وہ یہ کہتے ہیں ان کی دلیل بھی یہی بنتی ہے کہ دیکھیں محروم کرنا یہ بھی تو آپ ایک کو دوسرے سے جو محروم کر رہے ہیں کسی شک کی بنیاد پر کر رہے ہیں نا تو ہو سکتا ہے کہ اکٹھے فوت ہوئے ہوں اس میں یہ بھی تو احتمال ہے نا کہ ایک کے بعد دیگرے فوت ہوئے ہوں تو شک کی بنیاد پر آپ کسی کو محروم نہیں کر سکتے پہلا گروہ کہتا ہے کہ شک کی بنیاد پر آپ کسی کو وارث نہیں قرار دے سکتے دوسرا گروہ کہتا ہے کہ شک کی بنیاد پر دوسرے کو محروم نہیں کر سکتے اصل اصول یہی ہے ان دونوں جماعتوں میں اصول یہ بنا ہے تو پہلے مسئلے کو انہوں نے ذکر فرمایا محدث نے اس کی ایک مثال لی دیکھیں باپ اور بیٹا باپ ہے بیٹا ہے یہ دونوں کشتی میں جا رہے تھے کشتی ڈوب گئی باپ کی ایک بیٹی ہے اور ایک پوتی ہے ٹھیک ہے ادھر سے یہ بیٹا ہے اس بیٹے کی بیٹی ہے اور ادھر سے بہن ہے تو کیا الگ الگ تقسیم کریں گے یا براہ راست اس کو تقسیم کریں گے؟ انہوں نے کہا جی اب براہ راست تقسیم کر دیا جائے گا یہ نہیں آپ نے کرنا کہ پہلے باپ کی وراثت کو تقسیم کریں بیٹی اور پوتی میں پھر بیٹے کی وراثت کو تقسیم کریں بہن اور بیٹی میں براہ راست ان دونوں کے حصے کو تقسیم کر دیا جائے گا اس طریقے سے نہیں کیا جائے گا کہ پہلے باپ کا وارث بیٹے کو ٹھہرائیں گے اور پھر اس کے بعد آگے تقسیم شروع ہوگی نہیں یوں سمجھا جائے گا بس یہ دو ہی اس وقت بنیادی ہیں اور ان کا حصہ اپنے اپنے تناسب سے منقسم کر دیا جائے گا جبکہ دوسرے رائے والے یہ کہتے ہیں کہ نہیں ایک کو دوسرے کا وارث بنائیں گے اور وارث بنانے کے بعد پھر اس کی آگے تقسیم کی جائے گی یہ خلاصہ تھا اس فصل کا لیکن چونکہ مسئلہ بہت کم واقع ہوتا ہے اصل تفصیلات جو آپ نے شروع میں پڑھ لی ہیں کہ مسئلے کا استخراج مسئلہ آپ کے سامنے آیا آپ کے سامنے کوئی بھی مسئلہ بیان کر دیا جائے کہ مفتی صاحب یہ مسئلہ آپ کے سامنے ہم پیش کرتے ہیں آپ اس کو لکھیں آپ نے جب اتنی تفصیل سے اپنے استاد محترم سے پڑھ لی ہے تو اب آپ کے ذمے لازم ہے کہ کھڑے کھڑے بھی آپ سے مسئلہ پوچھا جائے تو آپ آنکھیں بند کر کے جواب دیں اس کا چلو جی مسئلہ 75 سے نکلتا ہے 25 اس کے ہیں، 13 اس کے ہیں، 20 اس کے ہیں آپ کو وہ سارے کے سارے ضابطے سارے کے سارے ضابطے ازبر ہونے چاہیے اور ان ضابطوں کے پیش نظر یہ دنیا دار ہمارے پاس وکلاء آتے ہیں پوچھتے ہیں مسئلہ کہ کیا اس میں منطق ہے کیا وجہ ہے کہ آپ نے مسئلہ 120 سے نکالا ہے؟ ہمیں بھی تو سمجھائیں ان کو یہ سمجھاتے ہیں اللہ کے بندو! اس کو سمجھانے کے لیے تو سال بھر کتاب پڑھنی پڑتی ہے ٹھیک ہے نا؟ آپ کو جو ان پر فوقیت حاصل ہے یہ کتاب پڑھنے کی وجہ سے حاصل ہے ورنہ وہ حساب کتاب میں شاید آپ سے زیادہ ماہر ہوں لیکن طریقہ کار سے وہ واقف نہیں آ رہی ہے بات سمجھ میں؟ اس لیے جو درود اور ان کے شحص اور عصبات اور ان کی جو تقسیم آپ نے پڑھی کہ عصبہ بنفسیہ، عصبہ بغیرہ، عصبہ مع غیرہ عصبہ بنفسی کی آپ نے چار قسمیں پڑھیں جزو المیت، اصل المیت، جزو اب المیت، جزو الجد المیت یہ موٹی موٹی چیزیں ہوتی ہیں ان کو یاد رکھیں گے تعصیب کے اصول کو یاد رکھیں گے کہیں کہیں رد کا مسئلہ آ جاتا ہے اور کہیں کہیں عول کا مسئلہ آتا ہے زیادہ تر تعصیب کے مسائل کو اس میں بہت زیادہ دخل ہوتا ہے تعصیب کے وہ جو سات اصول ہیں وہ آپ کے ذہن میں رہیں گے کوئی بھی مسئلہ انشاءاللہ العزیز آپ کے سامنے آئے گا تو پھر وہ بچ کے نہیں جائے گا آپ اس کو لکھ لیں گے ٹھیک ہے وہ جو استاد صاحب نے جو آپ کے سامنے تفصیلات بیان کی ہیں ان کو یاد رکھنا ہے اور پھر ان کی اور علمی ترقی کے لیے آپ لوگوں نے دعا کرنی ہے سمجھ آئی کہ نہیں؟ کہ ایسے لوگ الحمدللہ میں تو کہتا ہوں اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ ایسوں کی تعداد بہت زیادہ ہونی چاہیے گو اس وقت لاکھوں میں اس طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں کہ ایک ذوق و شوق کے ساتھ اس محنت کے ساتھ یہ صرف آپ کے لیے کتاب نہیں پڑھائی جا رہی مجھے یقین کریں کراچی سے ایک بہت بڑے صاحب مجھے ملے کہنے لگے جی مولانا زہیب صاحب یہاں میں سیشن میں ہوتے ہیں کافیہ کی تقسیم میں وہ بہت بڑے عالم تھے پھر سن کر میں بڑا متاثر ہوا اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ میں ان کے سامنے بیٹھ کر پڑھ رہا ہوں اردو دز سے لوگ الحمدللہ ثم الحمدللہ فائدہ اٹھا رہے ہیں یہ میڈیا ہے ہم اس کو اس طریقے سے استعمال کریں آئی بات سمجھ میں؟ استاد کا کام تھا اپنے علوم کو آپ کی طرف منتقل کرنا اب آپ کا کام یہ ہے کہ ان سے جو آپ نے سیکھا ہے آپ نے آگے اس کو منتقل کر دینا ہے دیکھیے ہم اس کو پڑھنا شروع کریں اگر وہ دونوں اکٹھے ہی بندے مر گئے ولا یدری یہ خبر نہ ہو سکی ایھم مات اولاً کہ پہلے کون فوت ہوا؟ تو اب کیا فرق کریں گے؟ جعلوا کانھم ماتوا معا یوں سمجھا جائے گا جس طرح کے اکٹھے ہی فوت ہوئے ہیں فما لكل واحد منهم لورثته الأحياء تو ان میں سے جتنے فوت ہوئے ہیں ان میں سے ہر ہر بندے کا مال اس کے اس وارث کے لیے ہوگا جو اس وقت زندہ ہے ولا يرث بعض الأموات من بعض بعض مردے بعض دوسرے مردوں سے وارث نہیں ہوں گے اس لیے کہ اس میں شک ہے کہ جیسے یہ احتمال ہے کہ ایک کے بعد دیگرے فوت ہوئے ہوں اس کے یہ بھی احتمال ہیں کہ وہ اکٹھے فوت ہوئے ہوں اور آپ نے شروع میں ایک اصول پڑھا ہے کہ ارکان وراثت میں سے یہ ہے کہ موت موت مورث مورث کا انتقال پہلے ہوگا وارث اس وقت زندہ ہوگا تب وہ وارث اس مورث کا وارث بن سکے گا اگر ایک بیٹے کا انتقال باپ سے پہلے ہو جاتا ہے اور اس کے دوسرے بیٹے بھی زندہ ہیں تو آپ نے مسئلہ پڑھ لیا کہ وہ بیٹا اپنے باپ کے ترکے سے اور اس کی آگے اولاد اپنے دادا کے ترکے سے وارث نہیں ہوگی جس وقت مورث کا انتقال ہو رہا ہے اس