فصل فی اولادھم الحکم فیھم كالحکم فی الصنف الاول ان اولاہم بالمیرات اقربھم الی المیت من ای جھۃ کان و ان استووا فی القرب و کان حیز قرابتھم متحدأ فمن کانت لہ قوۃ القرابت فھو اولی بالاجماع۔ ذوی الارحام میں سے چوتھی قسم ہم پڑھ رہے تھے بھئی۔ اور چوتھی قسم میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ دس افراد ہیں بھئی۔ حقیقی پھو پھی، علاتی پھو پھی، اخیافی پھو پھی اور اخیافی چچا۔ یہ چار ہیں باپ کی طرف سے۔ اور حقیقی علاتی اور اخیافی ماموں اور اسی طرح حقیقی علاتی اور اخیافی خالہیں۔ اور اسی طرح ان کی آگے پھر اولاد بھئی۔ تو یہ جو پہلے دس افراد ہیں ان کا ذکر گزشتہ فصل میں ہو گیا تھا بھئی۔ اور وہاں مصنف نے کئی ضابطے ذکر کیے کہ کس طرح ان میں مال تقسیم ہوگا لیکن یہ ذکر نہیں کیا تھا کہ جو زیادہ کہ جو میت کے زیادہ قریب ہو وہ زیادہ حقدار ہوگا کیونکہ وہ سارے ایک ہی درجے کے تھے۔ قرب اور قرب کے اعتبار سے وہ سارے کیا ہیں؟ برابر تھے، سارے کے سارے کا قرب میت کے ساتھ برابر کا تھا۔ ہاں ان کی اولاد میں قرب اور بعد ہوگا، کوئی قریب والی ہوگی، کوئی بعید والی تو اس میں قرب و بعد کو ذکر کریں گے لیکن خود ان کے اندر قرب اور بعد نہیں سب ایک ہی درجے کے ہیں بھئی ایک ہی درجے کے برابر ہیں بھئی۔ تو اب یہ ان کی اولاد کا ذکر آگے آرہا ہے بھئی۔ فصل فی اولادھم یہ فصل ہے ان کی اولاد میں۔ الحکم فیھم کالحکم فی الصنف الاولی ان کے اندر حکم اسی طرح ہے جس طرح کہ پہلی قسم میں تھا بھئی۔ یہ جو چوتھی قسم کی اولاد ہے ان میں حکم اسی طرح ہے جس طرح ذوی الارحام کی پہلی قسم میں تھا۔ یعنی اولاہم بالمیرات اقربھم الی المیت یعنی ان میں سے میراث کے زیادہ لائق وہ ہے جو میت کے زیادہ قریب ہے من ای جھۃ کان جس جھت سے بھی وہ ہو۔ چاہے حقیقی حقیقی کی اولاد ہو یا یعنی یا علاتی ہو یا اخیافی ہو جس جھت سے بھی ہو یعنی ماں باپ دونوں کی طرف سے ہو یا صرف باپ کی طرف سے یا صرف ماں کی طرف سے جس جھت سے بھی ہو وہ بھئی۔ پیچھے آیا تھا نا؟ حقیقی پھو پھی بھی ہو سکتی ہے، علاتی پھو پھی بھی اسی میں ہے اور اخیافی بھی، تو تین قسم کے اس میں آرہے تھے، اسی طرح ماموں اور خالہ وغیرہ میں بھی تو جس جھت سے بھی اولاد جو زیادہ قریب والی ہے وہ زیادہ حقدار ہوگی۔ تو کہتے ہیں من ای جھۃ کان جس جھت سے بھی ہوں و ان استووا فی القرب اور اگر وہ برابر ہوں قرب کے اندر یعنی سبھی مثلاً دوسرے درجے والے ہیں یا سبھی جتنے زندہ ہیں اس وقت وہ تیسرے درجے والے ہیں و کان حیز قرابتھم متحدأ اور ان کی جہت قرابت بھی متحد ہو۔ یعنی سارے اگر باپ کی طرف کے ہیں یا سارے کس کی طرف کے ہیں؟ ماں کی طرف کے ہیں۔ فمن کانت لہ قوۃ القرابت فھو اولی بالاجماع تو پس جس کے لیے قوت قرابت ہے فھو اولی بالاجماع تو وہ بالاجماع اولی ہے۔ بھئی کئی ذوی الارحام جمع ہوگئے اس چوتھی قسم والے، چوتھی قسم والے یعنی کہ چوتھی قسم میں کون کون تھے؟ حقیقی پھو پھی، علاتی پھو پھی، اخیافی پھو پھی اور اس کی اولاد اور اسی طرح اخیافی چچا کیونکہ حقیقی اور علاتی چچا وہ تو عصبہ ہیں، اسی طرح ماں کی طرف کون کون رشتے دار تھے؟ حقیقی ماموں، علاتی ماموں اور اخیافی ماموں، اسی طرح حقیقی خالہ، علاتی خالہ اور اخیافی خالہ۔ تو سب سے پہلے انہوں نے ضابطہ یہ ذکر کیا کہ جو ان کی اولاد میں میت کے قریب ہوگا، مثلاً کوئی اولاد پہلے درجے میں والی ہے، پہلی پشت والی ہے، کوئی دوسرے پشت والی ہے، کوئی تیسرے پشت والی ہے تو اولی کون ہوگی؟ پہلے پشت والے۔ اور اگر وہ سارے برابر میں ہیں یعنی سارے ہی مثلاً دوسری پشت کے ہیں یا سارے ہی تیسری پشت کے ہیں، یعنی قرب میں برابر ہیں اور جہت قرابت بھی ان کی متحد ہے، جہت قرابت متحد ہونے کا کیا معنی؟ سارے والد کی طرف کے ہیں، یعنی حقیقی پھو پھی یا علاتی پھو پھی یا اخیافی پھو پھی یا اخیافی چچا ان کی اولاد ہیں، تو جہت قرابت کیا ہوئی؟ متحد، کس کی طرف سے ہیں یہ سارے رشتہ دار میت کے؟ باپ کی طرف سے، یا سارے کس کی طرف سے ہیں؟ ماں کی طرف سے یعنی حقیقی، علاتی، اخیافی خالاؤں یا ماموں کی اولاد ہیں۔ تو اس صورت میں جس میں قوت قرابت ہوگی وہ اولی ہوگا۔ سارے ہیں ایک درجے کے اور فرض کریں مثلاً ماں کی جہت کے ہیں اور ماں کی جہت میں حقیقی ماموں بھی آتا تھا، اس کی اولاد بھی، علاتی ماموں کی اولاد بھی اور اخیافی ماموں کی اولاد بھی، تو ان سب کی اولاد تیسری پشت والی زندہ ہے، کس کو دیں بھئی؟ حقیقی ماموں کی بھی تیسری پشت والی اولاد، علاتی ماموں کی بھی اور اخیافی ماموں کی بھی، تو کس کو دیں؟ حقیقی ماموں کی اولاد کو کیونکہ اس کو قوت قرابت ہے بھئی، قوت قرابت ہے۔ یہ معنی ہے کہتے ہیں و ان استووا فی القرب اگر وہ برابر ہوں قرب میں و کان حیز قرابتھم متحدأ اور ان کی جہت قرابت بھی متحد ہو یعنی وہ سارے ہی باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف کے رشتہ دار ہوں فمن کانت لہ قوۃ القرابت فھو اولی بالاجماع پس جس کو کے لیے قوت قرابت ہو وہ اولی ہے بالاجماع و ان استووا فی القرب و القرابت اور اگر وہ برابر ہوں قرب میں بھی و القرابت اور قرابت میں بھی، یعنی سارے ہی حقیقی کی اولاد ہیں یا سارے ہی علاتی کی اولاد ہیں، کوئی بھی چاہے ماموں ہو، خالہ ہو و کان حیز قرابتھم متحدأ اور ان کی جہت قرابت بھی متحد ہے یعنی ایک ہی جہت سے ہیں، والد کی طرف سے یا والدہ کی طرف سے فولد العصبۃ اولی تو پھر ولد العصبہ جو ہیں وہ اولی ہوں گے۔ عصبہ کی جو اولاد ہے وہ اولی ہوگی۔ کبنت العم و ابن العمۃ کبنت العم جیسے کہ چچا کی بیٹی و ابن العمۃ اور پھو پھی کا بیٹا چچا کی بیٹی ذکر کی بھئی بیٹے کو کیوں نہیں ذکر کیا؟ کیونکہ وہ کیا بنے گا؟ عصبہ اگر وہ حقیقی یا علاتی چچا ہو۔ کبنت العم جیسے کہ چچا کی بیٹی و ابن العمۃ اور پھو پھی کا بیٹا کلاھما لابی و ام دونوں وہ دو وہ دونوں حقیقی ہیں۔ وہ دونوں حقیقی ہوں، کون دونوں حقیقی ہوں؟ چچا اور پھو پھی بھئی۔ ماں باپ شریک ہوں او لابی یا دونوں کیا ہوں؟ باپ شریک ہوں، یعنی علاتی ہوں تو المال کلہ لبنت العم تو مال سارا کا سارا جو ہے وہ چچا کی بیٹی کے لیے ہوگا لانہا ولد العصبتی کیونکہ وہ عصبہ کی اولاد ہے بھئی، عصبہ کی۔ بھئی دیکھیے چچا کی بیٹی اور پھو پھی کا بیٹا قرب میں دونوں برابر، قرب میں اور دونوں ایک ہی جہت کے ہیں، والد کی جہت کے۔ چچا سے رشتہ کس کی طرف سے ہوتا ہے؟ والد کی طرف سے۔ اور پھر اس کے بعد ہم نے دیکھنا تھا قوت قرابت کو۔ لیکن یہاں قوت قرابت میں بھی برابر ہیں۔ پھو پھی اور چچا دونوں حقیقی ہیں یا دونوں کیا ہیں؟ علاتی ہیں۔ اس کے بعد اب دیکھیں گے ان میں سے کوئی عصبہ کی اولاد تو نہیں؟ تو ہم نے دیکھا کہ چچا جو ہے وہ عصبہ ہے تو اس کی بیٹی وہ اولی ہوگی کس کے مقابلے میں؟ پھو پھی کے بیٹے کے مقابلے میں کیونکہ پھو پھی تو عصبہ نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں المال کلہ لبنت العم مال سارا کا سارا جو ہے وہ چچا کی بیٹی کے لیے ہوگا لانہا ولد العصبتی کیونکہ وہ عصبہ کی اولاد ہے و ان کان احدھما لابی و ام والاخر لابی اور اگر ان دونوں میں سے ایک جو ہے وہ ماں باپ شریک ہو کن دونوں میں سے بھئی؟ یہی جو چچا اور پھو پھی کا ذکر آیا، ان کی اولاد کی بات چل رہی ہے، یہ ان دونوں میں سے یعنی چچا اور پھو پھی میں سے اگر ایک ماں باپ شریک ہو یعنی حقیقی ہو والاخر لابی اور دوسرا باپ شریک ہو یعنی علاتی ہو تو المال کلہ لمن کان لہ قوۃ القرابت فی ظاہر الروایۃ تو مال سارا کا سارا اس کے لیے ہوگا جس کے لیے قوت قرابت ہے ظاہر روایت میں۔ اور قوت قرابت کس کو ہے؟ بھئی ان دونوں میں سے ایک ماں باپ شریک ہو چچا اور پھو پھی میں سے اور ایک صرف باپ شریک، مثلاً بھئی حقیقی پھو پھی کا بیٹا اور علاتی چچا کی بیٹی حقیقی پھو پھی کا بیٹا اور علاتی چچا کی بیٹی۔ اب دیکھا جائے تو ایک عصبہ کی اولاد ہے، اس کو ترجیح ہونی چاہیے علاتی چچا کی بیٹی وہ کس کی اولاد ہے؟ عصبہ کی۔ اور دوسری طرف دیکھا جائے تو حقیقی پھو پھی کا بیٹا ہے، اس کو قوت قرابت حاصل ہے، ماں باپ شریک ہے بھئی۔ تو اب کس کو ترجیح دیں گے؟ عصبہ کی اولاد کو یا قوت قرابت والے کو؟ تو کہتے ہیں جس کے قوت قرابت ہے ظاہر روایت کے مطابق اس کو ترجیح دی جائے گی تو مال کس کو مل جائے گا؟ حقیقی پھو پھی کے بیٹے کو مل جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں المال کلہ لمن کان لہ قوۃ القرابت فی ظاہر الروایۃ مال جو ہے وہ سارا کا سارا اس کے لیے ہوگا جس کو قوت قرابت ہے فی ظاہر الروایۃ ظاہر روایت میں، ظاہر روایت کسے کہتے ہیں بھئی؟ امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابیں جو ہیں ان میں جو مسائل مذکور ہیں ان کو ظاہر روایت کہا جاتا ہے۔ کون کون سی چھ کتابیں؟ مبسوط، زیادات، صغیر، صغیر کبیر، جامع صغیر، جامع کبیر بھئی۔ قیاسأ علی خالۃ لاب مع کونھا اچھا بھئی یہ کس اس کو ترجیح کیوں ہوگی؟ یہ قوت قرابت والے کو عصبہ کی اولاد پر ترجیح کیوں ہوگی؟ کہتے ہیں قیاساً قیاس کرتے ہوئے علی خالۃ لاب کس پر؟ خالۃ لاب کون سی خالہ؟ علاتی خالہ پر قیاس کرتے ہوئے مع کونھا ولد ذی رحم باوجود اس کے ذو رحم کی اولاد ہونے کے کہ وہ ذو رحم کی اولاد ہے ہی اولی یہ اولی ہے بقوۃ القرابت قوت قرابت میں من الخالۃ لئم کس سے اولی ہے؟ اخیافی خالہ سے مع کونھا ولد الوارثۃ باوجود اس کے کہ وہ وارثہ کی اولاد ہے۔ بھئی ایک ہے علاتی خالہ علاتی خالہ اور ایک ہے اخیافی خالہ۔ علاتی خالہ کس کو کہیں گے؟ باپ شریک، کس طرح کیا صورت ہے؟ کس طرح باپ شریک ہے؟ اس خالہ اور اس مرنے والے کی ماں کا والد ایک ہی ہے بھئی، ہاں مائیں الگ الگ ہیں۔ مائیں کیا ہیں؟ یعنی وہ میت کے نانا کی بیٹی ہے۔ علاتی خالہ کس کی بیٹی ہے؟ میت کے نانا کی بیٹی اور نانا ذوی الارحام میں سے ہے کہ عصبات میں سے ہے؟ لائبریری ختم ہونے والی ہے جلدی بتائیے بھئی۔ جی؟ ہاں یہ وہ ذوی الارحام میں سے ہے نہ ذوی الفروض میں سے ہے اور نہ عصبہ۔ تو یہ علاتی خالہ کس کی اولاد ہوئی؟ ذوی الارحام کی اولاد ہوئی۔ دوسری طرف ہے اخیافی خالہ بھئی، اخیافی خالہ۔ اخیافی خالہ کس کو کہتے ہیں؟ مرنے والا جو ہے اس کی جو ماں ہے اس کی ماں اور یہ اخیافی خالہ ان دونوں کی ماں ایک ہی ہے۔ والد الگ الگ ہیں اور ماں ایک ہی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو اب دیکھیے معلوم ہوا یہ مرنے والے کی نانی کی بیٹی ہے۔ اخیافی خالہ کون ہے؟ مرنے والے کی نانی کی بیٹی اور علاتی خالہ کون تھی؟ مرنے والے کے نانا کی بیٹی اور نانا خود کیا ہے؟ ذوی الارحام میں سے اور مرنے والے کی نانی کس میں سے ہے؟ وہ ذوی الفروض میں سے ہے، وہ جدہ صحیحہ ہے۔ تو اب اخیافی خالہ اولاد ہوئی کس کی؟ وارثہ کی اولاد ہوئی اور وہ علاتی خالہ کس کی؟ ذو رحم کی اولاد ہوئی بھئی۔ اور کس کو ترجیح ہے؟ علاتی خالہ کو ترجیح ہے یا اخیافی خالہ کو؟ علاتی خالہ کو ترجیح ہے بھئی۔ ابھی آپ نے پیچھے ضابطہ پڑھا کہ جس کے لیے قوت قرابت ہو کیا ہو؟ قوت قرابت ہو بھئی۔ تو علاتی خالہ کے مقا علاتی خالہ ہے اور اخیافی خالہ ہے۔ کون اولی ان دونوں میں سے؟ علاتی خالہ کس کو کس وجہ سے اولی؟ اس کو قوت قرابت ہے اور دوسری جو ہے وہ وارثہ کی اولاد ہے، معلوم ہوا قوت قرابت کو اولاد وارث ہونے پر ترجیح ہے۔ ایک طرف اولاد وارث ہے ایک طرف قوت قرابت ہے، کس کو ترجیح دی یہاں پر؟ قوت قرابت۔ معلوم ہوا قوت قرابت کو ترجیح ہے کس چیز پر؟ وارث کی اولاد ہونے پر۔ یہاں تک ضابطہ سمجھ میں آیا؟ تو اسی پر قیاس کرتے ہوئے ہم نے کہا کہ قوت قرابت کو ترجیح ہے عصبہ کی اولاد ہونے پر۔ پیچھے ذکر آیا تھا نا؟ حقیقی پھو پھی کا بیٹا اور علاتی چچا کی بیٹی حقیقی پھو پھی کا بیٹا حقیقی پھو پھی کس کو کہیں گے؟ جو مرنے والے کے باپ کی حقیقی بہن ہے، وہ کیا ہے؟ حقیقی پھو پھی۔ یعنی مرنے والے کا اس سے رشتہ دادا کے واسطے سے بھی ہے دادی کے واسطے سے بھی ہے۔ دادا کے واسطے سے بھی اور دادی کے واسطے سے بھی اور دوسری طرف کون ہے؟ علاتی چچا کی بیٹی، علاتی چچا کس کو کہیں گے؟ جو مرنے والے کے باپ کا علاتی بھئی ہے یعنی دادا کا بیٹا ہے، ہاں ماں الگ الگ ہے، مرنے والے کے باپ اور اس علاتی چچا کی ماں الگ الگ ہیں۔ تو دیکھو یہاں پر پُھپھی، اس سے رشتہ دادے کے ذریعے بھی اور دادی کے ذریعے بھی اور علاتی چاچا سے رشتہ صرف کس کے ذریعے؟ صرف دادا کے ذریعے ہے۔ تو کس کو قوتِ قرابت حاصل ہے؟ حقیقی پُھپھی کو قوتِ قرابت حاصل ہے اور ترجیح پھر کس کو دیں گے؟ ہاں، حقیقی پُھپھی کی کا بیٹا ہے اور علاتی چاچا کی بیٹی ہے۔ تو یہ حقیقی پُھپھی کا جو بیٹا ہے اس کو قوتِ قرابت حاصل ہے اور علاتی چاچا کی بیٹی کو دیکھیں تو وہ اخیافی کی اولاد ہے۔ اب ان دونوں میں سے کس کو ترجیح دیں گے؟ ایک طرف قوتِ قرابت ہے، ایک طرف اولادِ عصبہ ہے۔ کس کو ترجیح دی انہوں نے ظاہرِ روایت میں؟ قوتِ قرابت کو۔ کیوں؟ کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ علاتی خالہ کے، کہ علاتی خالہ کو ترجیح ہوتی ہے کس پر؟ اخیافی خالہ پر۔ اور علاتی خالہ کو کیوں ترجیح ہوتی ہے؟ قوتِ قرابت کی وجہ سے۔ حالانکہ اخیافی خالہ جو ہے وہ وارثہ کی اولاد ہے۔ تو معلوم ہوا کہ قوتِ قرابت کو وارث کی اولاد ہونے پر تقدم حاصل ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں قیاساً علی خالۃ لأب قیاس کرتے ہوئے علاتی خالہ پر مع کونِہا ولد ذی رحِم با وجودِ اس کے کہ وہ ذو رحِم کی اولاد ہے، ہی اولی، یہ اولی ہے، یہ علاتی خالہ بقوۃِ القرابۃ قوتِ قرابت کی وجہ سے من الخالۃ لأم کس سے اولی ہے؟ اخیافی خالہ سے مع کونِہا ولد الوارثہ با وجود اس کے وارثہ کی اولاد ہونے کے، لأنّ الترجیح لمعنًی فیہ اسی کیونکہ ترجیح دینا جو ہے لمعنًی فیہ اس معنی کی وجہ سے ہوگا فیہ جو اس اس ذو رحِم، اس کی ذات میں ہو۔ اس ذو رحِم کی بھئی دیکھیے ضابطہ کیا بنا؟ کیا ضابطہ ذکر کیا انہوں نے؟ قوتِ قرابت کو اولادِ وارث ہونے پر ترجیح ہوگی۔ وجہ یہ کہ قوتِ قرابت اس شخص کی اپنی ذات میں موجود ہے۔ حقیقی پُھپھی کا بیٹا اس کی اپنی ذات میں ہی ایک معنی پایا جا رہا ہے۔ بھئی دیکھیے دو چیزیں ہیں یہاں پر، ایک قوتِ قرابت ہے، وہ تقاضا کرتی ہے اس کو ترجیح ہونی چاہیے۔ دوسری طرف ایک چیز ہے وارث کی اولاد ہونا، وہ تقاضا کرتا ہے اس کو ترجیح ہونی چاہیے۔ دونوں ترجیح کا تقاضا کر رہے ہیں لیکن غور کریں تو دیکھیں جو قوتِ قرابت ہے، وہ اس شخص کی اپنی ذات میں موجود ہے، یعنی پُھپھی کا جو بیٹا ہے، اس کی اپنی ذات میں کیا ہے؟ اس کی اپنی ذات میں قوتِ قرابت ہے۔ اور دوسری ترجیح کی جہت کیا تھی؟ وارث کی اولاد ہونا، چاچا کا بیٹا چاچا کی بیٹی، علاتی چاچا کی بیٹی وہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کو ترجیح ہونی چاہیے، کس وجہ سے؟ کیونکہ یہ عصبہ کی اولاد ہے، تو یہ بھی ترجیح کا تقاضا کر رہی ہے، لیکن وہ معنی، وہ سبب جس کی وجہ سے یہ ترجیح کا تقاضا کر رہی ہے، وہ سبب اس بیٹی میں موجود ہے یا اس کے والد میں موجود ہے؟ اس کے والد میں موجود ہے، تو ایک میں ترجیح دینے کا جو سبب ہے، وہ اس کی اپنی ذات میں ہے یعنی قوتِ قرابت، اور دوسرے میں وہ سبب کیا ہے؟ اس کے غیر میں پایا جا رہا ہے، اور وہ سبب جو اپنی ذات میں ہو، وہ قوی ہوگا کس کے مقابلے میں؟ جو غیر میں ہو۔ صورت سمجھ ائی کہ نہیں آئی بھئی؟ قوتِ قرابت پُھپھی کی اس ذات میں موجود ہے، پُھپھی کی حقیقی پُھپھی کے بیٹے میں اور علاتی چاچا کی کی جو بیٹی ہے، وہ بھی ترجیح کا تقاضا کر رہی ہے، لیکن کس وجہ سے ترجیح کا تقاضا کر رہی ہے؟ عصبہ کی اولاد ہونے کی وجہ سے، یعنی یہ عصبہ کی اولاد ہے اور تو وہ جو ترجیح کا سبب ہے، وہ اس خود تو یہ عصبہ نہیں۔ علاتی چاچا کی بیٹی، یہ عصبہ ہے؟ نہیں۔ لیکن یہ ترجیح کا تقاضا کس لیے کر رہی ہے؟ اپنے والد کی وجہ سے کہ وہ عصبہ ہے اور میں اس کی بیٹی ہوں۔ تو وہ سبب ترجیح والا غیر میں پایا جا رہا ہے، اس بیٹی کی خود اپنی ذات میں نہیں ہے۔ اور پُھپھی کے بیٹے کی اپنی ذات میں قوتِ قرابت موجود تھی، اور وہ سبب جو اپنی ذات میں ہو، وہ اولی ہوگا اس سبب کے مقابلے میں جو غیر میں پایا جائے۔ صورت اب سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے لأنّ الترجیح لمعنًی فیہ اس لیے کیونکہ ترجیح دینا لمعنًی، معنی سبب کے معنی میں ہے بھئی، لأنّ الترجیح لمعنًی اسی کیونکہ ترجیح دینا اس سبب کی وجہ سے فیہ جو اس کے وارث کی اس ذو رحِم کی اپنی ذات میں ہے، وہو قوۃُ القرابتی اور وہ کیا ہے اپنی ذات میں جو سبب ہے، وہ قوتِ قرابت ہے۔ اولی یہ اولی ہے من الترجیح کس کے مقابلے میں؟ ترجیح دینا لمعنًی فی غیرِہ اس سبب کی وجہ سے جو اس کی غیر میں ہے، وهو الإدلاء بالوارثِ اور وہ وارث کے ذریعے منسوب ہونا ہے۔ کس کے ذریعے؟ وارث کے۔ عبارت سمجھ میں آئی؟ ترجیح دینا اس سبب کی وجہ سے جو اس کی اپنی ذات میں ہے، یہ اولی ہے ترجیح دینا اس سبب کی وجہ سے جو اس کے غیر میں ہے اور وہ سبب درمیان میں ذکر کردیا وہو قوۃُ القرابتی اور دوسرے کا بھی سبب ذکر کردیا وہو الإدلاء بالوارثِ تو قوتِ قرابت معلوم ہوا اولی ہے کس کے مقابلے میں ادلاء بالوارث کے مقابلے میں۔ وقال بعضہم اور کہا بعض نے المالُ کلُّہ لبنتِ العمِ کہ مال سارا کا سارا جو ہے وہ چاچا کی بیٹی کے لیے ہوگا لبنتِ العمِ لأب علاتی چاچا کی بیٹی کے لیے ہوگا، اسی صورت میں حقیقی پُھپھی کا بیٹا اور علاتی چاچا کی بیٹی، بتلایا ظاہرِ روایت کے مطابق مال سارا کس کو ملے گا؟ حقیقی پُھپھی کے بیٹے کو۔ کہتے ہیں بعض علماء فرماتے ہیں المالُ کلُّہ لبنتِ العمِ لأب کہ مال سارا کا سارا جو ہے علاتی چاچا کی بیٹی کے لیے ہوگا لأنّہا ولد العصبتی کیونکہ وہ کیا ہے ولد العصبہ ہے۔ لیکن بتلا بھی دیا انہوں نے کہ وارث کی اولاد ہونے کے مقابلے میں قوتِ قرابت اولی ہے۔ وإن استووا فی القربِ اور اگر وہ سب برابر ہوں قرب میں، ولکنّ اختلاف حیّز قرابتہم لیکن مختلف ہو ان کی جہتِ قرابت، یعنی بعض وہ جو ذوی الارحام ہیں، وہ باپ کی جانب مرنے والے کے باپ کی طرف سے ہیں اور بعض ذوی الارحام کس کی طرف سے ہیں؟ مرنے والے کی ماں کی طرف سے۔ یعنی بعض ان میں سے پُھپھی یا چاچا کی اولاد ہیں اور بعض ان میں سے ماموں یا خالہ تو دونوں جہت کے آ گئے تو جہتیں الگ الگ ہو گئیں، اب کس کو ترجیح ہوگی؟ تو کہتے ہیں ولکنّ اختلاف حیّز قرابتہم اگر وہ برابر ہوں قرب میں لیکن ان کی جہتِ قرابت مختلف ہو، یعنی کچھ باپ کی جانب سے ہیں اور کچھ ماں کی جانب سے، فلا اعتبار لقوۃِ القرابتی تو پھر کوئی اعتبار نہیں ہے قوتِ قرابت کا ولا لولد العصبتی اور نہ عصبہ کی اولاد کو فی ظاہرِ الرّوایۃ کس میں؟ ظاہرِ روایت میں۔ صورتِ یہ کچھ ذوی الارحام ہیں ماں کی جانب، مثلاً ایک ہے ماں کی جانب اور ایک کس کی جانب ہے؟ باپ کی جانب میں۔ یعنی پُھپھی یا چاچا کی اولاد ہے اور ایک طرف ماموں یا خالہ کی اولاد ہے۔ تو اب اگر یہ ضابطہ تو پہلے بیان ہو چکا جو قریب والا ہوگا وہ اولی ہوگا، لیکن اگر دونوں برابر ہیں یعنی باپ کی طرف جو ہے، وہ بھی پہلی پُھشت میں ہے اور جو ماں کی جانب میں ہے وہ بھی کس میں سے ہے؟ پہلی پُھشت میں سے۔ لیکن باپ کی جانب مثلاً حقیقی پُھپھی کا بیٹا ہے، کس کا؟ جو تو جو ہے سبب کی طرف، حقیقی پُھپھی کا بیٹا اور دوسری طرف ماں کی طرف کیا ہے؟ اخیافی خالہ کا بیٹا ہے۔ ایک طرف ہے حقیقی پُھپھی کا بیٹا اور دوسری طرف ہے اخیافی خالہ کا بیٹا، تو اب کیا جہتِ قوتِ قرابت کا اعتبار کیا جائے گا؟ چونکہ حقیقی پُھپھی کو قوتِ قرابت حاصل ہے، جبکہ اخیافی خالہ میں اس کو وہ قوتِ قرابت حاصل نہیں، تو کیا حقیقی پُھپھی کے بیٹے کو سارا مال دے دیں گے اور اخیافی خالہ کے بیٹے کو کچھ نہیں ملے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، جب جہت الگ ہو گئی، ایک باپ کی جانب اور ایک ماں کی جانب تو پھر قوتِ قرابت کو نہیں دیکھا جائے گا۔ ایک ہی جہت میں ہوتے تو پھر کس کو ہم دیکھتے؟ قوتِ قرابت کو۔ اور اگر قوتِ قرابت میں برابر ہوتے تھے، پھر ہم کیا چیز دیکھتے تھے؟ وہی ان میں سے عصبہ کی اولاد تو نہیں، عصبہ کی اولاد ہونا اس کے بعد آتا تھا، عصبہ کی اولاد۔ تو پھر یاد رکھیے نہ قوتِ قر، جب جہتیں الگ الگ ہوں تو نہ قوتِ قرابت کی وجہ سے ترجیح ہوگی اور نہ عصبہ کی اولاد ہونے کی وجہ سے ترجیح ہوگی۔ مثلاً باپ کی طرف سے جو ذو رحِم ہے وہ کون ہے؟ علاتی چاچا کی بیٹی۔ علاتی چاچا کی اور دوسری طرف ہے علاتی ماموں کی بیٹی یا بیٹا، ایک طرف کون؟ علاتی چاچا کی بیٹی۔ اب دیکھیے یہ ولد العصبہ ہے اور دوسری طرف ہے علاتی ماموں کی بیٹی، وہ کیا ہے؟ ذو رحِم کی اولاد ہے، وہ تو نہ وارث کی اولاد، نہ عصبہ کی اولاد تو کیا مال سارا علاتی چاچا کی بیٹی کو ملے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! جب جہت الگ ہے تو ولد العصبہ ہونے کی وجہ سے بھی ترجیح نہیں ہوگی اور قوتِ قرابت کی وجہ سے بھی ترجیح نہیں ہو گی۔ ہاں قرب کی وجہ سے ترجیح ہوگی۔ اور وہ ضابطہ شروع میں بیان ہو چکا اس کو دوبارہ یار ذکر ہی نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں وإن استووا فی القربِ اور اگر وہ قرب میں برابر ہوں ولکنّ اختلاف حیّز قرابتہم لیکن مختلف ہوں ان کی جہتِ قرابت، فلا اعتبار لقوۃِ القرابتی تو پھر کوئی اعتبار نہیں ہے قوتِ قرابت کا ولا لولد العصبتی اور نہ عصبہ کی اولاد ہونے کا فی ظاہرِ الرّوایتی کس میں؟ ظاہرِ روایت میں۔ قیاساً علی عمّۃ لأبٍ وّأمٍ مع کونِہا ذاتِ القرابتینّ وولدِ الوارث من الجہتینّ ہی لیست بأولٰی من الخالۃ لأبٍ أو لأمٍ۔ بھئی ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کی ایک حقیقی پُھپھی بھی زندہ ہے، باقی رشتہ دار کوئی نہیں، ایک حقیقی پُھپھی ہے اور یہ باپ کی طرف سے ہے اور ماں کی طرف سے علاتی خالہ یا اخیافی خالہ ان دو میں سے کوئی ایک زندہ ہے، جو بھی آپ صورت بنا لیں ایک ہی صورت بنے، ایک ہی مسئلہ ہوگا۔ کون کون زندہ ہیں مرنے والے کے؟ حقیقی پُھپھی اور علاتی خالہ۔ تو یاد رکھیے، اس صورت میں حقیقی پُھپھی کو علاتی یا اخیافی خالہ پر ترجیح نہیں ہوگی کہ اس کو سارا مال دے دیا جائے اور وہ خالہ کو کچھ نہ دیا جائے، کیونکہ دونوں کی جہت الگ الگ ہے بھئی۔ حالانکہ حقیقی پُھپھی کو دیکھا جائے تو وہ، وہ میّت کے دادا کی بھی بیٹی اور میّت کی دادی کی بھی بیٹی، تو دو قرابتوں والی ہے، دو قرابتوں والی اور نیز دیکھا جائے تو دادا بھی وارث دادی بھی وارث، دادا عصبات میں سے، دادی کس میں سے؟ ذوی الفروض میں سے، تو یہ حقیقی پُھپھی، یہ عصبہ کی بھی اولاد ہوئی اور ذوی الفروض کی بھی اولاد ہوئی، تو دونوں اس کو قرابت بھی دو جہت سے اور وہ وارثہ کی بھی اولاد دونوں جہت سے، پھر بھی کس کو ترجیح نہیں ہے کس پر؟ علاتی خالہ یا اخیافی خالہ پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں قیاساً علی عمّۃ لأبٍ وّأمٍ قیاس کرتے ہوئے ماں باپ شریک پُھپھی پر، یعنی حقیقی پُھپھی پر مع کونِہا ذاتِ القرابتینّ با وجود اس کے یہ، یہ با وجود اس کے دو قرابت والے ہونے کے، وولدِ الوارث من الجہتین ہی لیسَت بأولٰی من الخالۃ لأبٍ أو لأمٍ۔ بھئی ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کی ایک حقیقی پُھپھی بھی زندہ ہے، باقی رشتہ دار کوئی نہیں، ایک حقیقی پُھپھی ہے اور یہ باپ کی طرف سے ہے اور ماں کی طرف سے علاتی خالہ یا اخیافی خالہ ان دو میں سے کوئی ایک زندہ ہے، جو بھی آپ صورت بنا لیں ایک کی صورت بنے، ایک ہی مسئلہ ہوگا۔ کون کون زندہ ہیں مرنے والے کے؟ حقیقی پُھپھی اور علاتی خالہ۔ تو یاد رکھیے اس صورت میں حقیقی پُھپھی کو علاتی یا اخیافی خالہ پر ترجیح نہیں ہوگی کہ اس کو سارا مال دے دیا جائے اور وہ خالہ کو کچھ نہ دیا جائے، کیونکہ دونوں کی جہت الگ الگ ہے بھئی۔ حالانکہ حقیقی پُھپھی کو دیکھا جائے تو وہ، وہ مّیت کے دادا کی بھی بیٹی اور مّیت کی دادی کی بھی بیٹی، تو دو قرابتوں والی ہے، دو قرابتوں والی اور نیز دیکھا جائے تو دادا بھی وارث دادی بھی وارث، دادا عصبات میں سے، دادی کس میں سے؟ ذویل فروض میں سے تو یہ حقیقی پُھپھی یہ عصبہ کی بھی اولاد ہوئی اور ذویل فروض کی بھی اولاد ہوئی۔ تو دونوں اس کو قرابت بھی دو جہت سے اور وہ وارثہ کی بھی اولاد دونوں جہت سے، پھر بھی کس کو ترجیح نہیں ہے کس پر؟ علاتی خالہ یا اخیافی خالہ پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں قیاساً علی عمّۃ لأبٍ وّمٍّ قیاسات کرتے ہوئے ما باپ شریک پُھپھی پر (یعنی حقیقی پُھپھی پر) مع کونِہا ذاتِ القرابتینی با وجود اس کے یہ، یہ با وجود اس کے دو قرابت والے ہونے کے، وولد الوارث من الجہتینّ ہی لیسَت بأولٰی من الخالق لأبنّ او لأمینّ۔ لاکنّ الثُّلُثینّ لمن یُدلی بقرابۃ الأبی لیکن دو ثلث اس کے لیے ہوں گے جو منسوب ہے بقرابۃ الأبی کس کی قرابت کے ذریعے؟ باپ کی قرابت کے ذریعے۔ بھئی پھر تقسیم کس طرح کریں گے؟ اب وہ طریقہ بتا رہے ہیں۔ ایک طرف کون ہے؟ حقیقی پُھپھی، دوسری طرف کون ہے؟ علاتی یا اخیافی خالہ یا کوئی بھی خالہ ہے۔ تو دو، دونوں جہت کے رشتے، ذوی الارحام موجود ہیں اور برابر درجے کے ہیں۔ کہتے ہیں مال کے تین حصے کیے جائیں گے، دو حصے باپ والی جانب کے ذوی الارحام کو دیں گے اور ایک حصہ کس کو دیں گے؟ ماں کی جانب والے ذوی الارحام کو۔ باپ یعنی باپ والا حصہ باپ کی طرف والوں کو دیں گے اور ماں کا حصہ ماں کی طرف والوں کو دیں گے۔ بھئی باپ کا حصہ دو کس طرح؟ ماں کا حصہ ایک کس طرح؟ صورت مثلاً اگر مرنے والے کے صرف والدین زندہ ہوتے تو مال کس طرح تقسیم کرتے؟ ماں کو کتنا ملتا؟ ثُلُثُ الکُلِ، ایک تہائی، تیسرا حصہ ماں کو مل جاتا اور ماں بقیہ والد کو، عصبہ ہونے کی وجہ سے مل جاتا، یعنی دو ثلث، تو وہ دو ثلث باپ کا حق ہے اور ایک ثلث کس کا حق؟ ماں کا حق ہے تو وہی ان کی طرف سے جو ذوی الارحام ہیں ان کو بھی وہی حصہ ملے گا۔ کہتے ہیں لاکنّ الثُّلُثینّ لمن یُدلی بقرابۃ الأبی لیکن دو ثلث جو ہیں اس کے، اس ذو رحِم کے لیے ہوں گے یُدلی بقرابۃ الأبی جو منسوب ہے باپ کی قرابت کے ذریعے، فیُعتبر فیہم قوۃُ القرابتی پھر ان میں اعتبار کیا جائے گا قوتِ قرابت کا۔ پھر کیا کیا جائے گا؟ بھئی ماں کی طرف کے بھی کچھ رشتے دار ہیں، باپ کی طرف کے بھی کچھ ذوی الارحام ہیں۔ تو کہتے ہیں دونوں طرف والوں کو دیں گے، لیکن باپ کا حصہ کتنا ہوگا؟ باپ کی طرف والوں کا؟ دو ثلث اور ماں کی طرف والوں کا حصہ کتنا ہوگا؟ ایک ثلث، تو باپ کی طرف والوں کو دو ثلث دیں گے، لیکن ان میں جب ان کو مال دینے لگیں، تو ان میں پھر قوتِ قرابت کو دیکھ لینا۔ جو قوتِ قرابت والا ہوگا، وہ اولی ہوگا، باقیوں کو مال نہیں ملے گا، یعنی حقیقی پُھپھی بھی موجود، علاتی پُھپھی بھی موجود، اخیافی پُھپھی بھی موجود، تو باپ کا حصہ دو ثلث اس طرف والوں کو دیں گے، لیکن ان میں سے پھر صرف کس کو ملے گا؟ صرف حقیقی پُھپھی کو ملے گا، علاتی یا اخیافی پُھپھی کو نہیں ملے گا۔ اور اسی طرح ماں کے ایک ثلث حصہ ہے وہ وہاں علاتی خالہ بھی ہے، حقیقی خالہ بھی ہے، اخیافی خالہ بھی ہے، تو ماں کا ایک ثلث ان کو ملے گا، لیکن ان میں آپس میں پھر ہم نے کس چیز کا لحاظ رکھنا ہے؟ قوتِ قرابت کا، تو ان میں سے صرف کس کو مال دیں گے؟ حقیقی خالہ کو تو دیں گے، اس کے مقابلے میں جو علاتی اور اخیافی خالہ ہیں ان کو نہیں دیں گے بھئی۔ تو یہ معنی ہے کہ دو ثلث اس ان کی اس ذو رحِم کے لیے، ان کے لیے ہوں گے جو منسوب ہیں باپ کی قرابت کے ذریعے فیُعتبر فیہم قوۃُ القرابتی تو پھر اعتبار کیا جائے گا ان میں قوتِ قرابت کا، ثمّ ولد العصبتی پھر کس چیز کا اعتبار کیا جائے گا؟ ولد العصبہ ہونے کا، والسُّلُث لِمَنْ یُدلّی بقرابۃ الأمّ اور ایک تہائی مال یعنی صرف ثُلُثُ، لِمَنْ یُدلّی بقرابۃ الأمّ وہ جو منسوب ہے ماں کی قرابت کے ذریعے، و تُعتبر فیہم قوۃُ القرابتی اور ان میں پھر کس چیز کا اعتبار کیا جائے گا؟ ماں کی طرف سے جو ہیں، ان میں قوتِ قرابت کا اعتبار کیا جائے گا بھئی۔ یہاں ولد العصبہ ہونے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا جو ماں کی طرف کے رشتے دار ہیں، یہ کیوں نہیں ذکر کیا؟ کیونکہ اس جانب کوئی عصبہ ہے ہی نہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی ہذا ہو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