وقت وارث کا ہونا ضروری ہے اور یہاں اس میں شک ہے پتہ نہیں تھا اس وقت یا نہیں تھا تو شک کی وجہ سے وراثت ثابت نہیں ہوگی هذا هو المفتى به قول المفتى والمسئ به قوله حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں یَرِثُ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ کہ بعض بعض کے وارث ہوں گے الا بما ورث كل واحد منهم لصاحبه ما سوى ذلك کہ ان میں سے ایک دوسرے سے جو وارث بن رہا ہے واللہ أعلم بالصواب وإليه المرجع والمآب اور میں مولانا زہیب صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ دعا کرائیں الحمد للہ رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الانبياء والمرسلين یا اللہ! جتنا مولانا زہیب صاحب نے جس طرح محنت سے اس کتاب کو ختم کروایا ہے یا اللہ ان کی محنت کو قبول و منظور فرما آمین جن طلباء نے یا اللہ پڑھا ہے ان کو صحیح سمجھ نصیب فرما اور آگے اس علم کو منتقل کرنے کی توفیق نصیب فرما خصوصیت کے ساتھ ہمارے استاد محترم مولانا مفتی مصباح خان صاحب رحمتہ اللہ علیہ کہ جن کے یہ فرزند ہیں یا اللہ ان کے علمی فیض کو ان کے ذریعے سے پوری دنیا کے اندر یا اللہ جاری و ساری فرما جس طرح ان کو علم کی ترقی نصیب ہو رہی ہے یا اللہ ان کو مرتے دم تک اس علمی ترقی پر یا اللہ قائم و دائم رکھنا اے اللہ! ہم سب کو دین کا خادم! اے اللہ! ہم سب کو دین کا خادم! اور دین کا سپاہی بنا! اے اللہ! ہم سب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت نصیب فرما! یا اللہ! مولانا زہیب صاحب کی والدہ کو، ان کے بہن بھائیوں کو، ان کے گھر والوں کو یا اللہ سب کو عافیت والی زندگیاں اور ہم سب کے گھر والوں کو یا اللہ عافیت والی زندگی نصیب فرما! اے اللہ! بڑھوتری کا معاملہ فرما! اے اللہ! عافیت والا معاملہ فرما! مسلمان جہاں جہاں پریشان ہیں یا اللہ ان کی غیب سے نصرت! ان کی مدد اور ان کی حفاظت فرما! یا اللہ! ان کے بھی مراکز کو قائم و دائم فرما! یا اللہ! ہم سب کو محنت کرنے کی توفیق نصیب فرما! اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا سچا غلام بنا! یا اللہ! سچا غلام بنا! یا اللہ! جتنے اساتذہ نے دعا کے لیے کہا ہے چاہ رہے ہیں تمام کی یا اللہ! جائز مقاصد کو پورا فرما! تمام کے بیماروں کو صحت و استقامت کاملہ عاجلہ مستمرہ نصیب فرما! یا اللہ! ہم سب کے والدین کی بخشش فرما! یا اللہ! ہم سب کو اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرما! اور ہم سب کا خاتمہ یا اللہ! ایمان اور اسلام پر فرما! ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العلیم وتب علينا يا مولانا إنك أنت التواب الرحيم یا اللہ! ہم سب کے بچوں کو بھی دیندار بنا! یا اللہ! اسی طرح ان کو بھی دین کا خادم بنا! وسلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وعلى آله وصحبه اجمعين